Inquilab Logo Happiest Places to Work

جنگ آزادی میں دارالمصنفین شبلی اکیڈمی کا اہم رول

Updated: August 15, 2026, 4:24 PM IST | Maksh Azmi | Mumbai

شبلی اکیڈمی کے پہلے ڈائریکٹر سید سلیمان ندوی نے عملی طور پرآزادی کی جنگ میں حصہ لیا تھا، اس کے علاوہ بیشتر اہم مجاہدین جب اعظم گڑھ آتے تو ان کا قیام شبلی اکیڈمی میں ہی ہوتا تھا۔

Darul Musannefin Shibli Academy, a memorial to Allama Shibli Nomani located in Azamgarh. Picture: INN
اعظم گڑھ میں واقع علامہ شبلی نعمانی کی یادگار دارالمصنفین شبلی اکیڈمی۔ تصویر: آئی این این

ہندوستان کی جنگ آزادی میں تمام تر قوموں علاقوں اور تمام تر مذاہب کے لوگوں کے ساتھ ساتھ مختلف قسم کے اداروں کا بھی اہم رول رہاہے  اس سلسلے میں اعظم گڑھ اترپردیش میں واقع علامہ شبلی نعمانی کے خوابوں کی آخری تعبیر عالمی شہرت یافتہ تصنیفی تحقیقی و تالیفی ادارہ دارالمصنفین شبلی اکیڈمی کا بھی نہایت ہی اہم رول رہاہے۔ یہاں کے ذمہ داران کے مجاہدین آزادی سے دیرینہ تعلقات ہی نہیں تھے بلکہ یہاں کے ذمہ داران بھی جنگ آزادی میں پیش پیش تھے۔

شبلی اکیڈمی کے پہلے ڈائریکٹر سید سلیمان ندوی نے عملی طور پرآزادی میں حصہ لیا تھا۔ جب ترکی کی حمایت میں ہندوستانیوں کو جیل میں ڈالا گیا تو سید سلیمان ندوی خلافت تحریک سے وابستہ ہوئے اور۱۹۱۹ء میں خلافت تحریک کے لکھنؤ اجلاس کی صدارت فرمائی اور صوبہ بہار کی خلافت کانفرنس کی صدارت کی۔ اسی کے ساتھ۱۹۲۰ء میں خلافت وفد کے ساتھ یورپ کا سفر بھی کیا۔ سید صاحب کے موتی لال نہرو، جواہر لال نہرو ، مولانا آزاد اور راجندر پرساد وغیرہ سمیت بہت سے مجاہدین سے تعلق تھے۔  اس بات کا اندازہ شبلی اکیڈمی میں موجود مجاہدین کے خطوط سے ہوتا ہے۔ موتی لال نہرو اکیڈمی میں اکثر آتے تھے اور فرماتے تھے کہ ’’ مجھ کو اس کچی عمارت میں جو سکون حاصل ہوتا ہے وہ کہیں اور حاصل نہیں ہوتا۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: گاندھی جی کی آپ بیتی ’’تلاش حق‘‘ کا ایک دلچسپ باب

دارالمصنفین شبلی اکیڈمی کے مہتمم مولانا مسعود علی ندوی خلافت تحریک کے بڑے ہی فعال کارکن تھے۔ اس زمانے میں صرف اعظم گڑھ سے انہوں نے ۹۰؍ ہزار روپے کا چندہ کرکے بھیجا تھا۔ مسعود علی ندوی سے گاندھی،نہرو، راجندر پرساد اور مولانا آزاد وغیرہ سے بہت گہرا اور بے تکلف رشتہ تھا۔ اکیڈمی میں موجود ان حضرات کے ندوی صاحب کے نام خطوط سے ہوتا ہے۔

اسی طرح شبلی اکیڈمی مجلس انتظامیہ کے صدر ڈاکٹر سید محمود جو غازی پور کے تھے، بڑے مجاہد آزادی تھے۔تعلیمی غرض سے انگلینڈ میں بھی تھے۔ وہیں۱۹۱۵ء میں گاندھی جی اور نہرو سے ملاقات ہوئی تھی۔ ہندوستان آئے توخلافت تحریک اور سول نافرمانی کیخلاف دوبار جیل گئے۔ کانگریس کمیٹی کے جنرل سیکریٹری تھے۔ قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور کئی شعبوں کےوزیر بنے۔ وہ ہندو مسلم اتحاد کے زبردست حامی تھے۔

یہاں پر بنارس ہندو یونیورسٹی کے بانی و مجاہد آزادی مدن موہن مالویہ بھی اکثر آتے تھے اور کئی کئی روزتک قیام کرتے تھے۔ ان کی یہ بہت پسندیدہ جگہ تھی۔

