Inquilab Logo Happiest Places to Work

تبدیل شدہ، تیز اور تیکھی کانگریس

Updated: August 24, 2026, 2:13 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

’’چھاتروں کی گونج‘‘ کے تحت راہل گاندھی اب تک چار جلسے کرچکے ہیں۔ پہلا کوٹا میں ہوا تھا۔ دوسرا دہرا دون میں منعقد کیا گیا۔

Rahul Gandhi. Picture: INN
راہل گاندھی۔ تصویر: آئی این این

’’چھاتروں کی گونج‘‘ کے تحت راہل گاندھی اب تک چار جلسے کرچکے ہیں۔ پہلا کوٹا میں ہوا تھا۔ دوسرا دہرا دون میں منعقد کیا گیا۔ تیسرے کا اہتمام پریاگ راج میں ہوا جبکہ چوتھا پونے میں برپا ہوا۔ پونے کا جلسہ اس لئے مختلف تھا کہ یہ تمام چھاتروں کیلئے نہیں بلکہ صرف چھاتراؤں کیلئے تھا۔ جیسے جیسے یہ سیریز آگے بڑھ رہی ہے، اس کے جلسوں کی گونج بھی دور دور تک سنائی دے رہی ہے اور اس میں شریک ہونے والوں کا جوش و خروش بھی بڑھ رہا ہے۔ سیاسی نقطۂ نظر سے دیکھیں توپونے میں کانگریس کا اثرورسوخ اب نہیں ہے۔ فی الحال یہاں سے لوک سبھا کی نمائندگی بی جے پی سے وابستہ مرلی دھر موہول کررہے ہیں جبکہ صرف پونے شہر کی بات کریں تو ۸؍ اسمبلی حلقوں میں ایک بھی حلقے کی نمائندگی کانگریس کے پاس نہیں ہے۔ ۸؍میں سے ۶؍حلقوں کی نمائندگی بی جے پی کررہی ہے جبکہ دیگر ۲؍ حلقوں میں این سی پی (اجیت) اور این سی پی (شرد) ہے۔ پھر کیوں راہل نے چھاتروں کی گونج کیلئے پونے کا انتخاب کیا؟ کوٹا، دہرادون اور پریاگ راج کے بارے میں بھی اس زاویئے سے سوچا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایران کا آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے فیس لینے کا فیصلہ

اس کا جواب شاید یہ ہو کہ راہل کے خیال میں پورے ملک پر اس طرح چھا جانا چاہئے کہ پارٹی عوام کی پہلی پسند کا درجہ حاصل کرلے۔ اس کوشش کا نتیجہ دیکھئے کہ اب کانگریس ویسی نہیں ہے جیسی اب سے ڈیڑھ دو سال پہلے تک تھی۔ اب اسکے تیور کافی جارحانہ ہیں۔ وہ میٹنگ کے کمروں سے زیادہ سڑکوں پر ہے۔ اس کے فیصلے بھی دوٹوک اور فوری ہوگئے ہیں (وزیر اعظم کی رہائش گاہ پر راہل اور دیگر کانگریسیوں کا دھرنا اور پیلٹ گن سے زخمی ہونے والے نوجوان کو لے کر ایف آئی آر درج کروانے کیلئے پولیس اسٹیشن جانا، دھرنا دینا اور اپنی بات منوا لینا اس کی مثال ہے)۔ یہ بھی واضح ہوچکا ہے کہ پارٹی میں زیادہ تر فیصلے راہل کررہے ہیں۔ یہ بھی کسی سے مخفی نہیں ہے کہ راہل کی ٹیم منصوبہ بناتی ہے، راہل اس کو منظور کرتے ہیں اور پوری پارٹی پیش رفت کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: سوامی وِویکانند اور پنڈت نہرو کے مجسمے

وندے ماترم پر کانگریس کے موقف سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ پارٹی نہ صرف جلد اور ہر طرح کے ابہام سے پاک فیصلے کررہی ہے بلکہ اپنے موقف پر پوری قوت کے ساتھ اٹل رہتی ہے۔ اس میں ڈھلمل یقینی نہیں ہے۔ اس کے فیصلوں میں قطعیت آگئی ہے۔ ایک آدھ کو چھوڑ کر اس کے تمام لیڈران یک جان اور یک زبان دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ بھی روزمرہ کا مشاہدہ ہے کہ کھرگے اور گاندھی فیملی کے لوگ مکمل طور پر ہم آہنگ ہیں۔ الزام تھا کہ پارٹی میں طاقت کے ایک سے زائد مراکز ہیں۔ اب ویسا نہیں ہے۔ فی الحال کہیں کوئی ’’مَت بھید‘‘ نہیں ہے اور ملک بھر میں ماحول بھی اچھا بن رہا ہے جس میں راہل کو مرکزیت حاصل ہے۔ اس فعالیت اور یگانگت کا کتنا سیاسی اور انتخابی فائدہ پارٹی کو ملے گا یہ کہنا فی الحال مشکل ہے مگر آثار اچھے ہیں۔ یہ کانگریس کی بدلی ہوئی حکمت عملی کا نتیجہ ہے جس کا اظہار راہل نے ۸؍ جون کی ’’انڈیا‘‘ اتحاد کی میٹنگ میں کیا تھا کہ روایتی طریقوں سے الیکشن جیتنا ممکن نہیں ہے، اب واحد راستہ سڑکوں پر اُترنا اور مزاحمت کو تیز کرنا ہے۔ پتہ نہیں حلیف جماعتوں کے دل میں کیا ہے مگر کانگریس اسی پر عامل ہے لہٰذا اِس کا اعتماد بڑھ رہا ہے، قبولیت بڑھ رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK