ملک کو آزادی ۱۵؍ اگست ۱۹۴۷ء کوملی تھی لیکن اس سے ڈھائی ماہ قبل ۳؍ جون ۱۹۴۷ء ہی کو اُس وقت کے وائسرائے ماؤنٹ بیٹن نے ایک پریس کانفرنس میں اس کا اعلان کردیا تھا۔
EPAPER
Updated: August 15, 2026, 5:25 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai
ملک کو آزادی ۱۵؍ اگست ۱۹۴۷ء کوملی تھی لیکن اس سے ڈھائی ماہ قبل ۳؍ جون ۱۹۴۷ء ہی کو اُس وقت کے وائسرائے ماؤنٹ بیٹن نے ایک پریس کانفرنس میں اس کا اعلان کردیا تھا۔
ملک کی آزادی کا باضابطہ اعلان کب ہوا تھا؟
ملک کو آزادی ۱۵؍ اگست ۱۹۴۷ء کوملی تھی لیکن اس سے ڈھائی ماہ قبل ۳؍ جون ۱۹۴۷ء ہی کو اُس وقت کے وائسرائے ماؤنٹ بیٹن نے ایک پریس کانفرنس میں اس کااعلان کردیا تھا۔ اسی میں ملک کی تقسیم کااعلان بھی ہوا تھا۔۱۵؍ اگست ۱۹۴۷ء کو ماؤنٹ بیٹن نےاپنے دفتر میں کام کیا تھا۔ اسی دوران دوپہر کے وقت جواہر لال نہرو نے انہیںاپنی کابینہ کی فہرست سونپی تھی۔
ملک کی آزادی کے بعد پہلی مرتبہ قومی پرچم کب لہرایا گیا تھا؟
ہرسال یوم آزادی کے موقع پر ملک کے وزیراعظم لال قلعے سے پرچم لہراتے ہیں لیکن۱۵؍ اگست۱۹۴۷ء کو ایسا نہیں ہوا تھا۔ لوک سبھا سیکریٹریٹ کے ایک تحقیقی مقالے کے مطابق اُس وقت کے وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے۱۶؍ اگست۱۹۴۷ء کو لال قلعے سے جھنڈا لہرایا تھا۔
قومی پرچم ’ترنگا‘ کو موجودہ شکل میں قبولیت کب ملی تھی اور اسے کس نے ڈیزائن کیا تھا؟
۲۲؍ جولائی ۱۹۴۷ء کو آئین ساز اسمبلی نے قومی پرچم کے طور پر ترنگا کو باضابطہ قبولیت بخشی تھی لیکن قومی پرچم کے طورپر اس کا باقاعدہ استعمال ۱۶؍ اگست ۱۹۴۷ء کو ہوا تھا۔مشہور آرٹسٹ پنگلی وینکیا نے مہاتما گاندھی کی ایما پر اسےتیار کیا تھا۔
حالانکہ تاریخی حوالوں سے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مہاتما گاندھی کی ایما پر پنگلی وینکیا نے جو پرچم تیار کیا تھا، اسے۱۹۳۱ء میں ہی انڈین نیشنل کانگریس نے منظوری عطا کردی تھی۔ اُس وقت اس میں اشوک چکر کی جگہ پر چرخے کی علامت تھی۔ ۱۹۴۷ء میں ملک کی آزادی کے بعد قومی پرچم کی الگ سے ضرورت محسوس ہوئی کیونکہ وہ کانگریس کی نشانی بن گئی تھی۔ ایسے میں ملک کے قد آور لیڈروں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس میں بابا صاحب امبیڈکر، پنڈت جواہرلال نہرو، مولاناابوالکلام آزاد، مہاتما گاندھی اور بدرالدین طیب جی جیسے اعلیٰ سطح کے لیڈر شامل تھے۔ اس میٹنگ میں بدرالدین طیب جی نے پرچم کی ایک ڈیزائن پیش کی جسے ان کی اہلیہ ثریا طیب جی نے بنایا تھا۔ اس میں انہوں نے کچھ زیادہ تبدیلی نہ کرتے ہوئے چرخے کی جگہ پر اشوک چکر بنایا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اسے فوری طور پر پسند کرلیا گیا۔ ثریا طیب جی ایک ماہر نقاش تھیں جن کے فن پارے لندن اور جکارتا کی بین الاقوامی نمائشوں میں پیش کئے گئے تھے۔
قومی پرچم میں موجود رنگوں کا کیا مطلب ہے؟
