Updated: June 24, 2026, 9:04 PM IST
| New York
دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک نے کھرب پتی بننے کے چند ہی دن بعد اپنی دولت میں زبردست کمی دیکھی ہے۔ اسپیس ایکس کے حصص میں شدید فروخت کے باعث کمپنی کی مارکیٹ ویلیو تین تجارتی سیشنز میں ۶۰۰؍ ارب ڈالر سے زیادہ کم ہوگئی، جبکہ مسک کی مجموعی دولت میں ۱۰۰؍ ارب ڈالر سے زائد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ اگرچہ بلومبرگ کے مطابق مسک اب کھرب پتی نہیں رہے، تاہم وہ بدستور دنیا کے امیر ترین فرد ہیں اور ان کی دولت اب بھی اگلے تین امیر ترین افراد کی مشترکہ دولت سے زیادہ ہے۔
دنیا کے امیر ترین شخص اور پہلے کھرب پتی بننے والے ایلون مسک نے چند ہی دن بعد اپنی دولت میں تاریخی کمی کا سامنا کیا ہے۔ بلومبرگ بلینیئرز انڈیکس کے مطابق اسپیس ایکس اور ٹیسلا کے سربراہ کی مجموعی دولت میں صرف چند دنوں کے دوران ۱۰۰؍ ارب ڈالر سے زائد کی کمی واقع ہوئی، جس کے نتیجے میں وہ اس نایاب مالیاتی حیثیت سے باہر ہو گئے۔ یہ کمی ایسے وقت میں سامنے آئی جب اسپیس ایکس کے حصص مسلسل تین تجارتی سیشنز کے دوران شدید دباؤ کا شکار رہے اور کمپنی کی مارکیٹ ویلیو میں مجموعی طور پر ۶۰۰؍ ارب ڈالر سے زیادہ کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ حصص کی قیمت ۱۵۰؍ ڈالر سے نیچے چلی گئی، جو وہ سطح ہے جس پر کمپنی کے حصص پہلی بار آئی پی او کے دن کھلے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: پہلے افغان خلاء باز عبدالاحد مومند نہیں رہے، جنہوں نے کبھی خلاء میں قرآن شریف کی تلاوت کی تھی
ایلون مسک رواں ماہ کے آغاز میں اس وقت دنیا کے پہلے کھرب پتی قرار دیے گئے تھے جب اسپیس ایکس نے نیسڈیک پر تاریخی آغاز کیا اور کمپنی کی مارکیٹ ویلیو تقریباً ۳؍ ٹریلین ڈالر تک جا پہنچی۔ ۱۶؍ جون تک اسپیس ایکس کی قدر تقریباً ۹۹ء۲؍ ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئی تھی، تاہم اس کے بعد عالمی ٹیکنالوجی مارکیٹ میں فروخت کے دباؤ نے کمپنی کے حصص کو شدید متاثر کیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق سرمایہ کاروں کی تشویش اس وقت مزید بڑھ گئی جب مسک نے اعتراف کیا کہ اسپیس ایکس کو خلا میں مصنوعی ذہانت (AI) سے چلنے والے ڈیٹا سینٹرز بھیجنے کے منصوبے پر عمل درآمد کے لیے بھاری سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔ کمپنی نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ آئندہ بانڈ پیشکش سے حاصل ہونے والے فنڈز کا ایک حصہ اے آئی انفراسٹرکچر کی تعمیر پر خرچ کیا جائے گا۔
اسپیس ایکس کے علاوہ ٹیسلا کے حصص بھی دباؤ کا شکار رہے۔ ٹیسلا کے شیئرز تقریباً ۵؍ فیصد تک گر گئے کیونکہ کمپنی ایک نئی امریکی حفاظتی تحقیقات کی زد میں آ گئی ہے۔ تحقیقات ایک ایسے حادثے کے بعد شروع کی گئی ہیں جس میں ٹیسلا ماڈل ۳؍ مبینہ طور پر جدید ڈرائیور معاون نظام استعمال کرتے ہوئے ٹیکساس میں ایک گھر سے ٹکرا گئی، جس کے نتیجے میں ۷۶؍ سالہ خاتون ہلاک ہو گئی۔ بلومبرگ کے مطابق ایلون مسک کی مجموعی دولت اب ۹۵۷؍ ارب ڈالر رہ گئی ہے، جبکہ فوربس اب بھی ان کی دولت کا تخمینہ تقریباً ۱ء۱؍ کھرب ڈالر لگاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: آبنائے ہرمز: تجارتی جہازوں کی آمدورفت جنگ سے قبل سطح کے۲۰؍ فیصد زیادہ پربحال
بلومبرگ کے اعداد و شمار کے مطابق انہوں نے صرف چند گھنٹوں کے دوران ۱۱۸؍ ارب ڈالر سے زیادہ کی دولت کھو دی۔یہ نقصان اس قدر بڑا تھا کہ اس کا حجم ہندوستان کے امیر ترین شخص گوتم اڈانی کی مجموعی دولت کے برابر یا اس سے بھی زیادہ بتایا جا رہا ہے، جس کا تخمینہ تقریباً ۱۱۷؍ ارب ڈالر ہے۔ بلومبرگ کے مطابق اسپیس ایکس اب بھی مسک کا سب سے قیمتی اثاثہ ہے۔ کمپنی میں ان کے تقریباً ۳۸؍ فیصد حصص موجود ہیں، جن میں ۸ء۴؍ ارب شیئرز اور ۳۵۰؍ ملین اضافی اسٹاک آپشنز شامل ہیں۔ منگل تک اسپیس ایکس میں ان کے حصص کی مالیت تقریباً ۷۴۴؍ ارب ڈالر تھی، جو ان کی مجموعی دولت کا تقریباً ۸۰؍ فیصد ہے۔ دوسری جانب ٹیسلا میں ان کے حصص کی مالیت تقریباً ۱۵۸؍ ارب ڈالر بتائی گئی ہے، تاہم شیئر مارکیٹ میں حالیہ اتار چڑھاؤ نے اس سرمایہ کاری کی قدر کو بھی متاثر کیا ہے۔
اگرچہ مسک کی دولت میں نمایاں کمی آئی ہے، پھر بھی وہ دولت کی عالمی درجہ بندی میں پہلے نمبر پر موجود ہیں۔ بلومبرگ کے مطابق دنیا کے دوسرے امیر ترین شخص، لیری پیج، کی مجموعی دولت تقریباً ۲۹۷؍ ارب ڈالر ہے، جو مسک کی موجودہ دولت سے بہت کم ہے۔ فوربس کی جانب سے مسک کو اب بھی کھرب پتی قرار دیے جانے کے بعد ماہر اقتصادیات پیٹر شیف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’’اسپیس ایکس میں ۵ء۱۶؍ فیصد کی کمی ہوئی۔ کاغذ پر ایلون مسک کو تقریباً ۱۵۰؍ بلین ڈالر کا نقصان ہوا، جو وارن بفیٹ کی مجموعی مالیت سے زیادہ ہے۔ تاہم، وہ اب بھی دنیا کے واحد کھرب پتی ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: جنگ بندی معاہدہ :ایران کے کچھ منجمد اثاثےفعال
اگرچہ مختلف مالیاتی ادارے مسک کی دولت کے بارے میں مختلف تخمینے پیش کر رہے ہیں، لیکن اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ حالیہ دنوں میں ان کی دولت میں آنے والی کمی جدید کارپوریٹ تاریخ کی سب سے بڑی دولت میں کمیوں میں شمار کی جا سکتی ہے۔ تاہم، اس کے باوجود ایلون مسک بدستور دنیا کے امیر ترین فرد ہیں اور ان کی دولت اب بھی عالمی سطح پر دوسرے ارب پتیوں سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