• Thu, 26 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہندوستان یوکرین میں جنگ بندی کیلئے اقوام متحدہ کی قرارداد پر ووٹنگ سے غیرحاضر، روس کا سنگین الزام

Updated: February 26, 2026, 9:59 AM IST | New York

ہندوستان کا موقف رہا ہے کہ وہ امن کی حمایت کرتا ہے اور اس نے مسلسل مذاکرات اور سفارت کاری پر زور دیتے ہوئے تنازع میں کسی کی طرف داری کرنے سے گریز کیا ہے۔

UN General Assembly. Photo: X
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی۔ تصویر: ایکس

ہندوستان نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں روس-یوکرین جنگ میں ”فوری، مکمل اور غیر مشروط جنگ بندی“ کا مطالبہ کرنے والی قرارداد پر ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ ۲۴ فروری کو روس کے حملے کی چوتھی برسی پر یوکرین کی جانب سے پیش کی گئی اس قرارداد کو ۱۹۳ رکنی اسمبلی نے منظور کرلیا۔ ۱۰۷ ممالک نے اس قرارداد کی حمایت کی، اس کی مخالفت میں ۱۲ ممالک نے ووٹ دیا جبکہ ہندوستان، چین، برازیل اور امریکہ سمیت ۵۱ ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔

اس قرارداد میں یوکرین کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کا اعادہ کیا گیا ہے، ساتھ ہی جنگی قیدیوں کے تبادلے اور تنازع کے دوران زبردستی منتقل کئے گئے شہریوں کی واپسی پر زور دیا گیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو غطریس نے اس جنگ کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا اور پائیدار امن کی جانب پہلے قدم کے طور پر فوری جنگ بندی کے اپنے مطالبے کو دہرایا۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ: ایران کے خلاف خفیہ کارروائی سانحہ کا باعث بن سکتی ہے: اقلیتی لیڈرچک شومر

اجلاس کے دوران اقوامِ متحدہ کے کئی رکن ممالک نے تنازع کی وجہ سے ہونے والے جانی نقصان اور اہم انفراسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصان پر تشویش کا اعادہ کیا۔ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے جنگ بندی کی قرارداد کی حمایت کرنے والے ممالک کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ کیف جنگ کے خاتمے کے لئے شراکت داروں کے ساتھ سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔

ہندوستان کا موقف رہا ہے کہ وہ امن کی حمایت کرتا ہے اور اس نے مسلسل مذاکرات اور سفارت کاری پر زور دیتے ہوئے تنازع میں کسی کی طرف داری کرنے سے گریز کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: برطانیہ میں خونی بارش کا انتباہ، آسمان سرخ اور نارنجی ہوگا

روس نے برطانیہ اور فرانس پر جوہری منصوبہ بندی کرنے کا الزام لگایا

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں روس کے مندوب واسیلی نیبنزیا نے دعویٰ کیا کہ برطانیہ اور فرانس، یوکرین کو جوہری ہتھیار یا ”ڈرٹی بم“ فراہم کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ انہوں نے اسے ماسکو کی انٹیلی جنس معلومات قرار دیا۔

نیبنزیا نے الزام لگایا کہ اس مجوزہ منصوبے کے تحت یوکرین کو یورپ کے جوہری ہتھیار اور ٹیکنالوجی منتقل کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے اقدامات ’نیوکلیئر نان پرولیفریشن ٹریٹی‘ (این پی ٹی) کی خلاف ورزی کے دائرے میں آتے ہیں۔ انہوں نے یورپی ممالک پر کیف کو مسلسل فوجی امداد فراہم کر کے تنازع کو طول دینے کا بھی الزام لگایا۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل نے غزہ میں فلسطینیوں کی کھوپڑیوں اور خواتین کی لاشوں پر مشتمل باکس بھیجے

روس کے ان الزامات کو برطانیہ اور فرانس نے فوری طور پر مسترد کر دیا۔ برطانوی وزیر اسٹیفن ڈاؤٹی نے ان دعوؤں کو جھوٹا قرار دیا اور کہا کہ برطانیہ این پی ٹی معاہدے کی ذمہ داریوں اور جوہری پھیلاؤ کو روکنے کے لئے پرعزم ہے۔ فرانس کے مندوب جیروم بونافونٹ نے بھی ان الزامات کو بے بنیاد اور غلط معلومات قرار دے کر خارج کر دیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK