اتوار کو اپنی ۵۵؍ و یں سالگرہ منانے والے ایلون مسک کو ماہِ سالگرہ میں دو خوشیاں میسر آئیں۔ اول برتھ ڈے کی خوشی دوئم دُنیا کا پہلا کھرب پتی بننے کی خوشی۔
EPAPER
Updated: July 02, 2026, 2:57 PM IST | Mumbai
اتوار کو اپنی ۵۵؍ و یں سالگرہ منانے والے ایلون مسک کو ماہِ سالگرہ میں دو خوشیاں میسر آئیں۔ اول برتھ ڈے کی خوشی دوئم دُنیا کا پہلا کھرب پتی بننے کی خوشی۔
اتوار کو اپنی ۵۵؍ و یں سالگرہ منانے والے ایلون مسک کو ماہِ سالگرہ میں دو خوشیاں میسر آئیں۔ اول برتھ ڈے کی خوشی دوئم دُنیا کا پہلا کھرب پتی بننے کی خوشی۔ برتھ ڈے کی خوشی سمجھ میں آتی ہے۔ مغرب میں ولادت کا دن منانے کا چلن پرانا ہے۔ ہماری مشرقی تہذیب میں بالخصوص ہندوستانی سماج میں اس کا رواج نہیں تھا، لوگوں کو اپنی سالگرہ کا دن یاد تک نہیں ہوتا تھا۔ یاد آ جاتا تو وہ یاد کرکے رہ جاتے تھے، بس، مگر، مغرب کی دیکھا دیکھی ہمارے یہاں بھی برتھ ڈے منانا شروع ہوگیا۔
ایلون مسک کی دوسری خوشی کھرب پتی بننے کی ہے۔ یہ اعزاز، اگر یہ اعزاز ہے تو، انہیں اپنی کمپنی اسپیس ایکس کے آئی پی او کی وجہ سے ملا۔ نہ ملتا تب بھی وہ دنیا کے امیر ترین شخص تو تھے ہی۔ امیر ہونے میں برائی نہیں ہے مگر امیر ہونا تب زیب دیتا ہے جب دل بھی امیر ہو۔ ایلون مسک کا معاملہ یہ ہے کہ دولت ہی بٹوری جا رہی ہے اور دل اتنا تنگ ہے کہ وہ امداد امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے دُنیا کے مختلف ملکوں میں تقسیم کی جاتی تھی، وہ کسی اور نے نہیں، ایلون مسک ہی نے گزشتہ سال رکوائی۔ یاد کیجئے ٹرمپ نے دوبارہ صدر بننے کے بعد ایلون مسک کو اپنی ٹیم میں شامل کیا تھا۔ تب مسک کو ’’غیر ضروری خرچ‘‘ سے نمٹنے کی ذمہ داری دی گئی تھی تاکہ امریکہ کو ’’گریٹ اگین‘‘ بنانے میں ٹرمپ کو مدد ملے۔ مسک نے غیر ملکوں میں تقسیم کی جانے والی غذائی امداد (یو ایس ایڈ USAID) بند کردی۔
یہ بھی پڑھئے: ’’اب اُنہیں ڈھونڈ چراغِ رُخِ زیبا لے کر‘‘
فروری ۲۵ء میں یہ اعلان سن کر غذائی امداد کی ایجنسیوں کے ہوش اڑ گئے تھے مگر نہ تو مسک کو ہوش آیا نہ ہی ٹرمپ کو۔ ورلڈ فوڈ آپریشن کیلئے امریکہ کم و بیش ۴ء۵؍ بلین ڈالر عطیہ کرتا تھا جس سے جنوبی سوڈان، یوگانڈا، لائبیریا اور سئیرا لیون جیسے ملکوں میں فلاحی کام چلتا تھا۔ مسک کی نگاہ میں یو ایس ایڈ ’’مجرمانہ پروگرام‘‘ تھا۔ یو ایس ایڈ کی رقم مسک کی جیب سے نہیں جارہی تھی۔ اُن میں ذرا بھی فراخدلی ہوتی تو اسے جاری رہنے دیتے۔ ’’امداد بندی‘‘ اعلان پر بل گیٹس فاؤنڈیشن نے کہا تھا کہ کئی دہائیوں کے بعد اب پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کی ہلاکت بڑھ جائیگی، اگر امداد رُکی اور رُکی رہی تو ۲۰۴۵ء تک ۱۲؍ ملین بچوں کو ہلاکت کا خطر ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے: تیرا کیا ہوگا نیتن یاہو؟کچھ سوچا ہے؟
اس پر ہندوستانی نژاد امریکی رُکن کانگریس رو کھنہ نے بھی تنقید کی اور کہا تھا کہ مسک نے لاکھوں بچوں کو ’’سزائے موت‘‘ سنائی ہے۔ یہ سن کر مسک چراغ پا ہوگئے اور رو کھنہ پر مقدمہ چلانے کی دھمکی دی تھی۔ اگر وہ مقدمہ دائر بھی کردیتے تو کوئی فرق نہ پڑتا کیونکہ اعداد و شمار اور حقائق رو کھنہ کے ساتھ تھے مسک کے ساتھ نہیں۔ کھنہ کا موقف تھا کہ اس امدادی اسکیم کے بند ہونے کی وجہ سے ۴۵؍ لاکھ بچوں کی حالت پہلے سے بھی خستہ ہوجائیگی۔ اس پر مسک نے دعویٰ کیا کہ آپ کسی ایک بچے کا نام بتا دیں جو یو ایس ایڈ نہ ملنے سے فوت ہوا ۔ فوراً ہی نیویارک ٹائمس کے کالم نگار نکولاس کرسٹوف نے بچوں سمیت کئی لوگوں کے نام ظاہر کردیئے تھے۔
ایسے لوگوں کے امیر ترین اور کھرب پتی بننے سے انسانیت کا کوئی بھلا نہیں ہوسکتا۔ دولت آجانے کے بعد انہیں یاد نہیں رہتا کہ اس دولت پر کسی اور کا بھی حق ہے جو فاقہ کررہا ہے، بے گھر ہے اور جسے ہزار مسائل گھیرے ہوئے ہیں۔