Inquilab Logo Happiest Places to Work

سوامی وِویکانند اور پنڈت نہرو کے مجسمے

Updated: August 24, 2026, 2:03 PM IST | Professor Sarwar Ul Huda | Mumbai

سوامی وویکانند اور پنڈت نہرو، زمانی اعتبار سے قریب بھی ہیں اور دور بھی۔ سوامی جی کے انتقال کے وقت نہرو کی عمر ۱۲؍ سال تھی۔ اس طرح اُنہیں ایک زمانہ ملا بھی اور نہیں بھی ملا۔ پھر بھی دونوں میں فکری مماثلت ہے۔ نہرو نے وویکانند کو آزادی کے سیاق میں فکر و نظر کا پیشوا بتایا تھا۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

آج جے این یو پرشاسن کے سامنے سے گزرتے ہوئے میرے قدم رک گئے۔ دائیں طرف کو پنڈت نہرو کا مجسمہ ہے۔ مجسمہ کی رونمائی ۱۴؍ نومبر ۲۰۰۵ء کو اُس وقت کے وزیراعظم منموہن سنگھ کے دست مبارک سے ہوئی تھی۔ اس موقع پر یونیورسٹی کے چانسلر کرن سنگھ اور مرکزی وزیر ارجن سنگھ بھی موجود تھے۔ اس طرف سے پہلے بھی گزرنا ہوا ہے مگر آج نگاہ نہرو کے مجسمے کی طرف چلی گئی، اور محسوس ہوا کہ جیسے کوئی نسبت ہے جو کھینچے لئے جا رہی ہے۔ پرشاسن کی عمارت کی بائیں جانب سوامی وویکا نند کا مجسمہ ہے جو ایک کھلی جگہ پر ہے۔ وویکا نند کے مجسمے کی رونمائی وزیراعظم نریندر مودی نے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے ۱۲؍ نومبر ۲۰۲۰ء کو کی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: تبدیلیٔ مذہب کا ہو ّا، متعلقہ قانون اور حقائق

پنڈت نہرو اور وویکانند کے مجسمے دو سمتوں میں ضرور نصب ہیں مگر وہ آمنے سامنے ہیں۔ دونوں کی نگاہیں جھکی ہوئی ہیں۔ فرق یہ ہے کہ پنڈت نہرو کے قدم لگتا ہے کہ آگے کی طرف بڑھ رہے ہیں یا بڑھنا چاہتے ہیں۔ وویویکانند کا مجسمہ دوسری کیفیت سے دو چار کرتا ہے۔ اس کیفیت کو روحانیت کا نام بھی دیا جا سکتا ہے۔ پنڈت نہرو کا مجسمہ درختوں کے کچھ پتوں سے چھپ گیا ہے مگر دیکھنے والی نگاہ دیکھ ہی لیتی ہے۔ پنڈت نہرو اوروویکا نند کے مجسمے کی ذرا فاصلے سے یہ یکجائی تاریخی اور نظریاتی طور پر بہت کچھ بیان کرتی ہے۔

وویکا نند ۴؍ جولائی ۱۹۰۲ء کو رخصت ہوئے۔ انہیں صرف ۳۹؍ سال کی زندگی ملی۔ سوامی جی کے انتقال کے وقت پنڈت نہرو کی عمر ۱۲؍ سال تھی۔ پنڈت نہرو کو سوامی جی سے ملنے کا موقع نہیں ملا لیکن انہوں نے اپنی کتاب ڈسکوری آف انڈیا میں سوامی وویکانند کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ یہ حصہ کتاب کا اہم ترین حصہ ہے جس میں سوامی وویویکا نند کے تئیں عقیدت اور محبت بھی ہے اور ان کی زندگی اور تعلیمات سے نئی نسل کو سبق لینے کا مشورہ بھی موجود ہے۔ پنڈت نہرو نے مہاتما گاندھی کے بعد سوامی جی کے بارے میں اتنی تفصیل سے لکھا ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ جیل کی مشقت سے بھری زندگی میں انہیں سوامی وویکا نند کی شخصیت اور خیالات نے کتنا متاثر کیا تھا۔ مجھے دونوں شخصیات کے مجسموں کو دیکھ کر محسوس ہوا کہ جیسے کوئی مکالمہ جاری ہے۔ یہ بھی تاریخ کا ایک اہم موڑ ہے جب وقت نے مجسمے کی صورت میں دونوں کو کسی تعلیمی ادارے میں یکجا کر دیا ہے۔ وقت نے اپنی ضرورت کے مطابق دونوں شخصیات کے درمیان فکری اور نظریاتی طور پر قربتوں اور فاصلوں کو دیکھنے اور دکھانے کی کوشش کی ہے لیکن اس کوشش میں شاید وہ سرا کبھی کبھی ہاتھ سے چھوٹ گیا ہے جو دونوں کے یہاں وطن کے تعلق سے موجود ہے۔ اپنے وطن سے گہری محبت کے ساتھ ساتھ انسان دوستی کا ایک ایسا تصور دونوں کے یہاں ملتا ہے جو انہیں بین الاقوامی سطح پر انسانیت کا علمبردار بناتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’کہ ہے ساری مخلوق کنبہ خدا کا‘‘

یہ بات اب بار بار لکھنے اور کہنے کی ہے کہ پنڈت نہرو نے وویکانند کو تحریک آزادی کے سیاق میں فکر و نظر کا پیشوا بتایا اور یہ کہ انہوں نے سائنس اور روحانیت کو یکجا کر دیا تھا۔ پنڈت نہرو اور وویویکا نند کے درمیان فکر و خیال کی سطح پر اتنی مماثلت ہے کہ دونوں کو ایک دوسرے کا تکملہ کہا جا سکتا ہے۔ دونوں نے ہندوستان کے روشن مستقبل میں کی نہ صرف تمنا کی تھی بلکہ عملی سطح پر اپنا کردار بھی ادا کیا۔ قدیم ہندوستان کی تہذیبی وراثت کے تعلق سے دونوں کے یہاں روشن خیالی موجود ہے۔ قدامت جدیدیت کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہے۔ ڈسکوری آف انڈیا میں پنڈت نہرو سوامی جی کے بارے میں لکھتے ہیں: ’’ مجھے نہیں معلوم کہ موجودہ نسل میں سے کتنے لوگوں نے سوامی وویکا نند کی تقریریں اورتحریریں پڑھی ہیں لیکن میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ میری نسل کے بہت سے لوگ ان سے بہت زیادہ متاثر ہوئے تھے اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر وہ سوامی وویکانند کی تحریروں اور تقریروں کو بھی دیکھیں تو اس سے موجودہ نسل کے لئے بہت فائدہ ہوگا اور وہ ان سے بہت کچھ سیکھیں گے۔ یہ شاید جیسا ہم میں سے کچھ لوگوں نے کہا ہمیں اس آگ کی جھلک دیکھنے کے قابل بنائینگی جو سوامی ویکاکانند کے دماغ اور دل میں بھڑک رہی تھی۔‘‘

سائنس اور روحانیت کو ایک ساتھ لے کر چلنے کی خواہش ایک معنی میں مغربی دنیا کو ہندوستان کی طرف سے ایک تحفہ ہے۔ یہ ایک ایسی روش تھی جس میں انسانیت کا احترام تھا۔ سوامی وویکانند انسانیت کی خدمت کو سب سے بڑا مذہب سمجھتے تھے اور یہ بھی سمجھتے تھے کہ کمزور طبقے کو ساتھ لئے بغیر ملک اور قوم کی ترقی ممکن نہیں۔ پنڈت نہرو کے بیانات بھی سوامی جی کے خیالات سے بہت قریب ہیں۔ قدیم ہندوستان کی تہذیبی وراثت کے بارے میں جو کچھ لکھا اور کہا جا رہا ہے اس کو وویکانند کے خیالات کی روشنی میں دیکھنے کی ضرورت پہلے سے اب کہیں زیادہ ہے۔ ظاہر ہے کہ تحریر ہی اتنے دنوں کے بعد کسی کے نظریے کا حوالہ بن سکتی ہے۔ سوامی جی نے ملک اور بیرون ملک میں اپنشد اور ویدانت کے فلسفے پر جو کچھ کہا تھا اس میں جو وسعت ہے اس کی ضرورت اب دنیا کو زیادہ ہے۔

یہ بھی پڑھئے: انتہائی غریب طبقات کے غذائی حقوق پر حملہ

پنڈت نہرو نے ویویکا نند کی یاد میں جو تقریر کی ہے اس کو سننے اور پڑھنے کے بعد سمجھا جا سکتا ہے کہ تحریک آزادی کس طرح سے مختلف حوالوں کے ساتھ جاری و ساری تھی۔ مذہبی اقدار اور تصورات وسیع تر سیاق میں ملک کی تہذیبی قوتوں کو تقویت پہنچا رہے تھے۔ پنڈت نہرو جدیدیت کے علمبردار تھے اور اسی کے ساتھ ساتھ قدیم ہندوستان کے مزاج داں اور رمز شناس بھی تھے۔ ویویکا نند کی ۳۹؍ سالہ زندگی جن فلسفیانہ خیالات سے بھری ہوئی ہے، پنڈت نہرو نئی نسل کو ان کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ اسے پڑھ کر ایسا لگتا ہے کہ جیسے ویویکا نند کے تعلق سے پنڈت نہرو کی اپیل اور گزارش آج کے نوجوانوں کے لئے بھی اسی طرح اہمیت کی حامل ہے۔ فکر و خیال کی سطح پر میں ان دو شخصیات کے مجسموں کے درمیان کھڑا ہوں۔

مکالمے کا حسن صرف اتفاق میں نہیں بلکہ اختلاف میں بھی ہے۔ سیاست کی اپنی ایک مجبوری ہے جو ماضی کی تعبیر میں اکثر اوقات حقیقت سے دور جا پڑتی ہے۔ وویکانند اور پنڈت نہرو کے درمیان یہ خاموش مکالمہ ایک اشارہ ہے کہ نظریاتی طور پر زمانے کو دیر تک گمراہ نہیں کیا جاسکتا۔ تاریخ ہی تاریخ کو آئینہ دکھاتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK