موجودہ حالات کو کس طرح دیکھا جائے، کیسے سمجھا جائے؟

Updated: April 24, 2021, 3:43 PM IST | Shahid Latif/ Saeed Ahmed Khan/ Mukhtar Adeel | Mumbai

جن حالات میں ہم شب و روز گزار رہے ہیں وہ قطعی غیر معمولی ہیں ۔ نہ تو اتنی اموات پہلے کبھی دیکھی گئی تھیں نہ ہی ایسی افراتفری اور انتشار کا مشاہدہ کیا گیا تھا۔ لاک ڈاؤن بذات خود پہلا تجربہ ہے جو درمیان کے چند ہفتوں کے تعطل کے بعد ملک کے متعدد حصوں میں کسی نہ کسی انداز میں دوبارہ نافذ ہے۔ اس کی وجہ سے فکر معاش کا دوچند ہوجانا بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ایسے میں بے چینی اور گھبراہٹ یا پھر محسوس اور غیر محسوس طریقے سے مایوسی کا شکار ہوجانا فطری امر ہے۔

Symbolic Image. Photo: INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

ان حالات میں ہم سوچیں کہ کتنے حقوق ہیں جو ہم ادا نہیں کرتے
 مولانا نذرالحفیظ ندوی، دارالعلوم ندوۃ العلماء 
یہ جو حالات پیدا ہوئے ہیں وہ پہلی مرتبہ نہیں ہوئے ہیں ۔ یہ بلا ہے۔ تنبیہ الغافلین ہے جو ہمیں غفلت سے بیدار کرنے کیلئے ہے، عبرت کیلئے ہے۔ تاریخ میں بہت سے واقعات پیش آئے ہیں اور بہت عرصے تک رہے ہیں ۔ ایسا نہیں کہ یہ پہلی بار ہوا ہے۔ پہلے بھی لوگوں نے اس کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ یہ امتحان ہے ایک مومن کیلئے جو سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس نظام کو چلا رہا ہے اور اس کی مرضی کے بغیر نہ تو پتہ ّہل سکتا ہے نہ ہی ذرہ اُڑ سکتا ہے۔ اللہ نے جو نظام مقدر کیا ہے وہ اس کے قبضے میں ہے۔ گھوڑے کی باگ ہاتھ سے چھوٹ گئی ہے ایسا نہیں ہے۔ یہ نظام اللہ کے قبضے میں ہے اور اللہ چاہتا ہے کہ بندہ نصیحت لے۔ کلام پاک میں آتا ہے کہ (ترجمہ) ہم انسانوں کو تھوڑا سا عذاب چکھاتے ہیں تاکہ اُنہیں بڑے عذاب سے محفوظ رکھ سکیں ۔ انسان غافل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اُس کو پیدا کیا وہ جانتا ہے کہ انسان کیلئے بہت سی چیزیں نفع بخش ہوسکتی ہیں اگر وہ نصیحت حاصل کرے۔ اللہ تعالیٰ انسانوں سے مایوس نہیں ہے۔ وہ طرح طرح کے واقعات سامنے لاتا ہے تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں ۔ ہمارے یہاں جو اِس وقت صورتحال ہے، آپ چونکہ میڈیا سے وابستہ ہیں اس لئے بہتر طور پر جانتے ہیں کہ ہمارا قومی میڈیا اکثر منفی باتیں پیش کرتا ہے۔ مسلمان ایک ذمہ دار اُمت ہیں ، ان کا منصب دُنیا کے محتسب کا ہے چنانچہ مسلمان دیکھتا ہے کہ کیا چیز بُری ہے او رکیا چیز اچھی ہے، اسی کو سامنے رکھ کر وہ حالات کو درست کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ ذمہ داری اس کی ہے۔ ان حالات میں ہر فرد اپنی ذمہ داری کو سمجھے کہ حالات کو بدلنے کیلئے وہ اپنی ذمہ داری کو کتنے احسن طریقے سے ادا کرسکتا ہے۔ کس طرح تعمیری انداز اختیار کرسکتا ہے۔  حدیث شریف میں آتا ہے کہ اگر قیامت آگئی ہو اور تم میں سے کسی کے پاس کوئی پودا ہو تو وہ انتظار نہ کرے، اسے لگا دے۔ اس کے ذریعہ یہ پیغام دیا گیا ہے کہ اپنے کسی عمل کا فائدہ آپ کو نہیں تو آپ کے بعد کی نسلوں کو ملے گا۔ اس طرح اسلام ہمیشہ مثبت پیغام دیتا آیا ہے، منفی نہیں ۔ میڈیا ہمیشہ منفی رُخ اختیار کرتا ہے اور اتنا پروپیگنڈہ کرتا ہے تاکہ مسلمان جو نفسیاتی طور پر کافی حساس ہے وہ ٹوٹ جائے اور مایوسی کا شکار ہوجائے۔ مسلمانوں کی تاریخ گواہے کہ کیسے بھی سخت حالات درپیش ہوئے، انہوں نے کبھی ہمت نہیں ہاری، اللہ سے کبھی مایوس نہیں ہوئے۔انہوں نے رجوع کیا ہے اپنے خالق سے، اس سے دُعائیں مانگی ہیں ۔ یہ جو واقعات ہوتے ہیں وہ انسان کے اعمال کا نتیجہ ہوتے ہیں ۔ کلام پاک میں ہے (ترجمہ) روئے زمین پر جو کچھ فساد ہورہا ہے وہ سب انسان کے کرتوت کا نتیجہ ہے۔ لیکن اللہ تمہارے کرتوت کو نظر انداز کرتا رہتا ہے۔ اب انسان بالخصوص مسلمان سوچے کہ وہ کیا کررہا ہے، کیا وہ اپنے اعمال کی درستگی کیلئے کوشاں ہے؟ آج دُنیا میں کیا نہیں ہورہا ہے، دھوکہ بازی، جھوٹ، حق تلفی، کیا یہ ساری چیزیں معاف کردی جائینگی؟ ہم کتنی فضول خرچی کرتے ہیں ، شادی بیاہ کے معاملات دیکھ لیجئے، چالیس جوڑی کپڑا، چالیس تولہ سونا، یہ مسلمانوں کا حال ہے، تو کیا اللہ ناراض نہیں ہوگا؟ کیا اللہ کی طرف سے عذاب نہیں آئیگا؟ آج کتنے حقوق ہیں جو غصب کئے جارہے ہیں ۔ ہر طرح کی فضول خرچی سے کسی نہ کسی کا حق مارا جاتا ہے۔ بیٹیوں کا حق نہیں دیا جاتا، بہنوں کا حق نہیں دیا جاتا بلکہ کہا جاتا ہے کہ وہ لینا نہیں چاہتیں ۔ ہم کو خود اپنا جائزہ لینا چاہئے کہ ہم کتنے پانی میں ہیں ، ہم سے کیا کیا گناہ سرزد ہورہے ہیں ۔ ہم یہ سب نہیں دیکھتے بلکہ شکایت کرتے ہیں کہ اللہ ہم پر رحم نہیں کررہا ہے، ہماری جانب التفات نہیں ہے اس کا۔ ہم اپنا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ کتنے معاملات ہیں جن میں ہم اپنا محاسبہ نہیں کرتے بلکہ دوسروں پر الزام دھر دیتے ہیں ۔ غیر مسلموں کے تعلق سے ہم سوچ لیتے ہیں کہ وہ ہمارے دشمن ہیں ۔ کیا ہم نے ان سے برادرانہ تعلقا ت استوار رکھنے میں پہل کی اور اس کو اپنا شعار بنایا؟ یہ سارے سوالات ہم سے کئے جائینگے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کہے گا کہ اے بندے میں بھوکا تھا تو نے مجھ کو کھانا نہیں کھلایا۔ بندہ کہے گا آپ تو سب کو کھلاتے ہیں ، پہناتے ہیں ! اللہ تعالیٰ کہے گا کہ میرا فلاں بندہ بھوکا تھا اگر تم اسے کھلاتے تو وہاں مجھے پاتے۔ ہم یہ ذمہ داریاں کہاں ادا کررہے ہیں ؟ ہم صرف اپنی ضرورتوں کیلئے دوڑ رہے ہیں !  یہ ہوا ایک مسئلہ۔ دوسرا یہ ہے کہ ہمارے معاشرہ میں تعلیم تو ہے مگر تربیت کا کام ختم ہوگیا ہے۔ تعلیم کا معاملہ موبائل کے حوالے کردیا گیا ہے۔ ہم تعلیم اور تربیت کا فرق نہیں سمجھتے۔ تعلیم یہ ہے کہ ہم بچے کو کہیں کہ یہ دُعا پڑھو کھانے کے وقت اور تربیت یہ ہے کہ بچہ دُعا پڑھنا بھول جائے تو اسے یاد دلائیں کہ تم نے دُعا نہیں پڑھی۔ آپ نے سنا ہے ’’بستی بسنا کھیل نہیں ہے، بستے بستے بستی ہے‘‘ بالکل اسی طرح انسان کی تعمیر میں وقت لگتا ہے۔ یہ پتہ ّ ماری کا کام ہے۔ ماں باپ نے اس فرض کو ترک کردیا ہے۔ آج بچہ ہمارے سامنے بیٹھا ہے اور موبائل سے کھیل رہا ہے۔ بظاہر وہ ہمارے ساتھ ہے مگر حقیقتاً ہمارے ساتھ نہیں ہے۔ وہ کسی اور دیار کی سیر کررہا ہے اور وہاں سے سیکھ رہا ہے۔ یہ اور ایسی غفلتیں ہمارے روزمرہ کا حصہ بن چکی ہیں اور ایسی ہی باتوں کی وجہ سے یہ عذاب آیا ہے۔ اب ہم سوچیں کہ کتنے حقوق ہیں جو ہم ادا نہیں کررہے ہیں ۔ کیا اس کی پکڑ نہیں ہوگی۔ کہنے کا مطلب یہ کہ مسلمان جو خیر اُمت بناکر بھیجا گیا وہ اپنے فرائض سے غافل ہوگیا ہے۔  رہا معاملہ اموات کا، آپ نے سوال کیا کہ اتنی ساری اموات..... تو مَیں مولانا زکریا صاحب کی آپ بیتی کا ذکر کروں گا جس میں انہوں نے لکھا کہ ان کے والد بتاتے تھے سو سال پہلے سہارنپور میں ایک ایک گھر میں تین تین موتیں ہوئیں ۔ تین چار آدمی اس کے لئے مخصوص ہوگئے تھے جن کا کام ہی میت کو نہلانا دھلانا اور اس کی تجہیز و تکفین کا انتظام کرنا ہوتا تھا۔ اب چونکہ یہ میڈیا کا دور ہے اس لئے ایک ایک موت مشتہر ہوتی ہے اور روزانہ کے اعدادوشمار سامنے آجاتے ہیں ۔ اس وہاٹس ایپ کے دور میں کوئی انسان چھینکتا بھی ہے تو خبر بن جاتی ہے۔ بہرکیف، ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہئے اللہ کی ذات سے، وہ کارساز ہے، وہ بندوں کی بھلائی چاہتا ہے۔ ہمیں اپنی فکر کرنی چاہئے، اپنا محاسبہ کرنا چاہئے اور یہ دیکھنا چاہئے کہ ہمارا قدم بھلائی کی جانب اور بھلائی کیلئے اُٹھ رہا ہے یا نہیں ،اپنے گھرمیں ،اپنے آس پاس کی دُنیا میں اور ذرائع ابلاغ کا سہارا لے کر، جہاں جہاں تک ہماری رسائی ممکن ہوسکتی ہے۔

بے احتیاطی سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کریں
مولانا قاری سید محمد عثمان منصور پوری
 بیماری تو بیماری ہے اور یہ محقق ہے کہ یہ بیماری ہے، اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ ڈاکٹروں کی ٹیمیں اور انتظامیہ کے اہلکار اس کی روک تھام کے لئے مسلسل کوشاں ہیں ۔ دارالعلوم دیوبندکی جانب سے بھی بار بار اعلان کیا جارہا ہے۔کس شخص پر کس طرح سے اس بیماری کے اثرات ہوتے ہیں یہ تو ڈاکٹر بتا اور سمجھا رہے ہیں ۔ بیماری سے بچنے اور علاج کا حکم دیا گیا ہے۔ اس تعلق سے عالمی سطح پر کوششیں کی جارہی ہیں ، حرمین شریفین میں احتیاط برتی جارہی ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ اسے سنجیدگی سے لینا چاہئے۔ بے احتیاطی سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہئے۔ ویسے جو تکالیف یا مشکلات آتی ہیں وہ ہماری بدعملی کا نتیجہ ہوتی ہیں ۔ قرآن کریم میں اللہ رب العزت نے فرمایا ہے کہ ’یہ تمہارے ہاتھوں کی کمائی ہے ۔‘اس وقت رمضان المبارک کا مہینہ چل رہا ہے، یہ اعمال کو درست کرنے کا مہینہ ہے۔اس مہینے میں درود پاک کی کثرت اور استغفار کی کثرت کی جائے۔ اسپتالوں میں ‌مریضوں کی عیادت کی جائے، غرباء اور مساکین اور تمام ضرورتمندوں کی خبرگیری کی جائے اور اللہ رب العزت سے دعا کی جائے کہ وہ اپنے فضل وکرم سے اس بیماری کو دور فرمادے۔

بلاتحقیق ہرگز اپنا موقف مت قائم کیجئے
مولانا محمد ادریس عقیل ملی قاسمی، شیخ الحدیث معہد ملت، مالیگاؤں
موجودہ حالات میں ممتاز اردو اخبار انقلاب نے ملکی سطح پر علمائے کرام سے رابطہ کرکے نئے سرے سے اس عالمی وبا پر غوروفکر کا جو موقع ہمیں دیا ہے یہ واقعی ایک بہت اہم اور مثبت پیش رفت ہے،نازک ترین وقت میں حزم و احتیاط کے ساتھ صحیح سمت میں اٹھایا گیا ایک قدم صدیوں کے سفر پر بھاری ثابت ہوتا ہے ۔کورونا وائرس کے بارے میں ایک لمبی مدت گزر جانے کے باوجود لوگ افراط و تفریط کا شکار ہیں ، کچھ لوگ اسے عالمی سازش کا حصہ قرار دیتے ہیں ،جبکہ دیگر کی سوچ یہ ہے کہ یہ ایک عام سی سردی زکام جیسی بیماری ہے، یہ دونوں ہی سوچیں غلط ہیں ، اس کے علاج و معالجہ کے طریقے ، اسباب اور تدارک وغیرہ سے اختلاف رائے ممکن ہے، لیکن اسے نری سازش قرار دے دینا یا اس کے مہلک وبا ہونے کا انکار کر دینا دانشمندی نہیں ،ملکی ہی نہیں عالمی سطح پر بھی مخلص مسلمان اطباءو حکماءکا بھی اس پر اتفاق ہے کہ یہ ایک انتہائی مہلک اور جان لیوا وائرس ہے ، اس کا شکار ملکی یا عالمی سطح پر کوئی مخصوص طبقہ اور جماعت یا کسی خاص مذہب کے لوگ نہیں ہوئے ہیں ۔سبھی چلےجا رہے ہیں کشاں کشاں کوئی قید پیر و جواں نہیں ۔ اس کی دوسری لہر نے جس شدت کے ساتھ لوگوں کو اپنا شکار بنایا ہے اس کے پیش نظر میرا مخلصانہ مشورہ یہ ہے کہ خدا کے لئے سوشل میڈیا پر چلنے والی کسی بھی تحریر کو بلاتحقیق ہرگز اپنا موقف مت قائم کیجئے، بند کمرے میں بیٹھ کر حالات کا تجزیہ نہ توآسان ہوتا اور نہ ہی درست ، بلاتحقیق قائم کی گئی رائے کی کوئی بنیاد نہیں ہوتی ،شفا خانوں کے باہر جگہ نہ ملنے کی وجہ سے دم توڑتے مریضوں سے پوچھئے، وہ آپ کو حقیقت حال کا پتہ دیں گے عربی زبان کی بہترین مثل ہے التجربة أكبر خبيریعنی تجربہ سب سے بڑا خبردار کرنے والا ہوتا ہے، آکسیجن کی قلت کی وجہ سےبیتاب تڑپتے لوگوں سے پوچھئے اگر یہ بیماری نہیں ہے تو وہ کیوں تڑپ رہے ہیں ؟ خدا کے لئے جس راہ کا کوئی علم آپ کو نہیں ہے اس میں دخل بھی مت دیجئے اور عوام کو کسی قسم کے دھوکے میں مبتلا مت کیجئے، ہمارے غلط مشوروں سے کسی گھر کا چراغ بجھ جائے یہ بہت بڑی بدبختی ہے، کورونا وائرس کے مقابلے میں غیر معتدل تبصروں ، حد سے زیادہ بڑھی ہوئی متشککانہ طبیعت اور نامناسب رویوں نے بھی بڑی رکاوٹ پیدا کی ہے۔ طب اور میڈیکل سائنس کا علم اگر باضابطہ ہم نے حاصل نہیں کیا ہے تو ماہرین کے مقابلے میں ہماری رائےکی کوئی حیثیت نہیں ، اور ایسی عالمی وبا کےبارے میں ایسا غیر محتاط رویہ قطعاً غیر درست ہے۔ ناواقفیت کے ساتھ شکوک و شبہات پھیلانا، علاج و معالجہ کے بارے میں یکسر نابلد ہونے کے باوجود غلط سلط رائے دینا، انسانیت پر ظلم اور دین و شریعت کی نظر میں حرام ہے۔ سرکار ؐدوعالم نے ناواقف ڈاکٹروں کو جب خبردار کیاہے کہ بغیر صحیح جانکاری کے کسی کا علاج نہیں کرنا چاہیے:مَنْ تَطَبَّبَ وَلاَ یُعْلَمُ مِنْہُ طِبٌّ فَہُوَ ضَامِنٌ طب کو اچھی طرح نہ جاننے کے باوجود جس نے علاج کیا اوراس سلسلہ میں وہ متعارف نہیں تھا تو وہ کسی بھی نقصان کا ضامن ہوگا۔ اس لئے ان معاملات میں بھی احتیاط لازم ہے۔

ذمہ داری کا احساس ضروری ہے
مفتی محمد نظام الدین رضوی، جامعہ اشرفیہ، مبارکپور، اعظم گڑھ
کورونا وائرس کی دوسری لہر، پہلی لہر سے زیادہ خطرناک اور مہلک ثابت ہو رہی ہے۔ حکومت کے پاس آخری تدبیر لاک ڈاؤن ہے، اگر کورونا کی شدّت میں کمی نہیں آئی تو کبھی بھی ہمیں لاک ڈاؤن کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس سے اس موذی وائرس کی کچھ روک تھام تو ہو جائے گی مگر ساتھ ہی پورا نظامِ حیات مفلوج ہو کر رہ جائے گا اس لیے ہمیں آگے بڑھ کر مکمل احساس ذمہ داری کے ساتھ مریضوں کے علاج اور اس سے تحفظ کے بارے میں مناسب تدابیر اپنانا چاہئے، مثلاً:(۱) سب لوگ اللہ کی نافرمانی سے باز آکر اپنے گناہوں سے توبہ کریں ، دوسروں کا کوئی حق اپنے ذمہ ہو تو اسے حسب استطاعت جلد ادا کریں ، کسی کی ایذارسانی کی ہوتو اس سے معافی معانگیں کیوں کہ اس طرح کی بلائیں اور وبائیں عموماً ظلم و زیادتی کی کوکھ سے جنم لیتی ہیں ، قرآن حکیم میں ہے:’’تمہیں جو مصیبت پہنچی وہ تمہارے کرتوت کی وجہ سے ہے اور اللہ تمہارے بہت سے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔ سورہ شعراء۔ (۲) اللہ اپنے بہت سے نیک بندوں کا اس طرح کے امراض اور بلاؤں کے ذریعہ امتحان بھی لیتا ہے چنانچہ قرآن حکیم میں اس کا ارشاد ہے:’’اور ہم تمہیں ضرور آزمائیں گے کچھ خوف سے، کچھ بھوک سے، اور کچھ مال اور جان اور پھلوں کو کم کر کے، تو صبر کرنے والوں کو بشارت دے دیجیے۔‘‘ (سورہ بقرہ،۲، آیت: ۱۵۶)اس کا تقاضا یہ ہے کہ اس آزمائش پر صبر وشکر سے کام لیا جائے، اللہ کا وعدہ ہے ’’اگر تم لوگ شکر کروگے تو میں تمہیں زیادہ عطا کروں گا۔‘‘(۳) روزانہ کم یا زیادہ حسب وسعت اللہ کی راہ میں صدقہ کیجیے کہ صدقہ سے بلائیں دور ہوتی ہیں ۔ کورونا کے محتاج مریضوں کی امداد بھی صدقہ ہی کا حصہ ہے۔(۴) کورونا وائرس کا پہلا مسکن ناک کا اندرونی حصہ اور گلا ہے، کچھ دنوں کے بعد یہ پھیپھڑے تک پہنچ کر سانس کی تنگی کا سبب بنتا ہے، پھر دم گھٹنے لگتا ہے، اب جس شخص کی ناک یا گلے میں یہ وائرس ہوتا ہے اس کی چھینک اور کھانسی کے جھٹکے سے وہ وائرس فضا میں آجاتا ہے اور ہوا سے منتقل ہو کر قریبی اشخاص کی ناک اور گلے تک پہنچ کر کاروائی شروع کر دیتا ہے۔ اس سے تحفظ اور بچاؤ کا ذریعہ یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ اوقات اپنے گھروں میں گزاریں تاکہ وائرس آلود فضاؤں سے دور رہ سکیں ، یا باہر نکلنے کی حاجت ہو تو اچھا ماسک پہن کر نکلیں تاکہ ماسک وائرس کو اندر آنے سے روک سکے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عنقریب بلائیں ظاہر ہوں گی، ان میں بیٹھنے والا کھڑے رہنے والے سے بہتر ہوگا، اور کھڑا رہنے والا چلنے والے سے بہتر ہوگا، اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا۔ جو ان بلاؤں کو دیکھے گا وہ بلائیں خود اُسے دیکھ لیں گی۔ (یعنی اسے اپنے لپیٹ میں لے لیں گی) اور جس شخص کو اُن سے پناہ کی جگہ مل جائے وہ پناہ حاصل کر لے۔ صحیح مسلم، ج:۲، ص:۳۸۹، کتاب الفتن

غلط اور گمراہ کن پروپیگنڈے سے بچیں
مولاناکلب جواد، ممتاز شیعہ عالم دین 
اس وقت مسلمانوں کو صبر وتحمل سے کام لینا ہے اور بیان بازی سے بچنا ہے کیونکہ بیان بازی سے ان کو طاقت حاصل ہوگی اور مضبوطی ملے گی۔اس کے باوجود کچھ لوگ ہیں کہ بول بول کر ان کو طاقت دے رہے ہیں ۔ یہ کہنا کہ کورونا کوئی چیز نہیں ہے یا یہ کہ حکومت نے پھیلایا ہے، یہ غلط اور گمراہ کن پروپیگنڈہ ہے۔ کیا سعودی عرب ، ایران اور دبئی میں پابندیاں نہیں ہیں ؟ وہاں لوگ نہیں مررہے ہیں ؟ وہاں کس نے پروپیگنڈہ کیا ہے۔ ایسا نہیں ہے بلکہ کچھ ایجنٹ ہیں جو ایسی باتیں کررہے ہیں ؟ ایسے لوگ حکومت کے ایجنٹ ہیں ۔ کتنے ہمارے اعزہ کورونا سے متاثر ہیں ۔ عالم یہ ہے کہ انتم سنسکار کے لئے لاشیں ویٹنگ میں رکھی ہیں ۔ اس لئے اس کی حقیقت کو سمجھیں اور ایسے دشمنوں کو پہچانیں جو مسلمانوں سے ہمدردی کی آڑ میں انہیں دھوکہ دے رہے ہیں ۔ ویسے بھی باہر سے زیادہ اندر کے دشمن کو پہچاننا اہم ہے۔موجودہ حالات میں ہمیں پھونک پھونک کر قدم رکھنے کی ضرورت ہے۔اس کے علاوہ یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ اگر کوئی کسی علاقے میں کورونا گائیڈ لائن کی خلاف ورزی کررہا ہے تو وہ ہمارے لئے نظیر یا دلیل نہیں کہ ہم بھی آگ میں کود پڑیں بلکہ اپنی حفاظت کریں اور تمام احتیاطی اقدامات پر سختی سے عمل کریں ، یہی اس نازک اور مشکل وقت کا تقاضہ ہے اور دانشمندی بھی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK