سیاست اور جارحیت جب سے یک جان ہوئے ہیں ، ماحول میں جھوٹ بے طرح پھیل رہا ہے۔ یہ ستم اتنا ہلاکت خیز نہ ہوتا اگر ٹیکنالوجی اس آگ کو ہوا نہ دیتی۔
EPAPER
Updated: August 12, 2023, 1:25 PM IST | Shahid Latif | Mumbai
سیاست اور جارحیت جب سے یک جان ہوئے ہیں ، ماحول میں جھوٹ بے طرح پھیل رہا ہے۔ یہ ستم اتنا ہلاکت خیز نہ ہوتا اگر ٹیکنالوجی اس آگ کو ہوا نہ دیتی۔
شہر کی آلودگی سے دور کسی چمن زار میں ، کسی پہاڑی علاقے میں اور کسی صحت افزا مقام پر جانے کا رواج پہلے اِتنا نہیں تھا جتنا اَب ہے کیونکہ اَب اس کی ضرورت ہے اور یہ ضرورت روز افزوں ہے۔ آلودگی سے بچنا تحفظ ِ صحت کے نقطۂ نظر سے اہم ہے خواہ چند روز کیلئے ہی ممکن ہو۔ اگر ماحولیاتی آلودگی جسمانی صحت کیلئے مضرہے تو موبائل سے ہونے والا انتشار ذہنی صحت کیلئے نقصان دہ ہے۔ اس لئے جس طرح آدمی چند روز کیلئے فضائی آلودگی سے دور چلا جاتا ہے اُسی طرح مغربی ملکوں میں ہفتے دو ہفتے میں موبائل کے بغیر ایک دِن یا چند گھنٹے گزارنے کا نظم کیا جارہا ہے۔ ہوسکتا ہے وہ دن آئے جب انسان موبائل کے استعمال کا دورانیہ طے کرلے کہ اتنے گھنٹے ہی موبائل کا استعمال کریگا اس کے بعد نہیں تاوقتیکہ کوئی ایمرجنسی نہ ہو۔
انسان چاہے تو شہر کی آلودگی سے بھی بچ سکتا ہے اور موبائل کے انتشار سے بھی۔ اس طرح وہ اپنی جسمانی اور ذہنی صحت کی فکر کرسکتا ہے مگر کیا وہ اُن دیگر آلودگیوں سے بھی اپنی حفاظت کرسکتا ہے جو سماج میں راسخ ہوتی چلی گئی ہیں اور اب اُن کے بارے میں سوچتا بھی کوئی نہیں ہے؟ اس قسم کی آلودگی کو اب کوئی آلودگی مانتا بھی نہیں ہے، اس سے بچنا تو بہت دور کی بات ہے۔
مثال کے طور پر جھوٹ۔ کہا جاتا ہے کہ ایک جھوٹ کو چھپانے کیلئے دس جھوٹ بولنے پڑتے ہیں ۔ اس بناء پر کہا جاسکتا ہے کہ جس طرح آشوب چشم، دق، عام نزلہ زکام ، چیچک اور ابھی حال ہی میں دُنیا کا پنڈ چھوڑنے والی کووڈ ۱۹؍ متعدی امراض ہیں اسی طرح جھوٹ بھی متعدی ہے۔ اگر ہم تسلیم کرتے ہیں کہ ایک جھوٹ کو چھپانے کیلئے دس جھوٹ بولنے پڑتے ہیں تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ جھوٹ اپنے پھیلاؤ سے پہلے ایک ہی شخص کو دس مرتبہ ڈستا ہے تب کہیں جاکر دوسروں میں سرایت کرتا ہے۔ اس طرح یہ کئی گنا متعدی ہے۔ ٹیکنالوجی کا دور اس جھوٹ کو پھیلانے میں اس قدر زور اثر ہے کہ اسے زبان پر لائے بغیر پھیلایا جاسکتا ہے اور یہ آسانی سے پھیلتا چلا جاتا ہے۔ اسی لئے نیوز کے مقابلے میں فیک نیوز یعنی جعلی خبر کی شناخت لازم ہوئی، ان کے درمیان فرق اس قدر مہین ہے کہ سچی خبر اور جعلی خبر میں فرق کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ جعلی خبر کیا ہے؟ یہ جھوٹ کا بازار ہے جس کے بارے میں شاید ہی کوئی جانتا ہو کہ یہ بازار کتنا بڑا ہے، کتنا وسیع ہے اور کہاں سے شروع ہوتا اور کہاں ختم ہوتا ہے۔ شاید ہی کوئی جانتا ہو کہ اس بازار میں کون کس سے کس قسم کا مال خرید رہا ہے اور اس مال سے خود کو کتنے نقصان میں ڈال رہا ہے۔
اگر فیک نیوز پر پابندی لگ جائے تب بھی اور اگر موبائل میں جھوٹ پکڑنے والا اَیپ نصب ہوجائے تب بھی اس بات کی ضمانت شاید ہی کوئی دے سکے کہ اس کے بعد جھوٹ نہیں پھیلے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جھوٹ تبھی پھیلتا ہے جب اسے سننے اور قبول کرنے والے لوگ موجود ہوں بالکل اُسی طرح جیسے کوئی مصنوع اُسی وقت فروخت ہوتی ہے جب صارف میں اس کی طلب ہو یا صارف اسے طلب کرے۔ جھوٹ کی طلب یعنی اسے قبول کرنے اور ماننے کا مزاج نہ ہو تو کوئی وجہ نہیں کہ جھوٹ پھیلے۔ جعلی خبر تب ہی مشتہر ہوتی ہے جب اسے صحیح جان کر پھیلایا جاتا ہے اور اس طرح جھوٹ کو فروغ دیا جاتا ہے۔ جھوٹ سننے اور ماننے کا یہی مزاج سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اسی لئے تکنالوجی کوموردِ الزام ٹھہرانے سے زیادہ ضروری ہے کہ اس مزاج پر گرفت کی جائے، اس سے پیدا شدہ ماحول کو دل سے بُرا کہا جائے اور اس سے حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔
ہماری فضاؤں اور ماحول میں جھوٹ کے جرثومے کہاں سے کہاں تک پھیلے ہوئے ہیں کوئی نہیں جانتا۔ٹیکنالوجی مزید ترقی کرکے اس قابل ہوجائے کہ ماحول میں جھوٹ کی چادر کی دبازت کا پتہ لگاسکے تب آپ دیکھیں گے کہ کوئی ماہر اس قسم کا آلہ ایجاد کرنے کا خواہشمند نہیں ہوگا کیونکہ اس کی وجہ سے یہ چادر کہیں سیاہ، کہیں سیاہ تر اور کہیں سیاہ ترین دکھائی دے گی بالکل اُسی طرح جیسے فضا سے آلودگی اور دھویں کی چادر کہیں کم دبیز اور کہیں زیادہ دبیزدکھائی دیتی ہے۔ اس آلے کو کوئی پسند نہیں کریگا، کوئی اس کا خریدار نہ ہوگا۔
جھوٹ سے متعلق فارسی کی مشہور کہاوت ہے کہ ’’دروغ گو را حافظہ نباشد‘‘، اس کا مفہوم ہے کہ جھوٹ بولنے والے کا حافظہ نہایت کمزور ہوتا ہے جس کے سبب اُسے یاد ہی نہیں رہتا کہ اُس نے کب کہاں کون سا جھوٹ بولا تھا۔ ارباب ِسیاست چونکہ فن ِ دروغ گوئی میں درجۂ کمال کو پہنچے ہوئے ہیں اسی لئے اُن کا حافظہ اکثر ساتھ نہیں دیتا اور وہ آئینے کا سامنا کرنے کیلئے کبھی تیار نہیں ہوتے۔
یہ ساری باتیں مَیں کیوں لکھ رہا ہوں ؟ اس لئے کہ سماج پر اس کے با اثر اور با اختیار لوگوں کا براہ راست یا بالواسطہ اثر اتنا گہرا ہوتا ہے کہ اِس سے تبھی بچا جاسکتا ہے جب بچنے کی شعوری کوشش بہت پختہ ہو۔ عادتاً ، مجبوراً، مصلحتاً یا دانستہ بولا جانے والا جھوٹ، وہاٹس ایپ اور جعلی خبروں کے ذریعہ پھیلنے والا جھوٹ، بااثر اور بااختیار لوگوں کا جھوٹ، ان سب کو ملا کر صرف تصور کیا جائے کہ ہمارے آس پاس کا ماحول کتنا دروغ زدہ ہے اور اس میں کتنا جھوٹ شامل ہے تو ناقابل یقین تصویر اُبھرے گی۔ موجودہ دور میں ستیہ ستیہ ستیہ کی اس قدر گردان ہورہی ہے کہ ایسا لگتا ہے اَستیہ اپنا بوریا بستر لپیٹ چکا ہے یا اسے دیس نکالا دیا جاچکا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ ستیہ کے نام پر ہی اَستیہ کا بازار گرم ہے اور جھوٹ اس یقین کے ساتھ کہا جارہا ہے سننے والا اسے سچ ہی سمجھے گا۔ اس پر یقین رکھنے والوں کا فارمولہ ہی یہ ہے کہ جھوٹ اتنی بار بولا جائے کہ اس پر سچ کا گمان ہو۔ اس یقین اور اعتماد کے ساتھ بولا جانے والا جھوٹ جب سوشل میڈیا کے حوالے ہوجاتا ہے تو اِسے پر لگ جاتے ہیں ۔
موجودہ دور میں کتنے فسادات، بدگمانیاں ، نفرتیں اور وارداتیں محض اس لئے ہوئی ہیں کہ ان کی بنیاد میں کوئی جھوٹ تھا اور جھوٹ کا نتیجہ خلق کے انتشار اور ہلاکت خیزی ہی کی صورت ظاہر ہوتا ہے۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ سماج پر اس کے بااثر لوگوں کا جھوٹ سب سے زیادہ اثر کرتا ہے تو یہ بھی ماننا ہوگا کہ گھر کے بڑوں کا جھوٹ گھر کے ایک ایک فرد پر اثرانداز ہوتا ہے۔ کاش اس سے بچا جائے!