Inquilab Logo

ڈومبیولی میں گیس کا اخراج اگر یوں ہی جاری رہا تو دوسرا ’بھوپال گیس سانحہ‘ بھی ہوسکتا ہے

Updated: June 02, 2024, 4:06 PM IST | Ejaz Abdul Gani | Mumbai

مہاراشٹر کی دوسری ثقافتی راجدھانی کہلائے جانے والے ڈومبیولی شہر میں واقع کیمیکل کمپنیوں میں لگاتار ہونےوالے دھماکوں اور گیس کے مسلسل اخراج کے پیش نظر خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ یہاں کا کیمیکل زون کہیں دوسرا ’بھوپال‘ توثابت نہیں ہوگا۔

According to a report, this is the 36th explosion in the last 8 years in which 35 people have been killed.
ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ ۸؍برسوں میں یہ ۳۶؍ واں دھماکہ ہےجس میں ۳۵؍ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ تصویر : آئی این این

مہاراشٹر کی دوسری ثقافتی راجدھانی کہلائے جانے والے ڈومبیولی شہر میں واقع کیمیکل کمپنیوں میں لگاتار ہونےوالے دھماکوں اور گیس کے مسلسل اخراج کے پیش نظر خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ یہاں کا کیمیکل زون کہیں دوسرا ’بھوپال‘ توثابت نہیں ہوگا۔ یہ پورا علاقہ کیمیکل آتش فشاں بن چکا ہے۔ حکمراں طبقہ مزید کتنے دھماکوں کے بعد جاگے گا اس کا علم کسی کو نہیں ہے۔ سرکار کو ڈومبیولی تباہ کن دھماکہ کے بعد ہی سہی ہوش میں آجانا چاہئے اور ممبئی سمیت اطراف کی سبھی کیمیکل کمپنیوں کا آڈٹ کرنا چاہئے۔ آیئے دیکھتے ہیں کہ مراٹھی اخبارات نےاس پر کیا کچھ لکھا ہے۔ 
سامنا(۲۵؍مئی)
 اخبار اپنے اداریہ میں لکھتا ہے کہ’’ڈومبیولی میں ایک کیمیکل کمپنی میں ہوئے خوفناک دھماکے اور جانی نقصان سے صنعتی تحفظ کا مسئلہ ایک بار پھر سرخیوں میں آگیا ہے۔ امودان کمپنی کے ری ایکٹر کا دھماکہ اتنا شدید تھا کہ۵؍کلو میٹر تک اس کے جھٹکے محسوس کئے گئے۔ کانوں کو سُن کردینے والے اس دھماکے سے آگ کے شعلے اور دھواں آسمان میں پھیل گیا۔ دھماکے کے جھٹکے اور آگ آس پاس کی ۱۱؍ کمپنیوں تک تو پہنچی ساتھ ہی ایم آئی ڈی سی کے قریب رہائشی عمارتوں میں دراڑیں بھی پڑ گئیں۔ دھماکہ کے وقت امودان کمپنی میں ۵۰؍کے قریب مزدور کام کررہے تھے۔ کچھ مزدوروں نے بھاگ کر جانیں بچائیں لیکن۱۱؍ مزدوروں نے اپنی جانیں گنوا دیں۔ اتنے افراد کی جان لینے والے اس دھماکہ کو محض ایک حادثہ سمجھنے کا گناہ مہا یوتی سرکار اور انتظامیہ کو نہیں کرنا چاہئےکیونکہ ایم ائی ڈی سی میں اس طرح کے دھماکے کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اگر کیمیکل کمپنیوں میں اس طرح کے دھماکے مسلسل ہوتے رہے تو اسے محض ایک حادثہ قرار دے کر خاموش نہیں رہا جاسکتا ہے۔ دھماکوں کا یہ سلسلہ اس وقت تک نہیں رکے گا جب تک کہ سرکار اور انتظامیہ اپنی ذمہ داری کا تعین کرکے خاطی افراد کے خلاف سخت کارروائی نہ کرے۔ پچھلے ۷؍ تا ۸؍ برسوں سے کیمیکل کمپنیوں میں دھماکوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ۸؍سال میں یہ ۳۶؍ واں دھماکہ ہےجس میں اب تک ۳۵؍ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ بنیادی طور پر کیمیکل کمپنیاں انتہائی آتش گیر مادوں سے لیس ہوتی ہیں، ایسے میں وہاں کام کرنے والے مزدور اور افسران چوبیس گھنٹے جان ہتھیلی پر رکھ کر اپنی ڈیوٹی انجام دیتے ہیں۔ ہر وقت جان کا خطرہ رہتا ہے۔ دراصل غیر ہنر مند افرادی قوت کا استعمال کرکے کم خرچ میں زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کی ہوس ایسے خوفناک حادثوں کی وجہ بنتی ہے۔ اس حادثے سے سوال اٹھتا ہے کہ کیا کمپنیوں کے مالکان اور صنعتی تحفظ کے ذمہ داروں کو لگتا ہے کہ مزدوروں کی جان کی کوئی قیمت نہیں ہے۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی مشتبہ حادثاتی موت

لوک مت(۲۵؍مئی)
 اخبار نے اداریہ لکھا ہے کہ’’ ڈومبیولی میں امودان کیمیکل کمپنی میں ہوئے دھماکے اور بے گناہ لوگوں کا جانی نقصان اس بات کا بین ثبوت ہے کہ ہمارا سیاسی، سماجی اور معاشی نظام بنیادی سہولیات کی فراہمی سے کتنا لاتعلق ہے۔ ڈومبیولی کو بھلے ہی ترقی یافتہ شہر کہا جاتا ہو مگر یہ دادر کی ہندو کالونی اور چنڈی گڑھ کی طرح منصوبہ بند شہر نہیں ہے۔ یہاں ہر تین میں سے کم از کم ایک یا دو عمارت غیر قانونی ہے۔ یہاں شہرمیں سڑکوں کا دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہے۔ جب ایک ڈومبیولیکر رات کو اپنے بستر پر لیٹتا ہے تب شہر کے اطراف صنعتوں سے خارج ہونے والا زہر یلا دھواں اسے سونے نہیں دیتا ہے۔ ۱۹۸۰ء سے ۲۰۰۰ء کے درمیان یہاں آبادی میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ مقامی لوگوں نے غیرقانونی چالیاں اور عمارتیں کھڑی کیں اور اب بھی کررہے ہیں۔ انڈسٹریل اسٹیٹ اور رہائشی علاقوں کے درمیان بفر زون ہونا چاہئے لیکن یہاں ۸؍ سے ۱۰؍ ہزار روپے اسکوئر فٹ سے فلیٹ فروخت کرنے والے بلڈروں، سیاسی لیڈروں اور لینڈ مافیاؤں وغیرہ کو بفر زون کی زنجیر کیسے راس آئے گی؟آٹھ سال قبل پروبیس کمپنی کا حادثہ ہو یا گزشتہ دنوں امودان کمپنی کا دھماکہ، ایسے واقعات ۱۰؍ سال میں ایک بار ہوتے رہتے ہیں جن میں ۸؍۔ ۱۰؍ جانیں چلی جاتی ہیں۔ میڈیا دو سے تین تک چیخ پکار کرتا رہتا ہے۔ بعد میں انہیں کوئی نیا موضوع مل جاتا ہے۔ حکومت کا بھی طرز عمل یہی ہے کہ وہ اعلانات کے علاوہ کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کرتی۔ مہاوکاس اگھاڑی حکومت میں صنعتی وزیر سبھاش دیسائی نے ڈومبیولی کی خطرناک کیمیکل کمپنیوں کو پاتال گنگا میں منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تاجروں اور کمپنی مالکان کو قائل کرنے کا عمل آخری مرحلے میں تھا مگر مہاراشٹر میں سیاسی اتھل پتھل ہوگئی اور نئی حکومت نے اس جانب کوئی توجہ نہیں دی۔ ‘‘
نو شکتی(۲۵؍مئی)
 اخبار لکھتا ہے کہ ’’ممبئی میٹرو پولیٹن کا علاقہ آتش فشاں کے دہانے پر بسا ہوا ہے۔ ایک سے بڑھ کر ایک خطرناک صنعتیں ایسے لگائی گئی ہیں جیسے پٹاخے کی مالا لگائی جاتی ہے۔ اگر ایک پٹاخہ پھٹ جائے تو پوری مالا اس کی زد میں آجائے اور زبردست جانی ومالی نقصان ہو۔ ایسا ہی کچھ ڈومبیولی کی امودان کمپنی میں ہوا جب ری ایکٹر میں ایک کے بعد ایک کئی دھماکے ہوئے اور پورا علاقہ آگ، شعلے اور ناقابل برداشت خوفناک آوازوں سے دہل اٹھا۔ لوگوں نے دیکھا کہ جھلسی حالت میں بھی مزدور اپنی جان بچانے کیلئے ادھر سے اُدھر بھاگ رہے ہیں۔ ان کا کوئی پرسان حال نہیں تھا۔ ہمیشہ کی طرح وزیر اعلیٰ نے اعلیٰ تحقیقاتی کمیٹی کے ذریعہ جانچ کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاطی افراد کو بخشا نہیں جائے گا اور اس بات کا خیال رکھا جائے گا کہ ایسے واقعات دوبارہ نہ ہوں۔ تاہم ایسے روایتی بیانات دینے سے کام نہیں بنتاہے۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ یہ صرف اور صرف رٹے رٹائے جملے ہیں۔ پچھلے ۸؍ برسوں میں ڈومبیولی میں ۶؍ بڑے صنعتی حادثے ہوئے۔ ہر بار اسی طرح کے اعلانات ہوئے اور پھر وقت گزرنے کے بعد سب کچھ بھلا دیاگیا۔ وزیر اعلیٰ نے کیمیکل کمپنیوں کا سروے کرکے انہیں فوری طور پر منتقل کرنے کا فرمان جاری کیا ہے لیکن لال فیتا شاہی میں اٹکے اس نظام میں کوئی بھی ضمانت نہیں دے سکتا ہے کہ اس پرعمل ہوگا۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK