Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہندوستان میں دنیا کی سب سے بڑی جین زی آبادی، جبکہ سیاسی نمائندگی سب سے کم

Updated: August 06, 2026, 12:05 PM IST | New Delhi

ہندوستان میں دنیا کی سب سے بڑی جین زی آباد ہے، جبکہ اس آبادی کی سیاسی نمائندگی سب سے کم ہے، حالانکہ ۲۰۲۹ء کے لوک سبھا انتخابات تک، جین زی کے ملک کی سب سے بڑی بالغ نسل بننے کا امکان ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

جنریشن زیڈ (جین زی) اب صرف انٹرنیٹ رجحانات مرتب کرنے یا نئی اصطلاحات مقبول کرنے تک محدود نہیں رہی۔ پورے ہندوستان میں، یہ تیزی سے عوامی گفتگو کو تشکیل دے رہی ہے اور حکومتوں کو جواب دینے پر مجبور کر رہی ہے۔ امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج اور تعلیم میں زیادہ شفافیت کے مطالبات سے لے کر روزگار، موسمیاتی اقدامات اور حتیٰ کہ ای۲۰ ؍ایتھنول  آمیز ایندھن پر مباحثوں تک، جن زی ملک کے سب سے بااثر آواز رکھنے والے گروہوں میں سے ایک بن کر ابھری ہے۔حالیہ طلبہ کی قیادت میں ہونے والے احتجاجات نے ایک سیاسی حقیقت کو مزید مضبوط کیا ہے کہ جنریشن زیڈ ایک ایسا حلقۂ انتخاب بنتی جا رہی ہے جسے حکومتوں اور سیاسی جماعتیں مزید نظرانداز نہیں کر سکتیں۔

یہ بھی پڑھئے: شمال مشرقی ہند کے نوجوان جاپان کا رخ کررہے ہیں، معمر آبادی کے باعث غیرملکی کارکنوں کی مانگ میں اضافہ

بعد ازاں یہ بڑھتا ہوا اثر و رسوخ ہندوستان کی بدلتی ہوئی آبادیاتی صورت حال میں بھی جھلکتا ہے۔ ۲۰۲۹ء کے لوک سبھا انتخابات تک، جنریشن زیڈ کے ملک کی سب سے بڑی بالغ نسل بننے کا اندازہ ہے، جو اسے ہندوستان کے سب سے بااثررائے دہندہ  میں سے ایک بنا دے گا۔ لیکن کہانی صرف ہندوستان کی تعداد کے بارے میں نہیں ہے۔ اقوام متحدہ کے عالمی آبادیاتی امکانات ۲۰۲۴ء کے مطابق، ہندوستان کے پاس دنیا کی سب سے بڑی جنریشن زیڈ آبادی ہے، جس میں ۲۰۲۶ء میں ۱۴؍-۲۹؍ سال کی عمر کے تقریباً ۴۰۷؍ ملین افراد شامل ہیں، جو چین (۲۶۴ ؍ملین)، پاکستان (۷۹؍ ملین) اور نائیجیریا (۷۶ ؍ملین) سے آگے ہے۔ چونکہ ہندوستان دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے اسی مناسبت سے اسےیہ برتری حاصل ہے۔

یہ بھی پڑھئے: یوٹیوبراور میڈیا کےافراد نے گھر میں جبراً داخل ہوکر فوٹیج بنائی: سی جے پی ترجمان

ایک زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ کیا ہندوستان کے اپنے اہل رائے دہندگان میں جنریشن زیڈ کا حصہ بھی سب سے بڑا ہے؟ ہندوستان کی آبادیاتی پیش گوئی (۲۰۲۶ء) کے تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ ۲۰۲۶ء میں ۱۸؍ تا ۲۹؍ سال کے افراد ہندوستان کی حق رائے دہی کی اہل آبادی کا۲۹؍ اعشاریہ ۲؍ فیصد ہیں۔دوسرے لفظوں میں، ملک میں ہر تین میں سے تقریباً ایک اہل ووٹر کا تعلق جنریشن زیڈ سے ہے۔ تاہم، ہندوستان کے پاس جنریشن زیڈ کی سب سے بڑی آبادی رکھنے والے ممالک میں سب سے کم عمر حلقۂ انتخاب نہیں ہے۔ ایتھوپیا (۴۱؍ اعشاریہ ۸؍ فیصد)، نائیجیریا (۴۱؍ اعشاریہ  ۴؍فیصد)، پاکستان (۳۷؍ اعشاریہ ۳؍فیصد) اور بنگلہ دیش (۳۲؍ اعشاریہ ۳؍فیصد) سبھی کے اہل ووٹرز میں جنریشن زیڈ کا حصہ زیادہ ہے، جو ان کے کم عمر آبادیاتی پروفائل کی عکاسی کرتا ہے۔  
 جنریشن زیڈ کی آبادیاتی تصویر پورے ہندوستان میں یکسر مختلف ہے۔ بڑی ریاستوں میں، ۲۰۲۶ء کی متوقع آبادی کے مطابق، بہار میں جنریشن زیڈ کے ووٹرز کا حصہ سب سے زیادہ ہے، جہاں ۱۸؍ تا۲۹؍ سال کی اہل آبادی کا ۳۶؍ اعشاریہ ۸؍فیصد ہے، اس کے بعد اتر پردیش (۳۳؍اعشاریہ ۹؍فیصد)، جھارکھنڈ (۳۳؍ اعشاریہ۳؍فیصد)، راجستھان (۳۲؍ اعشاریہ ۳؍فیصد) اور مدھیہ پردیش (۳۱؍اعشاریہ ۴؍فیصد) ہیں۔
دوسری جانب، جنوبی ریاستوں میں نسبتاً زیادہ عمر کے ووٹرز ہیں۔ کیرالہ میں جنریشن زیڈ کے ووٹرز کا حصہ سب سے کم ۲۲؍ اعشاریہ ۲؍فیصد ہے، اس کے بعد تمل ناڈو (۲۲؍اعشاریہ  ؍فیصد)، آندھرا پردیش (۲۴؍اعشاریہ ۳؍ فیصد)، ہماچل پردیش (۶۴؍اعشاریہ ۶؍فیصد) اور پنجاب (۲۵؍ اعشاریہ ایک فیصد) ہیں۔ تاہم یہ تضاد ہندوستان کی غیر ہموار آبادیاتی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے، جہاں شمالی اور مشرقی ریاستوں کی آبادی جنوبی ہندوستان کے مقابلے میں اب بھی کم عمر ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK