ہندچین تنازع : مضمرات کو حقیقت پسندی سے دیکھیں

Updated: July 05, 2020, 9:37 AM IST | Arqam Noorulhasan

چین سے مقابلہ کرنے کیلئے جذباتی نعروں اور اقدام سے حالا ت ہمارے حق میںنہیںہوںگے بلکہ حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہماری حکومت کو حالات کا جائزہ لینا ہوگا ، نئے سرے سے بات چیت کادروازہ کھولنا ہوگا ۔ صرف چین کے ساتھ ہی نہیں بلکہ تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ یہی رویہ اوریہی طرز عمل آج کے حالات میںکارگر ثابت ہوسکتا ہے، جنگ ، سبق سکھانے کی دھمکیاں، سرد جنگ کی کیفیت، گولہ بار ی اور سرحدی کشیدگی جیسے معاملات سے حالات نہ ماضی میں بہتر ہوئے تھے اورنہ آج بہتر ہوسکتے ہیں

Protest against China - Pic : INN
چین کیخلاف احتجاج ۔ تصویر : آئی این این

اقتدار میں۶؍ سال مکمل کرنے والی مودی حکومت اور اس کے لیڈروں نے اس دوران داخلی اور خارجی سطح پر جو ماحول تیار کیا ہے وہ اب خود حکومت کیلئے حبس زدہ  ماحول بنتا جارہا ہے۔داخلی سطح پر اس حکومت کے لیڈران نے پہلے اشتعال انگیزیوں اور فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے والے عناصر کی خوب حوصلہ افزائی کی۔ ہجومی تشدد کے ملزموںکوہار پہنانےمیںبھی بی جے پی نے کوئی عار محسوس نہیںکی ۔ملک میںبڑھتے ہوئے نفرت کے ماحول کےخلاف آواز اٹھانے والوں اور اس پر تنقید کرنے والوں کو حکومت  نے اس کثیر رنگی ملک کا خیر خواہ نہیںسمجھا  بلکہ اپنے سوشل میڈیا پر ان کے خلاف پروپیگنڈہ مہم چلا کر انہیں’غدار‘  اور ’ملک دشمن ‘کا خطاب دیا ۔کئی کے خلاف پولیس کارروائی کی راہ ہموار کی گئی ۔کئی کو جھوٹے مقدمات میں پھنسا کرگرفتار کیا گیا۔ جےاین یو اور جامعہ ملیہ جیسے تعلیمی اداروںسے اٹھنے والی حق و انصاف کی آوازوںکوکچلنے کیلئےحکومت نے ہر طرح کی سیاسی و قانونی طاقت اور داؤ پیچ کا استعما ل کیا ۔ سی اے اے اور این آر سی کے خلاف  پُرامن احتجاج کرنے والوںپر فائرنگ کروائی گئی۔ انہیںپولیس سے پٹوایا گیا۔یعنی ہر طرح سے ایک جمہوری ملک میںآمرانہ طرز اقتدار مظاہرہ کیا گیا جہاںحکومت کے خلاف کوئی لب کشائی نہیںکرسکتا ،حکومت کے فیصلوں پر کوئی تنقید نہیں کر سکتا،حکومت کی پالیسیوںپر کوئی انگلی نہیںاٹھا سکتا، زیادتیوں کے خلاف مزاحمت اور اس مزاحمت کا دفاع نہیںکیا جاسکتا۔  داخلی سطح  پریہ حبس زدہ صورتحال  ۲۰۱۴ء کے بعد سے آج تک جاری ہے۔اس صورتحال کی سنگینی کی سیاسی اور غیر سیاسی ا پوزیشن مسلسل نشاندہی کررہا ہے۔
 خارجی سطح  پر یوںتو حکومت کاسال ڈیڑھ سال قبل تک موقف یہ تھا  اور اس کی عالمی سطح پر وزیر اعظم نے تشہیر کرنے میں بھی کوئی کسر نہیںچھوڑی کہ یہ نیا ہندوستان ہے جس کی طرف اہل دنیا امید کی نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔ اس دعوے کی حقانیت ثابت کرنے کیلئے اب تک کیا کیاگیا ہے، اس پر تبصرہ وقت کا ضیاع ہوگا لیکن یہاںیہ واضح رہے کہ اب اس دعوےکے برعکس نتائج سامنے آرہے ہیں۔ خارجی سطح  پر اب تک صرف پڑوسی ملک پاکستان ہی تھاجس کے ساتھ تنازعات اور کشیدگی پر ہمیںعالمی سطح پر حمایت مل رہی تھی ، وہ بھی اس وجہ سے کہ دہشت گردانہ سرگرمیوں سے ہمارا ملک مسلسل متاثرہوتا آیا تھا۔ورنہ کشمیرکے تنازع پر دونوں ممالک کواب تک باہمی بات چیت  ہی کے مشورے دئیے جاتے رہے ہیں۔ جب عالمی سطح پر دئیے جانے والے گفتگوکے اس مشورے کو نظر انداز کرتے ہوئے مودی حکومت نے ریاست جموں کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کردیا اور دفعہ ۳۷۰؍ اور۳۵؍ اے کو منسوخ کیاتویہ فیصلہ بین الاقوامی مذمت کی ز د میںآیا ۔ اب  ہندوستان کوپڑوسی ملک کی جانب سے انجام دی جانے والی دہشت گردانہ سرگرمیوںپر جو عالمی حمایت ملتی آر ہی تھی وہ اس فیصلے پر کی جانے والی مذمت کے پیچھے چلے گئی۔  یہ حکومت کیلئے خارجی سطح پرحبس زدہ ماحول کی تیاری کی شروعات تھی ۔اس کے بعدمسلمانوںکےخلاف بڑھتے ہوئے منافرت اور عصبیت پسندی  کے جذبات کی لہرمیں جب دبئی میں ملازمت کرنے والے کچھ  ہندوستانیوں کے ذریعے وہاں مسلم مخالف ٹویٹ کئے جانے کا علم امارات کی شہزادی ہندالقاسمی کوہوا تو انہوںنے فوری طورپر اس کا نوٹس لیتے ہوئے تند وتیز لہجہ میںنفرت پھیلانے والے عناصر کو تنقیدکا نشانہ بنایا تھا اور انہیںواضح کردیاکہ اسلام کی غلط تشریح کے ذریعے مسلمانوں کو نشانہ بنانے کا رویہ  ناقابل قبول  ہے۔اس پر ہندوستان کو وضاحت دینی پڑی  ۔یہ ایک ایسے خلیجی ملک کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات میں  در آنے والی وہ لفظی تلخی تھی جسے بلا مبالغہ’دوسرا ہندوستان‘ کہا جاسکتا  ہے۔اب  نیپال اور چین کے ساتھ سرحدی تنازعات جو سامنے آئے ہیںان میںبھی حکومت کی جانب سےکوئی ایسا واضح موقف نہیں سامنے آرہا ہےجوملک کی پوزیشن کو واضح کرسکے۔نیپال نےاپنے نئے نقشےمیںکئی ہندو ستانی علاقوں کو اپنا بتایا ہے، کس بنیاد پر بتایا ہے،کیا محرکات تھے جن سے نیپال نے  اپنی سرحدوںکا ازسر نوتعین کیا ہے؟پھرچین کے ساتھ لداخ اور گلوان میں جو صورتحال پیش آئی وہ ہندوستان کیلئے غیر متوقع نہیںتھی ۔ چین ان علاقوں میں مسلسل اپنی سرگرمیاں اور فوجی نقل وحرکت بڑھا رہاتھا۔  وہاںتصادم ہوا۔ ۲۰؍ ہندوستانی فوجی جان سے ہاتھ دھوبیٹھے ۔ متعدد زخمی ہوئے لیکن حکومت یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیںہوئی کہ چین ہماری حدود میں نہ صرف گھسا ہے بلکہ کچھ حصہ پر اس نے قبضہ بھی کرلیا ہے۔وزیر اعظم کا گزشتہ دنوں آل پارٹی میٹنگ میںیہ بیان کہ ملک کی زمین پر کوئی قبضہ نہیںہوا ہے، یہ کہیں نہ کہیں اور کسی نہ کسی طرح چین کے موقف کی تائید کرنے والا بیان ہے۔   سیاسی اور غیر سیاسی اپوزیشن حکومت کی اس غلطی کی بھی مسلسل نشاندہی کررہا ہے۔
 ہندچین تنازع کے نتیجے میںبات چینی سامان کے بائیکاٹ کی مہم تک پہنچ چکی  ہے۔یہ عجیب صورتحال ہے۔کیاکسی ملک کے سامان کا بائیکاٹ کرکے مسئلے کا حل تلاش کیاجاسکتا  ہے یا اس کے خلاف محاذ قائم کیاجاسکتاہے؟یہ سائنس اور ٹیکنالوجی سے عاری ماضی کے اس دور میںممکن ہوسکتاتھا جب ملکوں کے  درمیان میلو ں کے فاصلے تھے لیکن آج کے زمانے میںجبکہ دنیا ایک عالمی گاؤں بن چکی ہے ، یہ کسی صورت ممکن نہیں ہےکہ کسی ملک کی برآمدات کا بائیکاٹ کرکے اسے سبق سکھایاجائے ۔ اس سے عارضی طور پر انتقامی جذبات کی تسکین تو کی جاسکتی ہےلیکن مستقل طورپر اس کے سنگین اور تباہ کن نتائج سے بچا نہیں جاسکتا۔ یہاںواحدحل معاملے پر مل کربات چیت سے ہی نکل سکتا ہے۔نہ جنگ کسی مسئلے کا حل ہے اور نہ ’ ایک انچ بھی نہیں دیں گے‘ ، یا ’سبق سکھا کر رہیںگے ‘جیسے جذباتی  اور بے نتیجہ نعروںسے کوئی مثبت صورت سامنے آسکتی ہے۔اس وقت صورتحال یہ ہےکہ حکومت عوامی جذبات کے تحت چین کو جواب دےرہی ہے یا دینا چاہتی ہے۔چینی سامان اور ایپس کے بائیکاٹ کی یہ مہم   ا سی کا نتیجہ ہےلیکن دیکھا یہ جانا چاہئے کہ چین اس وقت کہاںکھڑاہے؟وہ ہم سے ٹیکنالوجی میںکئی گنا آگے ہے  اور اس بات سے تو ملک کے کسی بچے کو بھی انکار نہیں ہوگا ۔ اس سے مقابلہ کرنے کیلئے جذباتی نعروں اور اقدام سے حالا ت ہمارے حق میںنہیںہوںگے بلکہ حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہماری حکومت کو حالات کا جائزہ لینا ہوگا ۔ نئے سرے سے بات چیت کادروازہ کھولنا ہوگا۔ صرف چین کے ساتھ ہی نہیں بلکہ تمام پڑوسی  ممالک کے ساتھ یہی رویہ اوریہی طرز عمل آج کے حالات میںکارگر ثابت ہوسکتا ہے۔جنگ ، سبق سکھانے کی دھمکیاں، سرد جنگ کی کیفیت، گولہ بار ی اور سرحدی کشیدگی  جیسے معاملات سے حالات نہ ماضی میں بہتر ہوئے تھے اورنہ آج بہتر ہوسکتے ہیں۔
  ہم غور کریں تو معلوم ہوگا کہ آج وطنی جذبات کے تحت اٹھایاجانے والا کوئی بھی قدم  صرف تنازع کی شدت کا باعث بنتا ہے۔ہمارےاور دیگر ممالک کے لیڈران جب ملک میں کھڑے ہوکر بات کرتے ہیںتووطنی اور عوامی جذبات کو بنیاد بناتے ہیںاور یہی لیڈران  جب کسی بین الاقوامی پلیٹ فارم پر اکٹھا ہوتے ہیںتوباہمی تعلقات پر بات ہوتی ہے،مشترکہ قدروںکو موضوع بنایاجاتا ہے،تجارت اور کاروبار کے امکانات تلاش کئے جاتے ہیں۔اس پر غور کریں۔جذبہ حب الوطنی الگ چیزہے اورجذبہ انسانیت ایک بالکل الگ چیز ۔ملک کے عوا م کو حب الوطنی کا پیغام دیاجائے گا لیکن جب غیر ممالک کے ساتھ معاملات کئےجائیں گی توجذبہ حب الوطنی کی جگہ جذبہ انسانیت لے لے گا۔یہ وہ حقیقت ہےجس کا اظہار عالمی لیڈران  اس وقت کرتے ہیںجب وہ بین الاقوامی پلیٹ فارموں پر ہوتے ہیں۔  یہاںاعتراف کیا جاتا ہےکہ جنگ مسئلے کا حل نہیںہے اور تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کیاجانا چاہئے لیکن حب الوطنی کے جذبہ کے تحت ’کوئی ہماری طرف آنکھ اٹھاکر نہیںدیکھ سکتا ...جیسا  نعرہ بلند کیاجاتا ہے۔چین کے ساتھ تنازع اپنی جگہ۔وزیر اعظم کا لیہہ جاکر زخمی فوجیوںکی ہمت افزائی اپنی جگہ لیکن یہی حقیقت ہمارے مدنظر رہے تو بہتر ہےکہ چین کے ساتھ انسانی جذبہ کی بنیاد پر معاملہ کیا جائے کیونکہ اس سے ہماری معیشت بھی وابستہ ہے اورہماری سرحدیں بھی ۔چین کےساتھ یہ تنازع بھی ملک کو ایک حبس زدہ  ماحول میںلاکھڑے گاجس کا مضمون کے ا بتدائی حصہ میں ذکر کیاگیا ہے۔چین پر بھی انہی باتوں کا اطلاق ہوتا ہے۔ ان سے چین مستثنیٰ نہیں ہے۔ یہ  زمانہ سیاست سے بالاترہوکر سوچنے کازمانہ ہےکیونکہ انسانیت  اور انسانیت کی بھلائی آج تمام سیاسی تقاضوںپر مقدم ہوچکی  ہے۔ کورونا وبا سے بھی ہمیںیہی پیغام ملا ہے

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK