میں اپنے دَور کی تصویر لے کے نکلا ہوں

Updated: March 27, 2021, 11:37 AM IST | Shahid Latif

بڑوں اور چھوٹوں کے درمیان پائے جانے والے اختلاف کو جسے جنریشن گیپ کہا جاتا تھا موجودہ دور بالخصوص اس دور کی ایجاد (ٹیکنالوجی) نے اگر ختم نہیں کیا ہے تو کافی کم ضرور کردیا ہے۔ کیا یہ اچھا ہوا؟ اس پر سوچنا ہوگا۔

Youth -  Pic : INN
نوجوان ۔ تصویر : آئی این این

کیا آپ نے محسوس کیا کہ مختلف پشتوں (مثلاً باپ بیٹے اور دادا پوتے) کے درمیان پایا جانے والا خیالات اور طرز عمل کا اختلاف، جسے جنریشن گیپ کہا جاتا ہے، کم ہورہا ہے؟ بہت سے معاملات میں اگر یہ تفاوت موجود ہے تب بھی اتنا شدید نہیں رہ گیا ہے جتنا ماضی میں تھا اور جس کی وجہ سے لفظی نہیں تو کم از کم جذباتی سطح پر کمانیں کھنچ جاتی تھیں؟ اس کی اہم وجہ تغیرات ِزمانہ ہیں۔ اچھا موبائل چالیس پینتالیس ہزار سے کم کا نہیں آتا۔ بڑی عمر کے لوگوں کو اتنے مہنگے موبائل کی ضرورت نہیں ہے مگر اس سے کم کا موبائل جلد خراب ہوجاتا ہے یا اس میں اتنے فیچرز نہیں ہوتے اس لئے بڑی عمر کے لوگ بھی یہی خرید رہے ہیں جو کہ چھوٹی عمر کے لوگوں کی اولین پسند ہے۔ چھوٹی عمر کے لوگوں کو موٹر گاڑیوں کا شوق ہے۔ بڑی عمر کے لوگوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ایک وقت ایسا آئیگا جب روپے پیسے کی ریل پیل ہوگی۔ اب حالات مختلف ہیں، وہ ’’اَفورڈ‘‘ کرسکتے ہیں اس لئے وہ بھی محسوس کرتے ہیں کہ بچوں کا مطالبہ ایسا بے جا بھی نہیں ہے۔ اس میں سہولت بھی ہے۔ پھر گھر میں گاڑی رہے گی تو اس سے سماجی اسٹیٹس بھی بنے گا۔ بچوں نے وسیع اور کشادہ گھر کی فرمائش کی۔ پہلے ماں باپ کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔ سوچتے تھے اتنے پیسے کہاں سے لائیں گے۔ اب پیسے ہیں اس لئے انکار نہیں کرسکتے۔ لیجئے کشادہ اور وسیع مکان بھی خرید لیا گیا۔ اس طرح پہلے موبائل آیا، پھر گاڑی آئی اور اب وسیع مکان بھی آگیا۔ سب کچھ کسی اختلاف رائے کے بغیر طے پاگیا اور عمل میں بھی لے آیا گیا۔ کوئی تنازع نہیں ہوا۔جنریشن گیپ کسی کونے میں دُبکا رہا، سرباہر نکال کر بار بار دیکھتا رہا کہ شاید اُس کیلئے کوئی گنجائش نکلے مگر نہیں نکلی۔ 
 مَیں اپنی نوعمری کے دور میں جھانک کر دیکھوں تو کئی لڑکے دکھائی دیں گے جن کے لمبے لمبے بال ہوا کرتے تھے۔ اسے ہِپی ّ کٹ کہا جاتا تھا۔ کوئی کان پر بال سجاتا تھا۔ یہ امیتابھ اسٹائل تھا۔ بہت سے لڑکے بیل باٹم پہنتے تھے جو اَب دِکھائی نہیں دیتی۔ بڑی عمر کے لوگ، لڑکوں کے رنگ ڈھنگ سے نالاں رہتے تھے۔ مثال کے طور پر کسی والد صاحب نے صاحبزادے کو متنبہ کردیا تھا کہ جب تک بال نہیں کٹواؤ گے مجھ سے بات نہیں کرنا۔ کسی نے اپنے خرد کو اتنی حقارت سے دیکھا کہ نگاہوں کی شعلگی سے گھر کا ہر فرد سہم گیا۔ اب ایسے مناظر دیکھنے کو نہیں ملتے۔ 
 کیا بڑوں نے سمجھوتہ کرلیا ہے؟ کیا اس کا یہ مفہوم ہے کہ بڑوں میں تھوڑا بہت بگاڑ اور چھوٹوں میں تھوڑا بہت سدھار آگیا ہے؟ 
 جی نہیں، حالات بدل گئے ہیں۔ اسی مناسبت سے مَیں نے اپنے کسی مضمون میں لکھا تھا کہ پہلے بڑے بچوں کو سکھاتے تھے۔ اب بچے بڑوں کو سکھاتے ہیں۔ ایسے میں جنریشن گیپ کہاں رہ جائیگا؟ اُسے تو گھر کے کسی کونے میں دُبکنا ہی پڑے گا!
 مشرقی معاشرہ بدلتے ہوئے حالات کے ریلے میں بہتا جارہا ہے جبکہ مغربی معاشرہ بدلتے ہوئے حالات کو زیادہ سے زیادہ فائدہ مند بنانے کیلئے کوشاں ہے۔ مثال کے طور پر حال ہی میں برطانیہ کی ایک رپورٹ نظر سے گزری کہ وہاں سن رسیدہ لوگوں کیلئے بنائے گئے ایک ’’کیئر سینٹر‘‘ میں یہ نظم کیا گیا ہے کہ بچے بڑوں کو ٹیکنالوجی کے رموزو نکات سے آگاہ کریں گے اور بڑے، بچوں کو اپنی زندگی کے تجربات سے روشناس کرائیں گے۔ (ہمارے ہاں پہلا کام ہورہا ہے، دوسرا نہیں)۔ کیلی فورنیا میں ایک ادارے نے ’’ٹیچ سینئرس ٹیکنالوجی‘‘ (بڑی عمر کے لوگوں کو ٹیکنالوجی سکھائیے) مہم کا آغاز کیا ہے۔ ایسے پروگرام اس لئے بھی کامیابی کے ساتھ جاری ہیں کہ ٹیکنالوجی سیکھنا اور سکھانا کچھ مشکل نہیں ہے جبکہ جو چیزیں بڑے سکھاسکتے ہیں وہ دشوار اور محنت طلب ہیں۔ مثلاً زبان کی باریکیاں اور  رموزونکات۔ حضرت داغ نے کہا تھا ’’کہ آتی ہے اُردو زباں آتے آتے‘‘۔ زبان نہ تو کوئی مشین ہے نہ ہی اس میں ایسی ’’کی‘‘ (بٹن) ہے جس کے دبانے سے زبان کی باریکیاں سامنے آجائیں۔ اسی طرح اخلاق، اقدار، معاشرت، انسانیت۔ آدمی یہ سب سیکھتے سیکھتے سیکھتا ہے۔ ٹیکنالوجی کی دھماچوکڑی میں ان سب چیزوں کے سیکھنے اور سکھانے کا ’’کاروبار‘‘ٹھپ پڑگیا۔ بہت سوں نے تو دکان ہی بند کردی کہ بچوں کو بُرا لگ جاتا ہے۔ کسی نے وقت کی ضرورت کو محسوس کیا بھی تو خود کو بے بس پایا۔ ٹی وی اور کمپیوٹر کی جلوہ سامانیوں کے آگے ’’اپنی کہانی‘‘ یا ’’تجرباتِ زندگی‘‘ کو مؤثر طریقے سے بیان کرنا آسان نہیں تھا۔ سابقہ اَدوار میں کہانی سنانے کا جذبہ کافی ہوتا تھا۔ اب تو چیلنج ہے اس میں جاذبیت پیدا کرنے کا۔ بچوں کو ’’کنو ِنس‘‘ کرنے کا۔ کسی دلچسپ ویب سیریز سے زیادہ دلچسپ آپ کے تجربات ِ زندگی کیسے ہوسکتے ہیں؟  بڑوں نے سوچا ہم کنونس کیسے کرسکیں گے؟ اگر یہ فن ہے تو کیا  اس عمر میں یہ فن سیکھیں! اِس طرح بڑوں نے اپنی دکانیں بند کردیں مگر خردوں کی دکانوں پر بیٹھنے لگے۔ پھر خوب جگل بندی شروع ہوئی۔ موبائل پرخردوں نے بھی فلم دیکھی اور بڑوں نے بھی۔ جنریشن گیپ کہیں نہیں تھا۔ کسی لمحہ آیا بھی ہوگا تو اُلٹے پاؤں واپس چلا گیا ہوگا۔
  ویسے جنریشن گیپ کوئی اچھی چیز نہیں تھی۔ فطری طور پر پیش رو نسل اور نئی نسل کے درمیان کچھ اختلافات تو رہتے ہیں اور رہنے بھی چاہئیں مگراکثر معاملات میں یہ گیپ اس وقت پیدا ہوتا تھا جب بڑے اپنے عجز بیان کی وجہ سے یا  اپنی سچی یا جھوٹی اَنا کی وجہ سے چھوٹوں کو اعتماد میں نہیں لے پاتے تھے۔ اب جو حالات ہیں وہ کتنے بھلے ہیں اور کتنے بھلے نہیں ہیں فی الحال اس سے بحث نہیں۔ یہاں محض ایک تصویر دکھائی جارہی ہے کہ دیکھئے یہ ہے ہمارے معاشرہ کا آئینہ۔ ظاہر ہے اس میں کچھ اچھا ہے اور کچھ اچھا نہیں ہے۔ اس پر پھر کسی دن گفتگو ہوگی۔ سردست  یہ بات ماننی پڑے گی کہ نئی نسل کافی ذہین نکلی، اس نے بڑوں سے اُلجھنے کے بجائے اُنہیں  اپنے رنگ میں رنگ لیا۔ ٹیکنالوجی نے مدد کی اور سب کچھ ٹھیک ہوگیا۔ دیکھ لیجئے جنہیں اپنی سالگرہ یاد نہیں رہتی تھی وہ بھی برتھ ڈے پارٹیوں کو انجوائے کرتے ہوئے  ہیپی برتھ ڈے گا رہے ہیں    ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK