Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’اب اُنہیں ڈھونڈ چراغِ رُخِ زیبا لے کر‘‘

Updated: June 27, 2026, 4:30 PM IST | Shahid Latif | Mumbai

ایک جدول، انڈیکس ایسا بھی بنایا جاتا ہے جس میں قابل احترام ہونے کی صلاحیت کے پیش نظر ملکوں کی درجہ بندی کی جاتی ہے۔ قابل احترام ملک ہی نہیں ہوتے، افراد بھی ہوتے ہیں مگر انہیں کس معیار پر پرکھا جائے؟

Photo: INN
تصویر: آئی این این

مختلفادارے دُنیا بھر کے ملکوں کو الگ الگ معیارات پر جانچتے اور پرکھتے ہیں۔ جمہوریت، انسانی حقوق، شہری حقوق، جی ڈی پی، فی کس جی ڈی پی، آزادیٔ صحافت، آزادیٔ مذہب، آزادیٔ نسواں، فرد کی نجی آزادی، خلوت کا تحفظ اور دیگر۔ اسی طرح مختلف ادارے یہ بھی جاننے کیلئے کوشاں رہتے ہیں کہ حفاظتی نقطۂ نظر سے، خواتین کی حفاظت کے نقطۂ نظر سے، ترقیاتِ انسانی کے نقطۂ نظر سے، تہذیب و ثقافت اور تعلیم و تربیت کے نقطۂ نظر سے یا سیاحت کے نقطۂ نظر سے کون سے ممالک سر فہرست ہیں۔ بعض ادارے  یہ بھی جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ کن ملکوں کے عوام خوش اور مطمئن رہتے ہیں اور کن ملکوں میں ایمانداری اور سچائی کو فوقیت دی جاتی ہے۔ 

ان اداروں کی رپورٹیں وقتاً فوقتاً منظر عام پر آتی ہیں جن میں فطری تقاضے کے طور پر ہمیں اپنے ملک کے بارے میں جاننے کی جستجو ہوتی ہے کہ ہم کس مقام پر ہیں۔ایسا ہی ایک ادارہ، ’’یو ایس نیوز اینڈ ورلڈ ‘‘ ہے جو یہ اعلان کرتا ہے کہ کون سے ممالک سب سے زیادہ قابل احترام تسلیم کئے جاتے ہیں۔ اس ادارہ کی فہرست میں جن ملکوں کے نام سب سے اوپر ہیں اُن میں زیادہ تر یورپی ممالک ہیں اس لئے اس تجزیہ کی صحت شبہ سے بالاتر نہیں ہے مگر جس ملک کو اس نے سب سے قابل احترام قرار دیا اگر اُس کو جاننے کی کوشش کی جائے تو شبہ کچھ کم ہوجاتا ہے۔ حالیہ  درجہ بندی (رینکنگ) میں جس ملک کو سرفہرست رکھا گیا وہ سوئزر لینڈ ہے۔ یہ مضمون نگار کبھی سوئزر لینڈ نہیں گیا مگر جو لوگ جاچکے ہیں اُن کے تاثرات سے توثیق ہوتی ہے کہ جو اعزاز دیا گیا سوئزر لینڈ اس کا حقدار ہے۔

یہ بھی پڑھئے: جمہوریت، اخلاقیات اور ایمانداری

کسی ملک کے بارے میں، اُس سرزمین پر قدم رکھے بغیر جاننا ہو تو اس کا بہترین طریقہ سفر ناموں کا مطالعہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کے دور میں بھی، جسے کتاب سے دوری کا دور کہا جاتا ہے، سفر ناموں پر مشتمل کتابوں کی کھپت کافی زیادہ ہے۔ اہل اُردو کتابوں سے لوَ لگائیں تو یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ وہ بھی سفر نامے پڑھنا پسند کرینگے۔ سوئزر لینڈ کا جو سفر نامہ اس مضمون نگار کی نظر سے گزرا وہ حکیم محمد سعید دہلوی کا سفر نامہ ہے جس میں حکیم صاحب نے اس ملک کی بے شمار خوبیوں کا تفصیلی ذکر کیا ہے۔ مثلاً:

’’رواداری کا اُصول اس ملک کے نظریات کا جزو لاینفک ہے، بیک وقت چار زبانیں (جرمن فرانسیسی، اطالوی اور لاطینی نژاد رومانش) بولی جاتی ہیں مگر ایک زبان بولنے والے کو دوسری زبان بولنے والوں سے کبھی کوئی عداوت نہیں ہوئی، جھیلوں، دریاؤں اور نہروں کا ملک سوئزر لینڈ جمہوری اُصولوں کے لحاظ سے اپنی مثال آپ ہے، یہاں ہر مسئلے کا فیصلہ استصواب رائے سے ہوتا ہے، حتیٰ کہ جب کوئی ٹیکس لگایا جاتا ہے تو اُسے نافذ کرنے کیلئے بھی عوام کی رائے لی جاتی ہے، یہ ملک قدرت کے عطیات سے مالامال ہے مگر ان عطیات کی محافظ حکومت نہیں ہے یہاں کے لوگ ہیں جنہوں نے اپنے ملک کی خوبصورتی اور حسن کو چار چاند لگا دیئے ہیں۔ ان کی ایک خصوصیت اعتماد کرنے کی بھی ہے، وہ طبعاً اعتماد کرتے ہیں۔‘‘ 

سفرنامہ پڑھئے تو ایسی کئی باتیں مختلف حوالوں سے جا بجا لکھی ہوئی ملتی ہیں۔ مَیں نے یہاں جو سطور نقل کی ہیں وہ کسی ایک صفحہ سے ماخوذ نہیں ہیں۔ میرا طریقہ یہ ہے کہ مطالعہ کے وقت قلم اور کاغذ لئے رہتا ہوں اور اہم باتیں نوٹ کرتا رہتا ہوں۔ یہ ایسی ہی نوٹ کی ہوئی باتیں ہیں۔ اس سفرنامے کے بارے میں لکھنے کیلئے بہت کچھ ہے مگر اس مضمون کا موضوع سفرنامہ ہے نہ سوئزر لینڈ ہے بلکہ یہ امر ہے کہ یہ ملک اگر قابل احترام تسلیم کیا جاتا ہے تو اس کی وجہ کیا ہے۔ سیاح وہاں جاتے ہیں تو اُن کے دل سے آواز آتی ہے کہ یہ بہت اچھا، نظم و ضبط کا پابند اور قابل تعریف ملک ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: معاشی بحران میں ضروری اصلاحات

معلوم ہوا کہ احترام ازخود پیدا ہوتا ہے کسی کے کہنے سے نہیں۔ انسانوں کے معاملے میں بھی ایسا ہی ہے۔ جو شخص اعتبار حاصل کرتا ہے وہی احترام کے قابل مانا جاتا ہے۔ جس کا اعتبار نہیں اس کا احترام نہیں ہوسکتا۔ ایسے دَور اور معاشرہ میں، جہاں ہر شخص محترم ہے، کس کو فرصت کہ رُک کر سوچے کہ احترام کس کو کہتے ہیں اور قابل احترام ہونے کا کیا معنی ہے؟ ہمارے یہاں الفاظ کے استعمال کا طریقہ  منصفانہ ہے نہ ذمہ دارانہ۔ اِسی لئے لفظ اپنی اہمیت کھو رہے ہیں۔ جو محترم نہیں ہے اُسے بھی محترم کہا جائیگا اور بار بار کہا جائیگا تو کیا ہوگا؟ کچھ اور نہیں احترام ہی مشکوک ہوگا اور وہی ہورہا ہے۔جو لوگ نہیں جانتے وہ سمجھیں گے کہ جو کچھ وہ دیکھ رہے ہیں شاید اسی کو احترام کہتے ہیں۔ اس طرح اُن کی نگاہ میں احترام کی وقعت نہیں رہ جائیگی۔

لغت میں احترام کا معنی ہے عزت، حرمت، توقیر، ادب، تعظیم اور تکریم جو غلط نہیں مگر احترام کا معنوی افق خاصا وسیع ہے۔ مستند کتابوں میں یہ لفظ جس سیاق و سباق میں وارد ہوا ہے اور صاحب علم شخصیتوں نے اسے جس طرح برتا ہے اُس سے سمجھ میں آتا ہے کہ احترام وہ جذبہ ہے جو کسی کے علم و فضل، حکمت و دانائی، شریف النفسی، خدا ترسی، نیک اطواری اور انسان دوستی کی وجہ سے دل میں ازخود پیدا ہوتا ہے۔ ا حترام کا تعلق نسل، رنگ، اَمارت اور شہرت سے ہے نہ ہی جاہ و منصب سے۔ ہر معاشرہ میں کچھ لوگ ایسے ضرور ہوتے ہیں جنہیں دیکھ کر اور جن سے مل کر اُن کی عزت کرنے کا جی چاہے۔ احترام ایسے ہی لوگوں کا ہوسکتا ہے اور ہوتا آیا ہے۔ دُنیا جب شہرت و جاہ و منصب کو دیکھ کر احترام کرتی ہے تو پہلی بات یہ ہے کہ اُسے احترام نہیں کہا جا سکتا، دوسری بات یہ کہ ان چیزو ں یعنی شہرت و جاہ و منصب کے ختم ہوجانے کے بعد جذبۂ احترام بھی ختم ہوجاتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: تیرا کیا ہوگا نیتن یاہو؟کچھ سوچا ہے؟

اُردو میں تو مجھے کوئی ایسا مضمون نہیں ملا جس میں احترام کو تفصیلاً بیان کیا گیا ہو البتہ بعض انگریزی مقالات نظر سے گزرے جن میں قابل احترام شخص کی امتیازی خوبیاں اس طرح بتائی گئی ہیں: ضبط و تحمل، ایمانداری، استقلال، فعالیت، ترجیحات کا تعین، غلطی ماننے کا جذبہ، صحیح اور غلط کی پہچان، جود و سخا، عزتِ نفس، وفاداری اور مثال بننے کی خوبی۔ اگر اسے درست مان لیا جائے تو محسوس ہوگا کہ ایسی خوبیاں تو اگلے وقتوں کے لوگوں میں ہوتی تھیں، اب تو چراغ لے کر ڈھونڈیں تب بھی مشکل سے ملیں مگر اس کا کیا کیا جائے کہ جتنے محترم اگلے وقتوں میں نہیں ہوتے تھے اُتنے اب ہوتے ہیں؟ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK