محو حیرت ہوں کہ حیرت بھی فنا ہونے کو ہے

Updated: October 31, 2021, 11:47 AM IST | Shahid Latif | Mumbai

تکنالوجی انسانی زندگی کو ایسی ایسی سہولتیں بہم پہنچا رہی ہے کہ ان کے بارے میں انسان نے سوچا تھا نہ ہی ان کا مطالبہ کیا تھا۔ بلاشبہ تکنالوجی بڑی دولت ہے مگر اس کے استعمال کا شعور اہم ہے بالخصوص یہ سوال کہ ’کتنا استعمال؟‘

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

شاعر  مشرق کا مشہور مصرعہ ہے: ’’محو حیرت ہوں کہ دُنیا کیا سے کیا ہوجائیگی۔‘‘ اُس دور تک تو تکنالوجی نے اتنے کمالات نہیں دکھائے تھے مگر یہ علامہ کی دور بینی تھی۔ ان کی نگاہِ بصیرت وہ دَور دیکھ رہی تھی جس میں حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ ٹوٹ کر بجلیوں کی طرح آپ خود بیزار ہوجائینگے اور پھر کوئی زود حس یہ محسوس کرے گا کہ اب وہ مقام آگیا ہے جہاں حیرت خود تھک کر بیٹھ جاتی ہے۔ اس پس منظر میں غور کیجئے کہ دورِ حاضر کے انسان کا تحیر کہاں ہے؟ معلوم ہوگا کہ وہ تو ختم ہوگیا۔ دورِ جدید کا انسان  اب کسی بات پر حیرت زدہ نہیں ہوتا۔ اسے لگتا ہے کہ جو کچھ ہے وہ دیدہ و شنیدہ ہے۔ اور جو دیدہ و شنیدہ نہیں ہے وہ بھی ورطۂ حیرت میں جگہ نہیں پاتا کیونکہ نئے وسائل نے انسانی ذہن کو اس قدر ماؤف کردیا ہے کہ کوئی چیز اس کی نظر میں سماتی ہے نہ حیران ہونے پر مجبور کرتی ہے۔ اب یہی دیکھئے کہ جب یہ پیش گوئی کی جاتی ہے کہ وہ دَور دُور نہیں جب انسان کو موبائل فون کی بھی ضرورت نہیں رہے گی کیونکہ جو چِپ (Chip) موبائل فون میں نصب کی جاتی ہے اور جو موبائل کے دل اور دماغ کا کام کرتی ہے، وہ انسانی جسم میں بھی نصب کی جاسکتی ہے۔ جس دن تکنالوجی اس مقام و معیار پر پہنچ جائیگی، موبائل ہینڈ سیٹ عضو معطل بن جائیگا۔ ماہرین تو یہ بھی بتا رہے ہیں کہ اگر انسانی حافظہ کمزور ہو تو کل تکنالوجی کی مدد سے بالکل ویسا آلہ دستیاب ہوگا جیسا کہ پیس میکر ہوتا ہے اور افعال قلب کو درست رکھتا ہے۔ کل تک کا انسان ایسی باتیں سائنس فکشن میں پڑھتا تھا اور حیران ہوتا تھا۔ یہ باتیں اسے ماورائی محسوس ہوتی تھیں مگر اب نہیں۔ اب، جسم میں چِپ کی تنصیب اور بغیر ہینڈ سیٹ کے موبائل کی تمام سہولتوں سے استفادہ کے انکشاف پر کوئی حیران نہیں ہوگا۔ معلوم ہوا  کہ جتنی تیزی سے تکنالوجی ترقی کررہی ہے،  اتنی ہی تیزی سے انسانی خواص ماند پڑتے جارہے ہیں۔  کیا ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ تکنالوجی کی ترقی بھی جاری رہے اور انسانی خواص بھی سلامت رہیں؟ یقیناً ایسا ہونا چاہئے اور ایسا ہوسکتا ہے بشرطیکہ انسان تکنالوجی کے استعمال میں اعتدال و توازن پیدا کرے۔ موبائل صارفین اچھی طرح جانتے ہیں کہ انٹرنیٹ کے سرچ انجنوں کے پاس ہر سوال کا جواب ہے۔ اکثر سوالات کا جواب مطالبہ سے پہلے ہی حاضر کردیا جاتا ہے۔  الگ الگ ویب سائٹس صارفین کا ہاتھ پکڑ پکڑ کر کہتی ہیں کہ یہ بھی پڑھئے اور یہ بھی۔ پڑھنے اور دیکھنے کیلئے اتنا بڑا ذخیرہ موجود ہے کہ صارفین تھک جاتے ہیں اور ذخیرہ ختم نہیں ہوتا۔ وہ باقی ماندہ چیزوں کو آئندہ کیلئے چھوڑ دیتے ہیں۔ کل تک کلو بائٹس، میگا بائٹس، گیگا بائٹس اور ٹیٹرا بائٹس میں متون کی پیمائش کی جاتی تھی۔ اب بتایا جارہا ہے کہ دُنیا ٹیٹرا بائٹس سے آگے بڑھ کر زیٹا بائٹس کی جانب رواں ہے۔ بقول کسے، زیٹابائٹس کو سمجھنے کیلئے اتنا جان لینا کافی ہے کہ پوری کائنات میں جتنے تارے ہیں اُن سے ۴۰؍ گنا زیادہ تعداد۔ صارفین جو کچھ بھی تکنالوجی کے برقی صفحے پر لکھتے ہیں وہ ڈیٹا ہے۔ کبھی آپ نے سوچا کہ پوری دُنیاکے صارفین ایک دن میں کتنا ڈیٹا ’تخلیق‘ کرتے ہیں؟ 
 اس سوال کے جواب کیلئے خود اس مضمون نگار کو سنبھل کر اعداددوشمار درج کرنے ہوں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ روزانہ ۵۰۰؍ ملین ٹویٹ کئے جاتے ہیں، ۲۹۴؍ بلین ای میل بھیجے جاتے ہیں، فیس بُک پر، جس کا نام ’’میٹا‘‘ ہونے جارہا  ہے، روزانہ ۴؍ پیٹا بائٹس کا متن (ڈیٹا) تیار ہوتا ہے، وہاٹس ایپ پر ۶۵؍ بلین پیغامات ارسال کئے جاتے ہیں اور سرچ انجنوں پر ۵؍ بلین موضوعات کو تلاش کیا جاتا ہے۔ یہ عجیب دُنیا ہے جس میں ہم داخل ہوچکے ہیں اور اس میں  جی رہے ہیں۔ پرانے وقتوں کے کسی شخص کو چند گھنٹوں کیلئے ازسرنو زندگی مل جائے تو وہ مہینوں اس دُنیا کو پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھتا رہے گا اور کچھ بھی سمجھ نہیں پائے گا۔ اس کے اندر دُنیا کے سارے انسانوں کی مجموعی حیرت  سما جائیگی۔تکنالوجی بڑی دولت ہے مگر اس کا استعمال؟ استعمال میں اعتدال و توازن نہ ہونے کی وجہ سے معلومات کی کثرت اس قدر ہے کہ ہر طرف ’’جہانِ  معلومات‘‘ جلوہ نما ہے۔ ویب سائٹس آپ کو کیا نہیں بتاتیں، کیا نہیں سمجھاتیں۔ مثلاً یہ دو غذائیں ایک ساتھ ہرگز نہ کھائیں۔ تربوز کے چھلکوں کو نہ پھینکیں، اُن سے تیار کیجئے یہ چیزیں۔  فلاں صاحب گھر پر ہی سو کلو کھاد بنالیتے ہیں، آپ بھی بنائیے۔ ملازمت کی فکر چھوڑ کر شروع کیجئے یہ کاروبار، مہینوں میں لکھ پتی بن جائینگے۔ اس کے علاوہ کالی مرچ کے فوائد، مٹر کے دانوں کے فوائد، ہلدی کے فوائد، ملتانی مٹی کے فوائد۔ ایسے تیار ہوتی ہے یہ مٹھائی، اس دیوالی پر اپنے ہاتھوںسے تیار کیجئے یہ اشیاء، وغیرہ۔ ہر طرف اتنی معلومات بکھری پڑی ہیں کہ اس منظرنامے کو دیکھ کر علم اگر علم نہ ہوتا تو سر بہ گریباں ہوتا اور ہار مان لیتا۔ اس صورتحال کے سبب معلومات اور علم میں زبردست رسہ کشی جاری ہے مگر دکھائی نہیں دیتی۔ دکھائی نہ دینے کی وجہ سے  اکثر لوگ معلومات ہی کو علم سمجھ لیتے ہیں۔   جو لوگ اس فرق کو جانتے ہیں ان کے مشاغل دیکھ کر یہ فیصلہ کرنا مشکل نہیں کہ انہیں علم کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ معلومات سے ان کا کام چل رہا ہے اور وہ مطمئن ہیں۔ معلومات بھی اُن کے اپنے حافظے میں ’’اسٹور‘‘ نہیں ہیں۔ وہ وقتاً فوقتاً سرچ انجنوں مثلاً گوگل کی مدد لیتے رہتے ہیں۔ ایسے لوگوں نے دماغی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کا سلسلہ بھی بڑی حد تک ترک کردیا ہے چنانچہ حافظے کو تکلیف دینے کا تکلف پرانی قدروں کا حصہ بن چکا ہے۔ تکنالوجی اور انسانی خواص میں جس توازن کا بالائی سطور میں ذکر کیا گیا، اس کی ایک مثال یہ ہوسکتی ہے کہ جو معلومات حاصل کرنی ہوں، انسان پہلے اُن پر غور کرے، اپنا دماغ دوڑائے، جب ناکام ہو تب گوگل کی مدد لے۔  یہ روایت کارآمد ہوسکتی ہے مگر ہم ہیں کہ کوئی سوال سامنے آیا نہیں کہ گوگل کی طرف ہاتھ بڑھا دیتے ہیں۔ تکنالوجی  بذات خود زحمت نہیں ہے۔ استعمال کنندگان اسے  زحمت   بنارہے ہیں، زحمت ِ شدید۔  ہم سب کے ساتھ ایک مسئلہ اور بھی ہے۔ اب سے پہلے کے وقتوں میں کسی بھی نئی مصنوع کے استعمال کی ہدایات بھی سمجھائی جاتی تھیں۔ اب ایسا نہیں ہوتا، اب ہر مصنوع کا بغیر سوچے سمجھے،  وہ بھی بے دریغ استعمال بڑھ رہا ہے۔ اس کے جو مضر اور مہلک اثرات انسانی زندگی پر مرتب ہورہے ہیں ان سے غفلت بھی عام ہے۔ ایک سونامی ہے جس میں ہر کوئی بہا جارہا ہے۔ اس لئے خبردار، صرف حیرت نہیں، اس کے ساتھ اور بھی بہت کچھ فنا ہو رہا ہے  ۔   

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK