Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایک احتجاج، دو نمایاں خواتین چہرے

Updated: July 24, 2026, 1:05 PM IST | Mumbai

دو خواتین کی داد دیئے بغیر نہیں رہا جاسکتا۔ ایک ہیں گیتانجلی انگمو۔ یہ کہنا کہ گیتانجلی، سونم وانگ چک کی اہلیہ ہیں، اُن کے تعارف میں بخل کے مترادف ہوگا۔

Gitanjali Angmo and Neha Bora. Photo: INN
گیتانجلی انگمو اور نیہا بورا۔ تصویر: آئی این این

دو خواتین کی داد دیئے بغیر نہیں رہا جاسکتا۔ ایک ہیں گیتانجلی انگمو۔ یہ کہنا کہ گیتانجلی، سونم وانگ چک کی اہلیہ ہیں، اُن کے تعارف میں بخل کے مترادف ہوگا۔ وہ سونم کی اہلیہ تو ہیں مگر اپنے آپ میں بھی بہت کچھ ہیں۔ اُن کا تازہ تعارف یہ ہے کہ جب ۲۰؍ دن کی بھوک ہڑتال کے بعد اُن کے شوہر کو زبردستی اسپتال لے جایا گیا تو گیتانجلی نےوہ کیا جسے انگریزی میں ’’لیڈنگ فرام دی فرنٹ‘‘ کہتے ہیں۔ وہ خود محاذ پر  آگئیں اور کہا کہ ۲۰؍ جولائی کے سنسد مارچ میں سونم شامل نہیں ہوسکے تو وہ خود مارچ کی قیادت کریں گی۔ اُنہوں نے ایسا ہی کیا۔اتنا ہی نہیں وہ تسلسل کے ساتھ اپنے شوہر کے اسپتال داخلے یا اُن کی صحت کے تعلق سے ’’قابل اعتبار جانکاری‘‘ نہ ملنے کے پیش نظر دہلی ہائی کورٹ سے بھی رجوع ہوتی رہیں۔ گیتانجلی ہیومن ایکس لنس (انسانی مہارت) کے عنوان پر ڈاکٹریٹ اور زیویئر انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ سے ایم بی اے کرچکی ہیں۔ وہ اُس انسٹی ٹیوٹ کی شریک بانی، ڈین اور سی ای او ہیں جو اُن کے شوہر نے لداخ کے ماحولیاتی تحفظ کیلئے قائم کی ہے اور جس کا نام ہے: ’’ہمالین انسٹی ٹیوٹ آف آلٹر نیٹیوز، لداخ‘‘ (ایچ آئی اے ایل)۔ ایجوکیٹر کہلانے والی گیتانجلی رینیو ایبل انرجی، ہیلتھ کیئر نیز بزنس کنسلٹنسی کے شعبوں میں بھی  سرگرم رہتی ہیں۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کی فیلو ہونے کے علاوہ ’’ٹرانسفارم انڈیا‘‘ کی بانی بھی ہیں۔ یہ ادارہ سماج میں پائیدار تبدیلی کے مقصد سے قائم کیا گیا ہے۔ بالاسور (اُدیشہ) کے ایک پنجابی خاندان میں جنم لینے والی گیتانجلی مسلسل سرگرم رہنے والی اُن خواتین میں سے ہیں جو دوسروں کیلئے مثال بنتی ہیں۔ ۲۰۲۲ء میں انہیں نیتی آیوگ کا ’’ویمن ٹرانسفورمنگ انڈیا‘‘ ایوارڈ بھی دیا جاچکا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: طلبہ دوستی بہت ضروری

دوسری خاتون وہ ہیں جو ابھی طالب علم ہیں مگر غیر معمولی حوصلے، صبر اورجذبۂ قربانی کی مثال پیش کرچکی ہیں۔ سونم وانگ چک کے ساتھ جو طلبہ پہلے دن سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے تھے اُن میں شامل تھی نیہا بورا۔ آسام سے تعلق رکھنے والی نیہا طلبہ تنظیم آل انڈیا اسٹوڈنٹس اسوسی ایشن (آئیسا)  کی نیشنل پریسیڈنٹ اور جے این یو میں پی ایچ ڈی کی اسکالر ہیں۔ انہوں نے سلی گڑی (بنگال) کے دہلی پبلک اسکول سے اسکولی تعلیم مکمل کی اور پھر دہلی یونیورسٹی سے سوشل سائنس میں گریجویشن کیا۔  ساتھی طالب علموں منیش اور آمین کے ساتھ ۲۳؍ ویں دن بھوک ہڑتال ختم کرنے والی نیہا کی سب سے بڑی خوبی حق کے ساتھ کھڑا رہنے کی جرأت اور حق کا ساتھ دینے کی بے باکی ہے جو اُنہیں ممتاز کرتی ہے۔ تعلیم کے تجارتی مقاصد، ہجومی تشدد، لوَ جہاد، عمر خالد اور شرجیل امام کی قید و بند، فلسطین کے حالات اور غزہ کے محاصرہ کے خلاف نیہا نے جب بھی لب کشائی کی، نہایت بے باکی سے اظہارِ خیال کیا۔ ’’آزاد فلسطین‘‘ کی وکالت کرنے والی نیہا کے بارے میں یہ معلومات مختلف میڈیا رپورٹس اور سوشل میڈیا پوسٹس سے ماخوذ ہیں۔ ایسی ہی کئی دوسری پوسٹس میں اُن کے خلاف بھی کافی کچھ کہا گیا ہے جس کی وجہ آپ ہم سب جانتے ہیں۔ بھوک ہڑتال کے دوران ہر خاص و عام پر واضح ہوگیا کہ یہ طالبہ دھن کی پکی ہے اور اپنے ارادوں پر اٹل رہنا جانتی ہے اسی لئے جنتر منتر کے احتجاج کا نمایاں چہرا بن کر اُبھری ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK