Inquilab Logo Happiest Places to Work

’بلڈوزر انصاف‘ پر توہین عدالت کی اپیلوں پر سماعت سے انکار

Updated: July 17, 2026, 12:53 PM IST | New Delhi

سپریم کورٹ نے اس پر زوردیاکہ ہر معاملے میں حقائق مختلف ہوں گے اس لئے عدالت عظمیٰ ہر انفرادی دعوے کے حقائق کی جانچ نہیں کر سکتی۔

A bulldozer was used on a mosque in Somnath. Photo: INN
سومناتھ میں مسجد پر بلڈوزر چلایا گیا تھا۔ تصویر: آئی این این

سپریم کورٹ نے’ بلڈوزر انصاف‘ سے متعلق توہین عدالت کی درخواستوں پرسماعت سے انکار کرتے ہوئے اس نوعیت کی شکایات کے لئے متعلقہ ہائی کورٹس سے رجوع کرنے کی ہدایت دی۔ چیف جسٹس سوریہ کانت،جسٹس جوائمالیا باغچی اورجسٹس وی موہن پر مشتمل بنچ کے سامنے داخل کردہ عرضیوں میں درخواست گزاروں نے کہا تھا کہ مختلف مقامات پر کئی گئی انہدامی کارروائیوں میں انصاف کے اصولوں کی خلاف ورزی کی گئی اور انہدام کے احکامات قانون کے برخلاف جاری کیے گئے۔ عرضی گزاروں نے اپنی درخواستوں میں نومبر ۲۰۲۴ء کو دیئے گئے سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے اور ’بلڈوزر انصاف‘ کے خلاف مقرر کردہ حفاظتی اصول کا بھی ذکر کیا تھا۔تاہم عدالت نے اس پر زور دیتے ہوئے کہ ہر معاملے میں حقائق مختلف ہوں گے اس لیے سپریم کورٹ ہر انفرادی دعوے کے حقائق کی جانچ نہیں کر سکتی، کہا کہ اس نوعیت کی شکایات متعلقہ ہائی کورٹس کے سامنے اٹھائی جانی چاہئیں۔اس کے ساتھ ہی عدالت نے تمام توہین عدالت کی درخواستیں متعلقہ ہائی کورٹوں کو منتقل کرتے ہوئے واضح کیا کہ قانون اور حقائق سے متعلق تمام سوالات قائم رہیں گے۔سومناتھ میں مساجد کو منہدم کیے جانے سے متعلق توہین عدالت کی ایک درخواست کے سلسلہ میں پیش ہونے والے سینئر وکیل حذیفہ احمدی نےعدالت سے کہا کہ جہاں سپریم کورٹ کے احکامات کی سنگین اور واضح خلاف ورزی ہوئی ہو وہاں عدالت کو ضرور مداخلت کرنی چاہیے۔ انہوں نے ان معاملات میں سپریم کورٹ کی ہدایات کی کھلی خلاف ورزی ہونے کی بات کہی۔ اسی طرح مہاراشٹر سے متعلق معاملات میں درخواست گزار کی نمائندگی کرتے ہوئے سینئر وکیل چندر اُدے سنگھ نے عدالت میںریاست کی طرف سے داخل کردہ حلف نامہ کا بھی ذکر کیا جس سے ظاہر ہوتا  ہے کہ متعلقہ معاملے میں سپریم کورٹ کی مقرر کردہ قانونی کارروائی پر عمل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے معاملات میں انہدام دراصل سزا دینے کی نیت سے کیا جاتا ہے جس کا ثبوت کارروائی کی غیر معمولی تیزی اور بعد میں سیاست دانوں کے جشن منانے جیسے بیانات ہیں۔ عدالت میں پیش ہونے والے سینئر وکیل سنجے ہیگڑے نے کہا کہ وہ ایک ایسے درخواست گزار کی نمائندگی کر رہے ہیں جس کے پھلوں کے جوس کے اسٹال کو بلڈوزر سے گرا دیا گیا جبکہ ایک ٹی وی اینکر بلڈوزر پر بیٹھ کر اس کارروائی کی براہِ راست نشریات کر رہا تھا ۔ تاہم چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ نومبر۲۰۲۴ءکے فیصلے میں خود کچھ استثنائی صورتیں بھی بیان کی گئی تھیں، جن کے مطابق عوامی مقامات پر ناجائز تجاوزات والی عمارتوں پر یہ ہدایات لاگو نہیں ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکام ان ہی استثنائی معاملات کا سہارا لیتے ہیں تو معاملہ حقائق کے تعین کا بن جاتا ہے جس کا فیصلہ توہین  عدالت کی کارروائی میں نہیں کیا جا سکتا۔

یہ بھی پڑھئے: ای ۲۰؍ پیٹرول: کنزیومر کورٹ نے ماروتی سوزوکی کو گاہک کو نئی گاڑی دینے کا حکم دیا

چیف جسٹس کی رائے سےاتفاق کرتے ہوئے  جسٹس جوائمالیا باغچی نے کہا کہ نومبر۲۰۲۴ء کا فیصلہ ان بڑھتے ہوئے رجحانات کو روکنے کے لیے دیا گیا تھا جن میں جرائم کے ملزمان کے گھروں کو سزا کے طور پر منہدم کیا جا رہا تھا، تاہم اس فیصلے کا مقصد غیر قانونی تعمیرات کو مکمل تحفظ فراہم کرنا نہیں تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ جہاں غیر قانونی تعمیرات ہوں وہاں بلڈوزر کا استعمال ضروری بھی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ  قانون نافذ کرنے کے نام پر کسی فرد کو نشانہ نہیں بنایا جا سکتا ، یہ آئینی اصولوں کے خلاف ہے۔انہوں نے کہا کہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا متعلقہ شخص کے پاس قانونی اجازت تھی اور کیا قانون کے مطابق طریقۂ کار اختیار کیا گیا؟انہوں نے مزید کہا کہ عدالتی فیصلے کو قانون کی طرح نہیں پڑھا جا سکتا۔ عدالت کی ہدایات مخصوص شرائط اورمستثنیٰ حالات کے ساتھ ہوتی ہیں۔سپریم کورٹ نے کہا کہ ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ ان تمام مقدمات کا ریکارڈ متعلقہ ہائی کورٹس کو منتقل کر دیا جائے۔ عدالت نے ہائی کورٹس سے کہا کہ وہ متعلقہ سرکاری ریکارڈ طلب کریں اور اگر ضروری ہو تو ضلعی عدالتوں کے ذریعے شواہد بھی ریکارڈ کرائیں تاکہ تمام حقائق کا درست تعین کیا جا سکے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK