شہر کے مصروف ترین تجارتی علاقے میں دن دہاڑے ہوئی ۴۰ ؍لاکھ روپے کی سنسنی خیز ڈکیتی کا کلیان کرائم برانچ اور بازار پیٹھ پولیس نے چند ہی روز میں پردہ فاش کرتے ہوئے واردات میں ملوث تمام ۶ ؍ملزمین کو گرفتار کرلیا ہے۔
EPAPER
Updated: September 22, 2026, 12:15 PM IST | Ejaz Abdul Ghani | Kalyan
شہر کے مصروف ترین تجارتی علاقے میں دن دہاڑے ہوئی ۴۰ ؍لاکھ روپے کی سنسنی خیز ڈکیتی کا کلیان کرائم برانچ اور بازار پیٹھ پولیس نے چند ہی روز میں پردہ فاش کرتے ہوئے واردات میں ملوث تمام ۶ ؍ملزمین کو گرفتار کرلیا ہے۔
شہر کے مصروف ترین تجارتی علاقے میں دن دہاڑے ہوئی ۴۰ ؍لاکھ روپے کی سنسنی خیز ڈکیتی کا کلیان کرائم برانچ اور بازار پیٹھ پولیس نے چند ہی روز میں پردہ فاش کرتے ہوئے واردات میں ملوث تمام ۶ ؍ملزمین کو گرفتار کرلیا ہے۔حیرت انگیز طور پر اس ڈکیتی کی منصوبہ بندی کسی پیشہ ور مجرم نے نہیں بلکہ چوری کے الزام میں بغیر تنخواہ ملازمت سے نکالے گئے ایک سابق نوجوان ملازم نے انتقامی جذبے کے تحت کی تھی۔ پولیس نے خفیہ اطلاع اور تکنیکی شواہد کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے سابق ملازم سمیت اس کے تمام ساتھیوں کو گرفتار کرلیا ہے جبکہ ان کے قبضے سے مسروقہ ۴۰؍ لاکھ روپے میں سے ۳۶؍ لاکھ روپے بھی برآمد کرلئے گئے ہیں۔
عیاں رہے کہ ۱۵ ؍ستمبر کو فاروق عطار نام کے دکان دار اپنے ایک ساتھی کے ہمراہ ۴۰؍ لاکھ روپے کی خطیر نقد رقم لےکر آگرہ روڈ پر واقع بینک آف بڑودہ کی مقامی شاخ میں جمع کرانے جا رہے تھے۔ ابھی وہ بینک کے قریب پہنچے ہی تھے کہ۲؍ موٹر سائیکلوں پر سوار ۴؍ نقاب پوش لٹیروں نے ان کا راستہ روک لیا۔لٹیروں نے دونوں پر اچانک حملہ کیا انہیں زمین پر گرا کر پلک جھپکتے ہی پیسوں سے بھرا بیگ چھین کر تیزی سے فرار ہو گئے۔
یہ بھی پڑھئے: مائیکل جیکسن کا دستانہ، شہزادی ڈائنا کا گاؤن ابوظہبی میں نیلام ہوگا
واردات کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے کلیان کرائم برانچ کے سینئر پولیس انسپکٹر اجیت شندے اور بازار پیٹھ پولیس نے فوری طور پر تفتیش کا آغاز کیا۔ جائے وقوع کے سی سی ٹی وی فوٹیج اور تکنیکی شواہد کی چھان بین کے بعد پولیس کا شک اندرونی مخبری پر ٹھہرا۔
تفتیش کے دوران پولیس نے دکان کے موجودہ ملازم شعیب شیخ کو حراست میں لےکر جب کڑی پوچھ گچھ کی تو اس نے سارا کچا چٹھا کھول دیا۔ شعیب نے اعتراف کیا کہ واردات کا ماسٹر مائنڈ کوئی اور نہیں بلکہ دکان کا سابق ملازم سمیر شیخ ہے۔اس سنسنی خیز انکشاف کے فوراً بعد کرائم برانچ کی ٹیموں نے مختلف مقامات پر چھاپے مار کر مرکزی ملزم سمیر شیخ سمیت اس کے پانچوں ساتھیوں آفتاب خان، شاہ نواز انصاری، شعیب شیخ، مجاہد خان اور شاہد شیخ کو گرفتار کر لیا۔ پولیس نے ملزمین کے ٹھکانوں سے لوٹی گئی رقم میں سے ۳۶ ؍لاکھ روپے برآمد کر لئے جبکہ باقی ماندہ رقم اور واردات میں استعمال ہونے والی بائیک کے سلسلے میں کارروائی جاری ہے۔
یہ بھی پڑھئے: سویڈن: ہندنژاد نیلا وکھے پاٹل سویڈش پارلیمنٹ کیلئے منتخب
توہین کا بدلہ لینے کیلئے واردات کو انجام دیا!
پولیس جانچ میں یہ بات سامنے آئی کہ ملزم سمیر شیخ الہاس نگر میں واقع کرانتی فوڈ میں کام کرتا تھا۔کچھ عرصہ قبل دکان مالک فاروق عطار نے اس پر چوری کا شبہ ظاہر کرتے ہوئے اس کی گزشتہ ۳؍ ماہ کی تنخواہ روک لی اور اسے نوکری سے نکال دیا تھا۔ اس توہین کا بدلہ لینے کیلئے سمیر نے دکاندار کو بڑا مالی دھچکا پہنچانے کی ٹھانی۔سمیر کو دکان کے لین دین، نقد رقم کی منتقلی کے اوقات اور بینک لے جانے کے معمول کا بخوبی علم تھا جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس نے اپنے ساتھیوں کی مدد سے لوٹ مار کا یہ منظم خاکہ تیار کیا تھا۔