ترنگا وطن عزیز کے اقدار کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس میں موجود رنگوں کی کچھ معنویت ہے۔ اس کا اوپری حصہ زعفرانی کا ہے جس سے ملک کی طاقت ، اس کی ہمت اور اس کی قربانیوں کااظہار ہوتا ہے۔درمیان میں سفید رنگ ہے جو امن وامان اور سچائی کی علامت ہے۔ پرچم کا آخری حصہ سبز رنگ پر مشتمل ہے جو وفاداری ، رواداری، زرخیزی اور ملک کے عزائم کااظہار ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مجاہد آزادی شری اروبندو کا یوم آزادی کی مناسبت سے ایک یادگار خطبہ
قومی پرچم میں اشوک چکر کی موجودگی کا کیا پیغام ہے؟
اشوک چکر ہے جسے قانون کا چکر بھی کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب انصاف کی علمبرداری ہے۔ اشوک چکر میں جو دھاریاں ہیں ان کی تعداد ۲۴؍ ہے جو اس بات کی جانب اشارہ کرتی ہیں کہ ہمیں ۲۴؍ گھنٹے وطن کی خدمت کیلئے تیار رہنا ہے۔ دیش کو جب بھی اور جس وقت بھی ہماری ضرورت پڑ ے گی ہم ہمہ وقت اس کیلئے تیار رہیں گے۔
ہندوستان اور پاکستان کے درمیان حد بندی کب ہوئی تھی؟
ہندوستان اور پاکستان کے درمیان۱۵؍ اگست تک حد بندی کا تعین نہیں کیا گیا تھا۔ اس کا فیصلہ آزادی کے دو دن بعد۱۷؍ اگست کو’ ریڈکلف لائن‘ کے اعلان سے ہوا جس نے دونوں کی حدود کا تعین کیا اور دونوں کے درمیان لکیریں کھینچی گئیں۔
ملک کی آزادی کی پہلی تقریب میں مہاتماگاندھی نے کیوں نہیں شرکت کی تھی؟
آدھی رات کو منعقد ہونے والی ملک کی آزادی کی پہلی تقریب جس میں جواہر لال نہرو نے قوم سے خطاب کیا تھا، اس میں گاندھی جی نے شرکت نہیں کی تھی۔اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان تشدد کو روکنے کیلئے مغربی بنگال کے نواکھالی میں مون برت پر تھے۔
ملک کی آزادی کے اعلان کے وقت آدھی رات کو نہرو نے جو تقریر کی تھی، اس کا نام کیا تھا؟
ہندوستان کی آزادی ۱۴؍ اگست کےاختتام اور ۱۵؍ اگست کے آغاز پر نصف شب میں اُس وقت ملی تھی جب پوری دنیا سو رہی تھی۔اس موقع پر ملک کے اولین وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے ایک معرکۃ الآرا تقریر کی تھی جسے ٹِرسٹ وتھ ڈِسٹنی (تقدیر کے ساتھ عہد) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس تقریر کو پوری دنیا نے سنا تھا۔ اس تقریر کو ۲۰؍ویں صدی کی چند اہم اور موثر تقاریر میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس فہرست میں مارٹن لوتھر کنگ جونیئر اور ونسٹن چرچل کی تقاریر بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ’’جَن گَن مَن‘‘ ہی کو قومی ترانہ بنایا گیا، کیوں؟
۱۵؍ اگست کو اور کون کون سے ممالک اپنا یوم آزادی مناتے ہیں؟
ہندوستان کے علاوہ۱۵؍ اگست کو تین دیگر ممالک کا بھی یوم آزادی ہے۔ جنوبی کوریا۱۵؍ اگست۱۹۴۵ء کو جاپان سے آزاد ہوا۔ بحرین نے۱۵؍ اگست۱۹۷۱ء کو برطانیہ سے آزادی حاصل کی اور فرانس نے۱۵؍ اگست۱۹۶۰ء کو کانگو کو آزاد قرار دیا۔
پاکستان کی آزادی کا دن ایک دن قبل کیوں منایا جاتا ہے؟
ایک وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ پاکستان کا وقت یعنی ’پی ایس ٹی‘ ہندوستان سے آدھا گھنٹہ پہلے کا ہے، اسلئے جس وقت پاکستان میں رات کے ۱۲؍ بج رہے تھے، اُس وقت ہمارے یہاں رات کے ساڑھے ۱۱؍ بج رہے تھے، گویا وہ ہماری تاریخ کے حساب سے۱۴؍ اگست کی تاریخ تھی۔ اس کے آدھا گھنٹہ بعد ہندوستان کو آزادی ملی تھی۔