Inquilab Logo Happiest Places to Work

سونے کی قدر، حالات کا جبر اور عوام کا صبر

Updated: July 16, 2026, 4:04 PM IST | Mumbai

اِدھر، عالمی سطح پر کسی کے اچھے دن آئے ہیں تو وہ پیلی دھات کہلانے والا سونا ہے۔یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ سونا کہاں سے کہاں پہنچا۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

اِدھر، عالمی سطح پر کسی کے اچھے دن آئے ہیں تو وہ پیلی دھات کہلانے والا سونا ہے۔یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ سونا کہاں سے کہاں پہنچا۔ اس کی مہنگائی اس لئے بڑھی کہ اس کی کھپت بڑھ گئی۔ عام انسان تو تھوڑا بہت خریدتے ہیں، کھپت میں اصل اضافہ حکومتوں کی وجہ سے ہوا جنہوں نے غیر معمولی مقدار میں خریدا اور اس کی قلت میں اہم کردارادا کیا۔ قلت اور قیمت میں چولی دامن کا ساتھ ہوتا ہے۔ قلت بڑھی تو قیمت بھی بڑھی اور بڑھتی چلی گئی۔ گزشتہ دِنوں ممبئی میں اس کی فی تولہ قیمت ایک لاکھ ۴۲؍ ہزار کے آس پاس تھی جبکہ ایک سال پہلے ایک تولہ سونا ۹۴؍ ہزار میں دستیاب تھا۔ اس سے بھی پہلے کے سال میں ۶۸۔۷۰؍ ہزار میں مل رہا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: ناندیڑ: کلکٹر کی عوام سے ایس آئی آر فارم جمع کروانے کی اپیل

سونے کی قیمت بڑھنے سے سونے کے عوض قرض حاصل کرنے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا اور قرض لی گئی رقم میں بھی۔ ریزرو بینک آف انڈیا کی ایک رپورٹ (مالیاتی استحکام رپورٹ) میں بتایا گیا ہے کہ غیر بینکی مالیاتی اداروں سے سونے کے عوض قرض میں ۷۰؍ فیصد اور اسی نوعیت کا بینکوں سے لیا گیا قرض ۱۰۵؍ فیصد بڑھا۔ یہ نیا رجحان دیکھنے میں آیا بالخصوص دیہی اور نیم شہری علاقوں میں۔ سونا گروی رکھ کر قرض لیا جائے تو بینکوں کو بھی سہولت ہوتی ہے اور غیر بینکی اداروں کو بھی۔ یہ ان معنوں میں ’’سیکورڈ لون‘‘ ہوتا ہے کہ قرض لینے والا وقت مقررہ پر نہ لوٹائے اور یاد دہانی یا فہمائش کے باوجود ناکام رہے تو اداروں کے پاس سونا جمع رہتا ہے اس لئے فکر کی ایسی کوئی بات نہیں رہتی۔ اِس دوران، اپنی ضرورت کے مطابق قرض لینے والوں نے پرسنل لون کے بجائے گولڈ پر لون لیا۔ اس میں اُن کا اگر یہ فائدہ تھا کہ گولڈ کی قدر بڑھنے کی وجہ سے لون زیادہ مل رہا تھا وہیں پرسنل لون میں شرح سود زیادہ ہوتی ہے اور گولڈ کے عوض لون میں بہت کم۔ یہ دوگنا فائدہ کی صورت حال تھی اس لئے قرض زیادہ لیا گیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: شمال اور جنوب کے درمیان ہندوستان

ہندوستانی سماج میں لوگ گولڈ میں اس لئے سرمایہ کاری کرتے ہیں کہ شدید ضرورت ہوگی تو یہ اثاثہ فروخت کرکے رقم حاصل کرلی جائیگی مگر اِدھر  ایک سال کے دوران یہ مشاہدہ کیا گیا کہ لوگوں نے شدید ضرورت پڑنے پر نہیں بلکہ کاروبار، تعلیم اور دیگر مقاصد کیلئے بھی لون لیا۔ یہ نیا رجحان تھا۔ سونے کی قیمت آسمان پر ہونے کی وجہ سے لون زیادہ ملنا اپنی جگہ پُرکشش ضرور تھا مگر گولڈ کے عوض چونکہ قرض آسانی سے مل جاتا ہے اس لئے لوگوں نے بینکوں اور غیر مالیاتی اداروں کی کارروائیوں سے بچنے کی راہ تلاش کرلی اور گولڈ کے عوض لون لیا۔ 

غور طلب ہے کہ سونے کے عوض لیا گیا قرض شدید ضرورت کے تحت نہیں تھا بلکہ روزمرہ کے کاموں کیلئے تھا جس سے ظاہر ہے کہ عوام کے پاس خرچ کی رقم کم ہوگئی ہے جو Disposable Incomeکہلاتی ہے۔ اس کے دو بڑے اسباب مہنگائی اور بے روزگاری ہیں۔ کیا اسی لئے عوام کو ایس آئی آر، پرچہ لیک، امتحان ملتوی وغیرہ میں اُلجھایا گیا ہے تاکہ ذہن بٹ جائے اور اِن مسائل سے ہونے والی تکلیف نہ تو ورغلائے نہ ہی سڑکوں پر آنے کیلئے مجبور کرے؟ لون لینے اور خرچ کی رقم کم ہونے کا معنی ہے بچت نہیں ہو رہی ہے۔ معیشت کیلئے یہ فال نیک نہیں ہے۔  

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK