• Sat, 24 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

ہندوستان کا دیرینہ اصولوں سے انحراف

Updated: November 01, 2023, 12:59 PM IST | Parvez Hafeez | Mumbai

جنگ بندی کی قرارداد کی ووٹنگ سے غیر حاضر رہنے کا ہمارافیصلہ کیا وزیر اعظم نریندر مودی کے ۷؍اکتوبر کے اس موقف کی توثیق ہے کہ ’’ہم پوری ثابت قدمی سے اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہیں؟‘‘

The scene of voting in the United Nations General Assembly. Photo: INN.
اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی میں ووٹنگ کا منظر۔تصویر: آئی این این۔

پچھلے ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں  پیش کی گئی جنگ بندی کی قرارداد کی حمایت میں  ووٹ نہ دینے کا ہندوستان کا فیصلہ نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ یہ ملک کے دیرینہ خارجہ پالیسی اورمشرق وسطیٰ پر ہمارے روائتی موقف سے مکمل انحراف بھی ہے۔یہاں  یہ یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ عرب ممالک کی جانب سے پیش کی گئی یہ قرارداد انسانیت کے ناطے غزہ پر ہورہی مسلسل اسرائیلی بمباری کو رکوانے کی ایک کوشش تھی تاکہ جنگ سے تباہ حال شہریوں  کو خوراک، پانی اور ادویات پہنچائی جاسکیں ۔ جنرل اسمبلی کی اس non-binding قراردار کی ایک علامتی اہمیت سے زیادہ اور کوئی حیثیت نہیں  تھی کیونکہ اسرائیل اس پر عمل کرنے کا پابند نہیں  تھا۔اس طرح کی قرارداد یوکرین کی جنگ رکوانے لئے جنرل اسمبلی میں  پاس کی جاچکی ہے جس کے حق میں  ۱۴۰؍ممالک نے ووٹ دیئے اور پھر بھی روس نے حملے بند نہیں  کئے۔
 جنگ بندی کی قرارداد کی ووٹنگ سے غیر حاضر رہنے کا ہمارا ٖفیصلہ کیا وزیر اعظم نریندر مودی کے ۷؍اکتوبر کے اس موقف کی توثیق ہے کہ ’’ہم پوری ثابت قدمی سے اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہیں ؟‘‘ سوال یہ ہے کہ کیا اسرائیل کی حمایت میں  ہم اتنی دور نکل گئے ہیں  کہ اپنے تاریخی قومی کردار، تہذیبی اقداراور انسانی فرائض کو بھی ہم نے فراموش کردیا ہے؟جنگ و جدل، تشدد و تخریب کاری اور قتل و غارت بھری اس دنیا میں  ہندوستان تو صلح و آشتی، امن و امان اور عالمی بھائی چارہ کا علمبردار سمجھا جاتا تھا۔ ہم اس گاندھی کے پیروکار ہیں  جنہوں  نے کہا تھا کہ اگر آنکھ کے بدلے آنکھ کی پالیسی اپنا لی گئی تو ساری دنیا اندھی ہوجائے گی۔جب یہ قرارداد جنرل اسمبلی میں  پیش کی گئی اس وقت تک غزہ میں  اسرائیلی بربریت میں  ۷؍ہزار سے زیادہ شہری جن میں  تین ہزار معصوم بچے شامل ہیں ، مارے جاچکے تھے، ایک چوتھائی شہر کھنڈرات کے ملبے میں  تبدیل ہوچکا تھا، کھانا، پانی اور بجلی کی سپلائی بند کی جاچکی تھی اور اسپتال میں  زخمیوں  کا علاج بھی ناممکن ہوچکا تھا۔ ایسی قیامت خیز صورتحال میں  مختصر مدتی جنگ بندی کی اپیل پر دستخط کرنے سے ایسی کون سی قیامت آجاتی؟ اس قرارد اد کی حمایت میں  ۱۲۰؍ ممالک نے ووٹ دیئے جن میں  دنیا بھر کے تقریباً تمام ترقی پزیر ممالک شامل تھے۔ جنگ بندی کی حمایت تو فرانس، آئر لینڈ اور اسپین جیسے یورپی ممالک نے بھی کی جو اسرائیل کے حمایتی سمجھے جاتے ہیں ۔ ہندوستان کے سواجنوبی ایشیا کے تمام ممالک نے جنگ بندی کی حمایت میں  ووٹ دیئے۔ ہم اپنی بدلی ہوئی سفارتی ترجیحات کی وجہ سے دنیا میں  کس قدر تنہا ہوتے جارہے ہیں ۔
جنرل اسمبلی میں  جنگ بندی کی ووٹنگ سے غیر حاضر رہنے کے فیصلے کی وضاحت میں  مودی حکومت نے کہا کہ اس میں  ۷؍اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے دہشت گردانہ حملو ں  کی صاف اور واضح طور پر مذمت نہیں  کی گئی تھی۔ نئی دہلی کا یہ نکتہ پوری طرح درست نہیں  ہے کیونکہ قرارداد میں  ایک پورا پیراگراف موجود ہے جس میں  ’’فلسطینیوں  اور اسرائیلی شہریوں  کو نشانہ بنانے والی تشدد کی تمام کارروائیوں  کی جن میں  بے دریغ دہشت گردانہ حملے شامل ہیں  کی مذمت‘‘کی گئی تھی۔ ہندوستان اگرچاہتا تو اس وضاحتی نوٹ کے ساتھ جنگ بندی کی قرارداد کی حمایت میں  ووٹ د ے سکتا تھا کہ مسودے میں  ۷؍اکتوبر کو اسرائیل پر ہوئے حملوں  کے خصوصی تذکرے کی عدم موجودگی پر اسے اعتراض ہے۔ اس وضاحتی نوٹ کو اقوام متحدہ کی اصطلاح میں  Explanation of Vote کہتے ہیں ۔ فرانس نے جنگ بندی کی حمایت میں  ووٹ دیتے وقت اس وضاحتی نوٹ کا استعمال کیا۔ 
ہندوستان نے سرکاری طور پر آج تک حماس کو دہشت گرد تنظیم قرار نہیں  دیا ہے اور نہ ہی اقوام متحدہ میں  ہندوستان کی معاون مستقل نمائندہ نے ایک بار بھی حماس کا نام لیا۔ مجھے تو لگتا ہے کہ ہندوستانی خارجہ پالیسی اس وقت شدید بے سمتی اور کنفیوژن میں  مبتلا ہے۔ مودی سرکار ایک جانب عرب دنیا کے ساتھ اپنے روابط بڑھارہی ہے اور دوسری جانب اسرائیل کو خوش رکھنے کیلئے کچھ بھی کرنے تو تیار ہے۔ ابھی ۲۳؍اکتوبر کو مودی جی نے اردن کے کنگ عبداللہ سے غزہ میں  جاری جنگ پر تبادلہ خیال کیا۔ دونوں  لیڈروں  نے دہشت گردی، تشدد اور شہریوں  کی زندگی کے اتلاف پر تشویش کا اظہار کیا اور سلامتی اور انسانی مسئلے کے فوری حل کیلئےمشترکہ اور منظم کوششوں  پر زور دیا۔ حیرت ہے کہ اردن کے بادشاہ کے ساتھ اس مثبت گفتگوکے چند دنوں  کے اندر ہندوستان نے اس قرارداد کی حمایت میں  دستخط کرنے سے انکار کردیا جو اردن کی جانب سے پیش کی گئی تھی۔
ایک جانب اسرائیل پر حملوں  کے دو دنوں  کے بعد ہی مودی جی اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کو فون پر یہ یقین دہانی کراتے ہیں  کہ اس مشکل گھڑی میں  ہندوستانی قوم اسرائیل کے ساتھ مضبوطی کے ساتھ کھڑی ہے۔دس بارہ دنوں  بعد شاید انہیں  سفارتی توازن برقرار رکھنے کا خیال آتا ہے اور وہ محمود عباس کو فون کرکے غزہ کے اسپتال میں  ہوئی ہلاکتو ں  پر تعزیت پیش کرتے ہیں ۔ وزیر اعظم فلسطینی شہریوں  کے لئے ہندوستان امداد کی فراہمی کی یقین دہانی بھی کراتے ہیں  اور اسرائیل۔فلسطین ایشو پر ہندوستان کے دیرینہ اصولی موقف کو جاری رکھنے کا اعادہ بھی کرتے ہیں ۔ 
میرا سوال یہ ہے کہ اگر ہندوستان اپنے دیرینہ اصولی موقف پر قائم ہے تو وہ جنگ بندی کی اپیل پر ووٹ دینے سے انکار کیسے کرسکتا ہے؟ اگر جنگ جاری رہتی ہے تو بھلا ہمارے امدادی سامان کے ٹرک تباہ شدہ غزہ میں  کیسے داخل ہوسکیں  گے؟ اس وقت دنیا بھر میں  اسرائیلی جارحیت کے خلاف مظاہرے ہورہے ہیں ۔ ساری انسانیت غزہ میں  فوری جنگ بندی کی حمایت میں  چیخ رہی ہے۔ امریکہ میں  یہودیوں  کا ایک بڑا طبقہ سڑکوں  پر نکل کر اسرائیل کی ننگی جارحیت کی مذمت اور فلسطینیوں  کی حمایت کررہا ہے۔خود اسرائیل میں  غزہ میں  ہورہی نسل کشی کو روکنے کے لئے آوازیں  اٹھ رہی ہیں ۔ یہ نیتن یاہو جیسے جنونی کا موقف توہوسکتا ہے کہ جنگ بندی کا مطالبہ کرنا اسرائیل کی مخالفت اور حماس کی حمایت کرنا ہے لیکن مہذب دنیا نے اسے مسترد کرکے صہیونی جال میں  پھنسنے سے انکار کردیا ہے۔
ہندوستان تو فلسطین کا دیرینہ دوست رہا ہے۔ ہندوستان نے تو ہمیشہ جارحیت، جنگ، ناجائز تسلط اور توسیع پسندانہ عزائم کے خلاف آواز بلند کی ہے۔ گوتم بدھ، مہاویر اور گرونانک کی سرزمین کو تو غزہ میں  جاری خوں  ریزی رکوانے کی پہل کرنی چاہئے تھی۔ دنیا کو شانتی کا پیغام تو ہماری دھرتی سے ملنا چاہئے تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK