چین کے ہیومنائیڈ روبوٹس نے سنیچر کو بیجنگ میں اولمپکس جیسے ’’عالمی ہیومنائیڈ روبوٹ گیمز ‘‘کے پہلے ہی دن انسانوں کے قائم کردہکئی ریکارڈ توڑ دیئے جن میں یوسین بولٹ کا۱۰۰؍ میٹر دوڑ کا عالمی ریکارڈ بھی شامل ہے۔
EPAPER
Updated: August 24, 2026, 2:30 PM IST | Agency | Beijing
چین کے ہیومنائیڈ روبوٹس نے سنیچر کو بیجنگ میں اولمپکس جیسے ’’عالمی ہیومنائیڈ روبوٹ گیمز ‘‘کے پہلے ہی دن انسانوں کے قائم کردہکئی ریکارڈ توڑ دیئے جن میں یوسین بولٹ کا۱۰۰؍ میٹر دوڑ کا عالمی ریکارڈ بھی شامل ہے۔
روبوٹ کی کارکردگی نے یوسین بولٹ کے۵۸ء۹؍ سیکنڈ کے مردوں کے۱۰۰؍میٹر عالمی ریکارڈ کو پیچھے چھوڑ دیا، جو انہوں نے۱۷؍سال قبل برلن میں ہونے والی عالمی ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں قائم کیا تھا۔ چین ہیومنائیڈ روبوٹس کو ایک ابھرتی ہوئی صنعت کے طور پر فروغ دے رہا ہے۔ پالیسی ساز اور کمپنیاں اس امید پر سرمایہ کاری کر رہی ہیں کہ مصنوعی ذہانت اور ہارڈویئر میں ترقی سے مینوفیکچرنگ، لاجسٹکس اور صارفین سے متعلق شعبوں میں ان روبوٹس کا استعمال تیزی سے بڑھایا جا سکے گا۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کا آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے فیس لینے کا فیصلہ
’لائٹننگ ‘نے اپریل میں بیجنگ ہاف میراتھن بھی۵۰؍منٹ۲۶؍سیکنڈ میں جیتی تھی جو مردوں کے عالمی ریکارڈ سے بھی کم وقت تھا۔ ہاف میراتھن کے وقت روبوٹ کا قد۱۶۹؍سینٹی میٹر اور ٹانگوں کی لمبائی ۹۵؍ سینٹی میٹر تھی۔ موجودہ کھیلوں کیلئے ریسرچرس نے اس کی ٹانگوں کی لمبائی میں مزید۱۰؍ سینٹی میٹر کا اضافہ کیا ہے۔ ۵؍روزہ کھیلوں میں۲؍ ہزار سے زیادہ ہیومنائیڈ روبوٹس حصہ لے رہے ہیں۔ سنیچر کو روبوٹ گیمس کی افتتاحی تقریب میں منتظمین اور روبوٹ تیار کرنے والی کمپنیوں نے دعویٰ کیا کہ چینی ہیومنائیڈ روبوٹس نے کئی انسانی عالمی ریکارڈ کو توڑ دیا ہے۔ اس موقع پر سیکڑوں ہیومنائیڈ روبوٹس نے میدان میں قطاروں کی شکل میں مارچ کرتے ہوئے ہم آہنگی کا شاندار مظاہرہ کیا۔اسٹینڈنگ ہائی جمپ میں ایک ہیومنائیڈ روبوٹ نے۸۸ء۲؍ میٹر کی اونچائی عبور کی جو گزشتہ سال ہونے والے پہلے روبوٹ گیمز میں کسی ہیومنائیڈ روبوٹ کی۹۵؍۰؍میٹر کی بہترین کارکردگی سے کہیں زیادہ ہے۔ اس روبوٹ نے کیوبا کے جاویئر سوتومایور کا ۱۹۹۳ء کا ۴۵ء۲؍میٹر کا انسانی عالمی ہائی جمپ ریکارڈ بھی پیچھے چھوڑ دیا۔ دونوں روبوٹس بیجنگ میں قائم ایکس ہیومنائیڈ کمپنی کے تیار کردہ تھے۔