• Wed, 30 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

حالات بدل رہے ہیں، مزید بدلیں گے!

Updated: September 30, 2026, 3:46 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

ملک میں بہت کچھ ہورہا ہے۔ بہت کچھ ہونے کے امکانات بھی روشن ہیں۔ جو ہورہا ہے اُمید جگانے کیلئے کافی ہے۔ جو ہونے والا ہے وہ اُمید کو مستحکم کرنے کیلئے کافی ہوگا۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

ملک میں بہت کچھ ہورہا ہے۔ بہت کچھ ہونے کے امکانات بھی روشن ہیں۔ جو ہورہا ہے اُمید جگانے کیلئے کافی ہے۔ جو ہونے والا ہے وہ اُمید کو مستحکم کرنے کیلئے کافی ہوگا۔ راہل گاندھی نے جب حکمراں محاذ پر ’’ووٹ چوری‘‘ کا الزام عائد کیا تھا اور خصوصی پریس کانفرنسوں کے ذریعہ ’’ووٹ چوری‘‘ کے شواہد پیش کئے تھے تب حکمراں محاذ اور الیکشن کمیشن نے یہ سوچ کو خود کو تسلی دی ہوگی کہ بلی تھیلے سے باہر ضرور آگئی ہے مگر ایک پارٹی کا لیڈر (جو لوک سبھا میں لیڈر آف اپوزیشن بھی ہے) الزام عائد کرتا ہے تو اس کے الزامات کو سیاسی کہہ کر اُن کے اثر کو کم کیا جاسکتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ حکمراں جماعت کے لیڈروں نے منظر عام پر آکر راہل گاندھی کے الزامات کو مسترد کیا اور الیکشن کمیشن نے تفصیل، وضاحت اور جوابی شواہد کے بغیر اُن کی باتوں کو خارج کیا۔ مگر، جب ۲۳؍ ستمبر کو انڈین ایکسپریس نے کچا چٹھا کھول دیا کہ گیانیش کمار کے ساتھی کمشنروں (سکھ بیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی) نے ۱۰؍ ماہ میں ۱۴؍ مرتبہ اعتراض کیا تھا کہ کمیشن میں کام کاج قانون اور ضابطے کے مطابق نہیں ہورہا ہے نیز دیگر انکشافات کے ذریعہ یہ واضح ہوا کہ الیکشن کمیشن میں چیف الیکشن کمشنر کی من مانی چل رہی ہے نیز مذکورہ دو کمشنروں نے مرکزی کابینی سکریٹری سے بھی شکایت کی تھی تو ان انکشافات کے بعد سے حالات اتنی تیزی سے بدلے کہ ان کی تفصیل ضبط تحریر میں لانا، ہوا کو پکڑنے جیسا لگتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:اب توجنگل راج کی اصطلاح بھی بے حقیقت ہو گئی ہے

کانگریس نے تو پہلے سے مہم چلا رکھی تھی، دیگر پارٹیوں نے بھی گزشتہ ایک ہفتے کے دوران اپنی شمولیت بڑھائی، آج ’’انڈیا‘‘ اتحاد کی میٹنگ ہونے جارہی ہے، کل کانگریس ورکنگ کمیٹی کا اجلاس ہوا، ادھر کاکروچ جنتا پارٹی نے بھی محاذ کھول دیا اور ۲؍ اکتوبر کو ممبئی میں جیل بھرو آندولن کا اعلان کیا، سی پی آئی کی طلبہ تنظیم ’’آئیسا‘‘ بے خوفی کے ساتھ میدان عمل میں ہے اور جنتر منتر پر مظاہرہ کی اجازت طلب کی جارہی ہے۔ یہ انتباہ بھی دے دیا گیا ہے کہ اگر اجازت نہیں ملی تو ملک کے ہر شہر میں جنتر منتر ہوگا۔ہرچند کہ ان تمام سرگرمیوں کی وجہ الیکشن کمیشن کی خود کو آئین سے بالاتر سمجھ لینےکی حماقت ہے مگر ان کی وجہ سے ملک کی سیاسی فضا بھی بدل گئی ہے جو پہلے سے بدل رہی تھی بالخصوص دھرمیندر پردھان کے استعفے کی مانگ کے وقت سے۔ سیاسی فضا بدلنے کی وجہ سے سیاسی حالات کے بدلنے کا اشارہ بھی مل رہا ہے۔ یہ سب اسلئے ہوا کہ دھاندلی حد سے بڑھ چکی تھی۔ اختیارات کا غلط استعمال ہورہا تھا اور آئینی اداروں کو تباہ کیا جارہا تھا۔ ملک اور سماج کو ایک خاص رنگ میں رنگنے کیلئے دھماچوکڑی مچانے والے بھی اب کہیں نہ کہیں تمام باتوں کو سمجھنے لگے ہیں کہ جمہوری نظام کو بدلا جارہا ہے اور اگر اس نظام کو اسی طرح بدلا جاتا رہا تو ہر خاص و عام کیلئے مسئلہ پیدا ہوگا۔ آپ دیکھ رہے ہیں کہ بدلی ہوئی فضا میں چیخ پکار کرنے والے بھی نچلا بیٹھنے پر مجبور ہوئے، دھونس جمانے والے بھی دُبک گئے اور اقتدار و اختیار سے کھلواڑ کرنے والے سناٹے میں ہیں۔ ان کی حالت رنگے ہاتھوں دھر لئے جانے والوں جیسی ہے۔ آئندہ چند دنوں اور ہفتوں میں مزید تبدیلیوں کے روشن امکان سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK