Inquilab Logo Happiest Places to Work

طاقت کے بعد متانت

Updated: July 25, 2026, 2:57 PM IST | Mumbai

۲۰؍ جولائی کو دہلی پولیس نے طاقت کا استعمال کیا تھا۔ ظاہر ہے کہ حکومت نے اس کی ہدایت دی ہوگی۔اس کے نتیجے میں طلبہ اور مظاہرین پر بہت زیادتی ہوئی۔ متاثرین کے ساتھ انصاف تبھی ہوسکے گا جب ان پر ہونے والی زیادتیوں کی غیر جانبدارانہ جانچ کرائی جائیگی اور خاطی اہلکار اور افسران کو قانون کے دائرہ میں لاکر سزا دِلوائی جائیگی۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

۲۰؍ جولائی کو دہلی پولیس نے طاقت کا استعمال کیا تھا۔ ظاہر ہے کہ حکومت نے اس کی ہدایت دی ہوگی۔اس کے نتیجے میں طلبہ اور مظاہرین پر بہت زیادتی ہوئی۔ متاثرین کے ساتھ انصاف تبھی ہوسکے گا جب ان پر ہونے والی زیادتیوں کی غیر جانبدارانہ جانچ کرائی جائیگی اور خاطی اہلکار اور افسران کو قانون کے دائرہ میں لاکر سزا دِلوائی جائیگی۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ بھیڑ پر قابو پانے کے پولیس کے اقدامات پر از سر نو غور کیا جائے اور پولیس کا وہ طرزِ عمل بدلنے کی فکر کی جائے جو  شہریوں کو دشمن سمجھ لینے سے متعلق ہے۔ ۲۰؍ جولائی کا سنسد مارچ تب کیا گیا جب جنتر منتر پر طلبہ کے دھرنے کو ایک ماہ گزر چکا تھا۔ ایک ماہ کے دوران حکومت کا کوئی نمائندہ نہ تو مظاہرین کی خیریت پوچھنے کیلئے وہاں پہنچا تھا نہ ہی اُن سے گفتگو کی ضرورت محسوس کی گئی۔ حکومت حرکت میں تب آئی جب سی جے پی کے مارچ کو عوام و خواص کی غیر معمولی حمایت حاصل ہوئی اور طلبہ نے پولیس کی زیادتیوں کو منظر عام پر لا کر ثابت کردیا کہ خطا اُن کی نہیں تھی، وہ تو پُرامن تھے اور پولیس کے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے باوجود اُنہوں نے قانون ہاتھ میں لینے کی ادنیٰ سی بھی کوشش نہیں کی۔ اس سے جہاں طلبہ کی بے گناہی اور پولیس کی زیادتی ثابت ہوتی ہے وہیں  ایک پیغام یہ بھی ملتا ہے کہ نئی نسل کو غیر ذمہ دار، عجلت پسند اور عاقبت نااندیش سمجھنے کا طریقہ اب ترک کردینا چاہئے۔ کہتے ہیں نوجوانوں کا خون گرم ہوتا ہے۔ یہ صحیح ہے مگر اِن نوجوانوں میں جو ٹھہراؤ اور تحمل دیکھنے کو ملا وہ بے مثال ہے۔ وطن عزیز کو، ارباب اقتدار کو اور ارباب اختیار کو اس بات پر فخر کرنا چاہئے کہ ہندوستان کی نئی نسل ذمہ دار ہے، سوجھ بوجھ رکھتی ہے۔ وہ بنگلہ دیش اور نیپال جیسی نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایک احتجاج، دو نمایاں خواتین چہرے

حکومت نے پہلے طاقت کا استعمال کیا او راب ’’متانت‘‘ سے پیش آرہی ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ یہ خالی خولی متانت ہے یا اس میں کچھ دم بھی ہے۔ جو بھی ہو، ۲۰؍ جولائی کے بعد گفتگو پر آمادہ ہونے والی حکومت ۲۰؍ جون کے فوراً بعد آمادہ ہوجاتی تو طلبہ کو اتنی مشکلات اور اذیتوں سے گزرنا پڑتا نہ ہی سونم وانگ چک، نیہا ، آمین اور منیش کو تین ہفتے بھوک ہڑتال کرنی پڑتی۔ ہمیں ایسا لگتا ہے کہ حکومت نے اس احتجاج کو سنجیدگی سے نہیں لیا تھا۔ رفتہ رفتہ جب بھیڑ بڑھنے لگی تب بھی اُس نے یہی سمجھا ہوگا کہ بچے ہیں، تھک ہار کر گھروں کو لوَٹ جائینگے، اسی لئے وزیر اعظم غیر ملکی دوروں پر بھی جاتے رہے اور جنتر منتر نظر انداز ہوتا رہا۔ اس طرح پہلے تو حکومت نے نظر انداز کیا، پھر نوٹس لیا بھی تو اس خیال کے تحت کہ ان کو منانا مشکل نہیں ہے۔ جب ان کو منانا مشکل ہونے لگا تو حکومت نے سنسد مارچ کے دن طاقت کے استعمال کے ذریعہ ڈرانا چاہا۔ جب طلبہ ڈرے نہیں تب حکومت فکرمند ہوئی اور بات چیت کا راستہ اپنانے پر مجبور ہوئی۔ تب تک ایک ضد بھی پیدا ہوچکی تھی جو اَب بھی قائم ہے کہ وزیر تعلیم کا استعفے نہیں ہوگا، اس کے علاوہ کچھ چاہئے تو مانگ لو۔ کل کی میٹنگ میں کاکروچ جنتا پارٹی کے نمائندوں نے واضح کردیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے پر بات نہیں ہوگی، دیگر مطالبات پر ہوسکتی ہے۔ دیکھنا ہے کہ حکومت اپنا موقف تبدیل کرتی ہے یا نہیں۔ اگر وہ اپنی ضد پر قائم رہی تو احتجاج رُکنے والا نہیں۔  

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK