Inquilab Logo Happiest Places to Work

بیجنگ میں ہیومنائڈ روبوٹس نے کئی انسانی ریکارڈ توڑ دیئے

Updated: August 24, 2026, 2:30 PM IST | Agency | Beijing

چین کے ہیومنائیڈ روبوٹس نے سنیچر کو بیجنگ میں اولمپکس جیسے ’’عالمی ہیومنائیڈ روبوٹ گیمز ‘‘کے پہلے ہی دن انسانوں کے قائم کردہکئی  ریکارڈ توڑ دیئے جن میں یوسین بولٹ کا۱۰۰؍ میٹر دوڑ کا عالمی ریکارڈ بھی شامل ہے۔

Humanoid boxing match. Picture: INN
ہیومنائڈ کا باکسنگ کا مقابلہ۔ تصویر: آئی این این
چین کے ہیومنائیڈ روبوٹس نے سنیچر کو بیجنگ میں اولمپکس جیسے ’’عالمی ہیومنائیڈ روبوٹ گیمز ‘‘کے پہلے ہی دن انسانوں کے قائم کردہکئی  ریکارڈ توڑ دیئے جن میں یوسین بولٹ کا۱۰۰؍ میٹر دوڑ کا عالمی ریکارڈ بھی شامل ہے۔منتظمین کے مطابق اس مقابلے میں۲؍ ہزار سے زیادہ ہیومنائیڈ روبوٹس حصہ لے رہے ہیں۔۵؍روزہ یہ کھیل اب دوسرے سال میں داخل ہو چکے ہیں ۔ ان کا مقصد جدید روبوٹکس کے شعبے میں چین کی تیز رفتار ترقی کی نمائش ہے، ایسے وقت میں جب امریکہ اور چین کے درمیان ٹیکنالوجی کی دوڑ مزید تیز ہو رہی ہے۔ ان مقابلوں میں دوڑ، ٹیبل ٹینس اور فٹ بال سمیت۵۱؍ مقابلے اور ایک ہزار  سے زیادہ مسابقات شامل ہیں۔یہ کھیل نیشنل اسپیڈ اسکیٹنگ اوول میں منعقد ہو رہے ہیں، جسے ۲۰۲۲ء  کے سرمائی اولمپکس کیلئے تعمیر کیا گیا تھا۔چین کے سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق مقابلوں میں ’’ لائٹننگ‘‘ نامی ایک روبوٹ نے۱۰۰؍ میٹر کی دوڑ۹ء۳۲؍ سیکنڈ میں مکمل کرکے انسانی عالمی ریکارڈ توڑ دیا ہے۔چینی اسمارٹ فون کمپنی آنر کے تیار کردہ اس ہیومنائیڈ روبوٹ نے اس سے قبل ایک آزمائشی دوڑ  میں ۵ء۱۴؍ میٹر فی سیکنڈ کی زیادہ سے زیادہ رفتار حاصل کی تھی۔
 

روبوٹ کی کارکردگی نے یوسین بولٹ کے۵۸ء۹؍ سیکنڈ کے مردوں کے۱۰۰؍میٹر عالمی ریکارڈ کو پیچھے چھوڑ دیا، جو انہوں نے۱۷؍سال قبل برلن میں ہونے والی عالمی ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں قائم کیا تھا۔ چین ہیومنائیڈ روبوٹس کو ایک ابھرتی ہوئی صنعت کے طور پر فروغ دے رہا ہے۔ پالیسی ساز اور کمپنیاں اس امید پر سرمایہ کاری کر رہی ہیں کہ مصنوعی ذہانت اور ہارڈویئر میں ترقی سے مینوفیکچرنگ، لاجسٹکس اور صارفین سے متعلق شعبوں میں ان روبوٹس کا استعمال تیزی سے بڑھایا جا سکے گا۔

یہ بھی پڑھئے: ایران کا آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے فیس لینے کا فیصلہ

’لائٹننگ ‘نے اپریل میں بیجنگ ہاف میراتھن بھی۵۰؍منٹ۲۶؍سیکنڈ میں جیتی تھی  جو مردوں کے عالمی ریکارڈ سے بھی کم وقت تھا۔ ہاف میراتھن کے وقت روبوٹ کا قد۱۶۹؍سینٹی میٹر اور ٹانگوں کی لمبائی ۹۵؍ سینٹی میٹر تھی۔ موجودہ کھیلوں کیلئے ریسرچرس نے اس کی ٹانگوں کی لمبائی میں مزید۱۰؍ سینٹی میٹر کا اضافہ کیا ہے۔ ۵؍روزہ کھیلوں میں۲؍ ہزار سے زیادہ ہیومنائیڈ روبوٹس حصہ لے رہے ہیں۔ سنیچر کو روبوٹ گیمس کی افتتاحی تقریب میں منتظمین اور روبوٹ تیار کرنے والی کمپنیوں نے دعویٰ کیا کہ چینی ہیومنائیڈ روبوٹس نے کئی انسانی عالمی ریکارڈ کو توڑ دیا ہے۔ اس موقع پر سیکڑوں ہیومنائیڈ روبوٹس نے میدان میں قطاروں کی شکل میں مارچ کرتے ہوئے ہم آہنگی کا شاندار مظاہرہ کیا۔اسٹینڈنگ ہائی جمپ میں ایک ہیومنائیڈ روبوٹ نے۸۸ء۲؍ میٹر کی اونچائی عبور کی جو گزشتہ سال ہونے والے پہلے روبوٹ گیمز میں کسی ہیومنائیڈ روبوٹ کی۹۵؍۰؍میٹر کی بہترین کارکردگی سے کہیں زیادہ ہے۔ اس روبوٹ نے کیوبا کے جاویئر سوتومایور کا ۱۹۹۳ء کا ۴۵ء۲؍میٹر کا انسانی عالمی ہائی جمپ ریکارڈ بھی پیچھے چھوڑ دیا۔ دونوں روبوٹس بیجنگ میں قائم ایکس ہیومنائیڈ کمپنی کے تیار کردہ تھے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK