جسٹس بی وی ناگرتھنا نے نویں جماعت میں تیسری زبان متعارف کرانے پر تشویش کا اظہار کیا اور طلبہ پر بورڈ امتحان کے دباؤ کا حوالہ دیا۔
EPAPER
Updated: July 17, 2026, 12:56 PM IST | New Delhi
جسٹس بی وی ناگرتھنا نے نویں جماعت میں تیسری زبان متعارف کرانے پر تشویش کا اظہار کیا اور طلبہ پر بورڈ امتحان کے دباؤ کا حوالہ دیا۔
سپریم کورٹ کی جج جسٹس بی وی ناگرتھنا نے جمعرات کے روز سی بی ایس ای نصاب کے تحت نویں جماعت میں تیسری زبان متعارف کرانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس مرحلے پر طلبہ پہلے ہی بورڈ امتحانات کی تیاری کے دباؤ میں ہوتے ہیں، اس لیے نئی زبان کا اضافہ ان پر غیر ضروری ذہنی بوجھ ڈالنے کے مترادف ہے۔یہ تبصرہ اس مقدمے کی سماعت کے دوران سامنے آیا جس میں تمل ناڈو حکومت نے مدراس ہائی کورٹ کے اس حکم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے، جس کے تحت ریاست کے ہر ضلع میں جواہر نوودیہ ودیالیہ (ے این وی )قائم کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ تمل ناڈو طویل عرصے سے نوودیہ اسکولوں کے قیام کی مخالفت کرتا رہا ہے، کیونکہ ان میں رائج سہ لسانی پالیسی ریاست کی دو زبانوں کی پالیسی سے مطابقت نہیں رکھتی۔اگرچہ اس مقدمے میں سی بی ایس ای کی زبان پالیسی کی آئینی حیثیت براہِ راست زیربحث نہیں تھی، تاہم جسٹس ناگرتھنا نے اس بات پر زور دیا کہ اگر تیسری زبان لازمی قرار دینی ہی ہے تو اسے نویں جماعت کی بجائے چھٹی جماعت سے پڑھایا جانا چاہیے۔سماعت کے دوران تمل ناڈو کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ ریاست کا اصل اعتراض تین زبانوں کی پالیسی پر ہے۔اس پر جسٹس ناگرتھنا نے کہاکہ پالیسی میں کہیں نہیں کہا گیا کہ تیسری زبان لازماً ہندی ہوگی۔ ریاستی زبان بھی پڑھائی جائے گی، انگریزی بھی اور اس کے علاوہ کوئی بھی تیسری زبان منتخب کی جا سکتی ہے۔مدعا علیہ تنظیم کی وکیل ایڈوکیٹ جی پریہ درشنی نے عدالت کو بتایا کہ قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی )واضح طور پر کہتی ہے کہ کسی بھی ریاست پر کوئی زبان مسلط نہیں کی جائے گی۔جسٹس ناگرتھنا نے تمل ناڈو حکومت سے سوال کیاکہ اگر آپ ہندی نہیں چاہتے تو پھر اگر تیسری زبان سنسکرت ہو تو اعتراض کیا ہے؟ریاست کے وکیل نے جواب دیا کہ تیسری زبان نویں جماعت سے لازمی ہو جاتی ہے۔اس پر جسٹس ناگرتھنا نے کہاکہ نہیں، یہ مناسب نہیں۔ نویں جماعت خود ہی بہت دباؤ والا مرحلہ ہوتا ہے۔ نئی زبان نویں میں کیوں شروع کی جائے؟ اسے چھٹی جماعت سے شروع ہونا چاہئے۔