جس زمانے میں جواہر لال نہرو انگریز حکومت کے باغی لیڈر تھے اور مجاہدین کا نام لینا بھی جرم تصور کیا جاتا تھا، اس زمانے میں نہرو کا قیام اکثر اکیڈمی میں ہوتا تھا۔ اس کے علاوہ  وہ جب بھی آزادی کی تحریک کے سلسلے میں مشرقی اترپردیش میں آتے تو ان کا اور ان کے ساتھیوں کایہیں پرقیام ہوتا تھا۔ نہرو جی کا یہاں کے نظما و ذمہ داران سے نہایت گہرا تعلق تھا۔اس کا اندازہ متعدد خطوط اور یہاں کے رفقاء کے ساتھ ان کی گروپ تصویر سے ہوتاہے۔ اکیڈمی کے ذمہ داروں کا جنگ آزادی کا حصہ بننے، مجاہدین آزادی کا قیام کرنے اور خلافت تحریک میں سرگرم حصہ لینے کے سبب ریاست حیدرآباد سے جو رقم دارالمصنفین شبلی اکیڈمی کوملتی تھی اس کو انگریزی حکومت نے۳۰؍ مارچ ۱۹۲۰ء اور۲۲؍ اپریل۱۹۲۲ء کو دو بار رکوانے کی کوشش کی۔

یہ بھی پڑھئے: بالی ووڈ کے کئی نغمے آج بھی حب الوطنی کے جذبے کو بلند کرتے ہیں

عظیم مجاہد آزادی مولانا ابوالکلام آزاد کا علامہ شبلی نعمانی اور شبلی اکیڈمی سے بڑا جذباتی اور بے پناہ رشتہ تھا۔ جب ان کو اکیڈمی کا اعزازی رفیق ( فیلو) بنایا گیا تو مولانا آزاد نے خط لکھا کہ’’ شبلی اکیڈمی کا اعزازی رفیق تو کیا میں قلی بننے کو تیار ہوں بشرطیکہ کام ہو اور مجمع خالص ہو۔‘‘واضح ہوکہ علامہ شبلی کے قابل فخر یافتگان میں مولانا آزاد کا نام شامل ہے۔ دونوں میں انتہائی محبت تھی۔ شبلی نے انہیں الندوہ کاسب ایڈیٹر مقرر کیا تھا۔

واضح ہوکہ شبلی اکیڈمی کو ملک کی کئی ریاستوں سے مالی تعاون ملتا تھا لیکن ملک کی آزادی کے بعد وہ ریاستیں ختم ہو گئیں جس کے سبب اکیڈمی کی حالت بگڑتی چلی گئی  چنانچہ ارباب اکیڈمی نے جواہر لال نہرو اور مولانا آزاد سے اس سلسلے میں گفتگو کی جس پر حکومت نے ۶۰؍ ہزار روپیہ کا گرانٹ منظور کیا تھا۔ اس واقعہ سے مولانا آزاد کا اکیڈمی سے محبت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے اور یہ محبت تاحیات قائم رہی۔ اسی طرح مجاہد آزادی ڈاکٹر ذاکر حسین ادھر آتے تو اکیڈمی ہی میں ٹھہرتے تھے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کےچندہ کیلئے یہاں آئے تو مسعود علی ندوی نے بڑے بڑے چندے کرائے۔۱۹۲۷ء میں اکیڈمی انتظامیہ کی رکنیت کیلئے ان کا انتخاب کیا گیا اور جب۲۰؍ا ور۲۱؍ فروری۱۹۶۵ء کو اکیڈمی کا جشن طلائی منایا گیا تو بحیثیتِ صدر جمہوریہ اس کے مہمان خصوصی ڈاکٹر ذاکر حسین ہی تھے۔ 

غرض یہ کہدارالمصنفین شبلی اکیڈمی کا  جنگ آزادی میں بڑا  اور نہایت اہم رول رہا ہے۔ یہاں پر اُس زمانے کے تقریباً تمام ہی بڑے مجاہدین آتے تھے اور ادارے کی خدمات کو سراہتے تھے۔ ان کے خطوط، اُس دور کی تصاویر، اس بات کا دیگر پختہ ثبوت اور یادگاریں موجود ہیں۔

شبلی اکیڈمی میں گاندھی جی کی آمد

دوران جنگ آزادی مجاہدین کا اکیڈمی میں آنا جانا لگا رہتا تھا۔ مہاتما گاندھی۱۹۴۷ء سے قبل ایک دن مغرب کے وقت اکیڈمی میں تشریف لائے۔ اکیڈمی کے مسلمان زمین پر جانماز بچھا کر نماز ادا کررہے تھے۔ یہ دیکھ کر گاندھی جی ایک کنارے پر بیٹھ گئے اور اپنے ساتھیوں کو چپ رہنے کا اشارہ کیا۔ نماز ختم ہونے کے بعد لوگوں سے ملاقات کی۔ رات ہونے کے سبب اکیڈمی بند ہوچکی تھی لیکن گاندھی جی نے اکیڈمی کے مختلف شعبوں کو دیکھنے کے خواہش ظاہر کی تو ان کو لالٹین کی روشنی میں دکھایا گیا۔ مہاتما گاندھی کا مولانا سید سلیمان ندوی اور مسعود علی ندوی کے نام اردو میں خط موجود ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK