• Sat, 24 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

زمانہ بدلا تو ہم بھی کتنا بدل گئے اس پہ سوچئے گا!

Updated: November 25, 2023, 1:19 PM IST | Shahid Latif | Mumbai

ہم ہندوستانی کتنے بدل گئے ہیں اس کا احساس ہمیں نہیں ہے، کیونکہ ہم احساس کرنا بھی نہیں چاہتے۔ اِس ملک میں لوگ یہ کہتے ہوئے دوسروں کو روکتے تھے کہ یہ نہ کرو، پاپ لگے گا، گناہ ہوگا۔ اب یہ الفاظ شاذونادر بھی سننے کو نہیں ملتے۔

If not political determination, then public determination can be enough for corruption, but that too is missing. Photo: INN
سیاسی عزم نہیں تو عوامی عزم بدعنوانی کے خاتے کیلئے کافی ہوسکتا ہے مگر وہ بھی مفقود ہے۔تصویر:آئی این این

راجستھان میں  آج پولنگ ہے۔ اِس الیکشن کو ’’لال ڈائری‘‘ کیلئے یاد رکھا جائیگا جس کی حقیقت عوام پر ظاہر نہیں  ہے، جو ہے وہ الزامات کی صورت ہے، مگر، اس کی تشہیر خوب ہوئی۔ بی جے پی نے اس کو بھنانے میں  کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں  کیا۔ لال ڈائری کو راجستھان میں  کانگریس کی بدعنوانی کی علامت بنانے کاکارنامہ اُن لوگوں  نے انجام دیا جو مدھیہ پردیش میں  بدعنوانی پر ایک لفظ نہیں  بول پائے۔ ہماری سیاست کی مشکل یہی ہے۔ میراکرپشن جائز، تمہارا کرپشن ناجائز۔ کہا نہیں  جاسکتا کہ لال ڈائری ریاست کے رائے دہندگان پر کس حد تک اثرانداز ہوگی جو کانگریس کے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت کی کارکردگی بالخصوص عوامی فلاح کی اسکیموں  سے کافی خوش ہیں ۔ جو بھی ہو، ۳؍ دسمبر کو پورا ملک جان جائیگا کہ رائے دہندگان نے آئندہ پانچ سال کیلئے کس کو قبول کیا اور کس کو مسترد کیا۔ 
 راجستھان اور لال ڈائری پر مزید کچھ کہنے کا اس کالم میں  محل نہیں ، سوائے اس کے کہ لال ڈائری کسی افسانے کا خوبصورت عنوان ہوسکتا ہے۔رہ جاتی ہے بدعنوانی۔ یہ ایسا موضوع ہے جو آزاد ہندوستان میں  ہر دور میں  رہا۔ ابتداء میں  بدعنوانی کے واقعات کم کم ہوتے تھے، پھر بڑھتے بڑھتے درجۂ کمال کو پہنچ گئے اور ایک سے بڑھ کر ایک گھپلہ یا اسکینڈل منظر عام پر آنے لگا۔ ان میں  کئی تو ایسے ہیں  جن پر ضخیم کتابیں  لکھی جاسکتی ہیں  مگر ہمارے یہاں  اس موضوع پر لکھنے کا چلن کم ہے، مغرب میں  ’’نان فکشن بُکس‘‘میں  یہ ایک مستقل موضوع ہے جس پر ہر سال کتابیں  لکھی جاتی ہیں ۔ حیرت ہے کہ جن ملکوں  میں  مادّیت کا غلبہ زیادہ ہے اور، ہم تو خیر سے بہت بعد میں  مادّیت پسند ہوئے، مغربی ممالک ہم سے بہت پہلے سے مادّیت زدہ ہیں ، اس کے باوجود وہاں  کے مصنفین بدعنوانی کو موضوع بنانے میں  تردد نہیں  کرتے۔ یہ وہی ممالک ہیں  جہاں  سے ہر سال ایسی کتابیں  بھی چھپتی ہیں  جن میں  مالدار بننے کی ترغیب دی جاتی ہے کہ کس طرح دولت جمع کی جاسکتی ہے، کس طرح ارب پتی بنا جاسکتا ہے اور کم سرمائے سے غیر معمولی منافع کماناکس طرح ممکن ہے۔ 
 جہاں  تک بدعنوانی سے نجات پانے کا سوال ہے، وطن عزیز میں  کوئی نہیں  ہے جو اس کیلئے ذہنی طور پر آمادہ اور تیار ہو، لوگوں  کے دلوں میں  جھانک کر دیکھئے تو محسوس ہوتا ہے کہ اُنہیں  بدعنوانی سے پرہیز نہیں  ہے۔ اُن کی باتوں  سے جھلکتا ہے کہ بدعنوانی جب اُ ن سے پیسے اینٹھتی ہے تو اُن کے ماتھے پر شکن آجاتی ہے مگر جب وہی بدعنوانی اُنہیں  سہولتیں  مہیا کرتی ہے، سیاہ کو سفید بناتی ہے اور راستے کی رُکاوٹیں  دور کردیتی ہے تو اُن کا چہرہ کھل اُٹھتا ہے۔ لوگ باگ یہ بھی جانتے ہیں  کہ کوئی قانون کتنا ہی سخت کیوں  نہ ہو، اُس سے نمٹنا مشکل نہیں  جیسے اُس مکان میں  داخل ہونا دشوار نہیں  جس کے صدر دروازہ پر ایک کے  بجائے دو مضبوط تالے لگے ہوں  مگر روشن دان کھلا ہو اور کھڑکیاں  مقفل نہ ہوں ۔ ۲۰۱۳ء میں  انا ّ آندولن نے اُس وقت کی حکومت کو ناکوں  چنے چبانے پر مجبور کردیا تھا۔ اس تحریک کو عوام کی غیر معمولی حمایت ملی تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے پورا ملک بدعنوانی سے پریشان ہو۔ اسی موضوع پر یو پی اے کا تختہ پلٹ گیا۔ اس کے بعد جو حکومت آئی اس نے بھرشٹاچار کا قلع قمع کرنے کے بلند بانگ دعوے کئے مگر بدعنوانی رُکی نہیں ۔ انا ّ آندولن میں  شریک ہونے والے لوگ بھی بھول گئے کہ کبھی اُنہوں  نے بدعنوانی کے خلاف محاذ آرائی کی تھی۔ واقعہ یہ ہے کہ نو ساڑھے نو سال کا عرصہ گزر چکا ہے مگر بدعنوانی رُکی نہیں ۔ رُک بھی نہیں  سکتی جب تک سیاسی عزم نہ ہو۔ جس طرح یہ کہا جاتا ہے کہ اگر حکومت اور مقامی انتظامیہ چاہے تو فساد نہیں  ہوسکتا اور اگر ہوجائے تو چند گھنٹوں  میں  رُک سکتا ہے بالکل اُسی طرح حکومت اور انتظامیہ چاہے تو بدعنوانی کو نیست و نابود کیا جاسکتا ہے مگر اس کیلئے ضروری سیاسی عزم آئے کہاں  سے؟ ڈنمارک، سویڈن اور ایسے ہی دیگر ملکوں  سے جو ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے جدول میں  سال بہ  سال سر فہرست ہوتے ہیں  وہاں  سے امپورٹ تو نہیں  کیا جاسکتا!
 سیاسی عزم نہیں  تو عوامی عزم بدعنوانی کے خاتے کیلئے کافی ہوسکتا ہے مگر وہ بھی مفقود ہے۔ کہا جاسکتا ہے کہ اگر ہمارے یہاں  آج سے کوشش کی جائے تو حالات کے سنورنے میں  کم از کم دو دہائیاں  درکار ہوں  گی۔ اس کیلئے نئی نسل کے ذہنوں میں  یہ بات بٹھانی ہوگی کہ بدعنوانی بدترین بُرائیوں  میں  سے ایک ہے اور کوشش یہ ہونی چاہئے کہ جہاں  تک ممکن ہو اس سے بچا جائے۔ بہترین راستہ یہی ہے۔ یہ سفر زمینی سطح سے شروع ہو۔ افراد کے ذریعہ۔ اِس اُمید کے بغیر کہ بالائی سطح سے قوانین اورضابطے لائے جائینگے اور اُنہیں  سنجیدگی اور ایمانداری سے نافذ کرنے کی کوشش ہوگی تب  حالات بدلیں  گے۔ اس ہدف کو پانے کیلئے اُن ملکوں  کو بطور مثال سامنے رکھناہوگا جو ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے جدول میں  سر فہرست رہتے ہیں ۔ 
 ’’قورا ڈاٹ کوم‘‘ مشہور ویب سائٹ ہے جہاں  مختلف سوالوں  کے جواب اس ویب سائٹ سے استفادہ کرنے والے ہی دیتے ہیں ۔ اِس مضمون نگار نے اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی کہ ڈنمارک میں  بدعنوانی بہت کم یا برائے نام کیوں  ہے؟ تو ایک ایسے ہندوستانی شہری (انور جمال) کا تفصیلی جواب پڑھنے کو ملا جو ڈنمارک میں  چند ماہ گزار آئے ہیں ۔ اُن کا کہنا ہے کہ ’’مَیں  نے ڈنمارک کے ایک خاندان کے ساتھ بھی کچھ وقت گزارا ۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہاں  خاندا ن کے بڑے، گھر کے بچوں  کو کافی وقت دیتے ہیں  اور ایمانداری و حق گوئی اُن کے ذہن نشین کرانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ وہ اُنہیں  قناعت بھی سکھاتے ہیں ۔ یہ عمل نصیحت کرنے تک محدود نہیں  رہتا بلکہ وہ اُنہیں  محض چند کھلونے فراہم کرکے خوش ہونے اور خوش رہنے کا درس دیتے ہیں ۔‘‘  بقول انور علی: ’’ڈنمارک کے لوگ محفوظ، پُرسکون اور صحتمند رہنے کو ترجیح دیتے ہیں ، کار، بنگلہ یا آئی فون خریدنا اُن کی ترجیحات میں  شامل نہیں  ہوتا۔ لوگ باگ دن بھر کے کام سے فراغت کے بعد شام کو گھر آتے ہیں ، اپنے ہاتھوں  سے چائے یا کافی بناتے ہیں  اور اپنی شام بچوں  اور فطرت (نیچر) کے ساتھ گزارتے ہیں ۔ میرے باس جو کہ (کمپنی کے) سی ای او تھے، ظاہر ہے اُن کی ماہانہ آمدنی اچھی خاصی رہی ہوگی مگر میں  نے دیکھا کہ وہ پندرہ سال پرانی کار چلاتے ہیں  یا سائیکل کے ذریعہ گھر اور دفتر کی مسافت طے کرتے ہیں ۔‘‘ 
 ہندوستانیوں  میں  قناعت تھی مگر جب سے عالم کاری نے نت نئے در وَا کئے اور مادّیت و صارفیت کو خوش آمدید کہا تب سے قناعت خیر باد کہنے لگی۔ اب ہوس ہے جس کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے۔ ہوس ہی جھوٹ اور بے ایمانی کو بُرا سمجھنے کے تکلف سے چھٹکارا چاہتی ہے اور ہوس ہی بدعنوانی کی راہ میں  سرخ قالین بچھاتی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK