• Mon, 05 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ضمیر زندہ، غیرت باقی

Updated: October 05, 2026, 1:49 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

’’بہت ہو چکا۔ ہم اس المیے کو جاری رہتا نہیں دیکھ سکتے۔ خاموش رہنا بھی اختیار میں نہیں رہا۔ اہل غزہ بالخصوص معصوم بچوں کو جس صدمے اور خوف کا سامنا ہے، وہ ہولناک ہے۔ اس کا خاتمہ ہونا چاہئے، بچوں کی خاطر، ان کے خاندانوں کی خاطر اور ان کی زندگیوں کی خاطر۔‘‘ یہ الفاظ ہیں فارمولہ وَن سے وابستہ رہنے والے، سات مرتبہ کے چمپئن لیوس ہیملٹن کے جن سے دردمندی جھلکتی ہے۔  

Picture: INN
تصویر: آئی این این

’’بہت ہو چکا۔ ہم اس المیے کو جاری رہتا نہیں دیکھ سکتے۔ خاموش رہنا بھی اختیار میں نہیں رہا۔ اہل غزہ بالخصوص معصوم بچوں کو جس صدمے اور خوف کا سامنا ہے، وہ ہولناک ہے۔ اس کا خاتمہ ہونا چاہئے، بچوں کی خاطر، ان کے خاندانوں کی خاطر اور ان کی زندگیوں کی خاطر۔‘‘ یہ الفاظ ہیں فارمولہ وَن سے وابستہ رہنے والے، سات مرتبہ کے چمپئن لیوس ہیملٹن کے جن سے دردمندی جھلکتی ہے۔  

یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں تھا۔ فنون لطیفہ سے وابستہ مشہور شخصیات کی طرح کھیل کود کی دُنیا کے اسٹار کھلاڑیوں نے بھی اہل غزہ پر ڈھائے گئے مظالم کے خلاف آواز اُٹھانے میں جرأت اور بے خوفی کا مظاہرہ کیا۔ مانچسٹر یونائیٹڈ کے فٹبال لیجنڈ اور اداکار ایرک کینٹونا نے غزہ کی تباہی کے باوجود اسرائیل کی حمایت پر سوال اٹھایا اور پوچھا تھا: ’’کیا ان مجرموں کا دفاع کرنے والا کوئی باقی ہے؟ کوئی ایسا شخص ہے جو ان مجرموں (اسرائیلیوں) کی مذمت نہ کرے؟ کیا اب بھی ایسے ممالک ہیں جو ان مجرموں کو ہتھیار فراہم کرتے ہیں؟ کیا کوئی ایسا ہے جو اسے نسل کشی نہ قرار دے اور اس ہولناکی پر آنسو نہ بہائے؟‘‘

یہ بھی پڑھئے: یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ جین زی ’اے بی وی پی‘ کے جھانسے میں آگئی ہے

آگے ہم شطرنج کی ایک کھلاڑی کے بارے میں بھی بتائیں گے کہ اس نے کیا کیا مگر اس سے پہلے عرض ہے کہ انسانی حقوق کے رضاکاروں کے علاوہ جس طرح کا احتجاج فنون لطیفہ سے وابستہ لوگوں اور کھلاڑیوں نے کیا ہے اس طرح کا احتجاج نہ تو سائنسدانوں نے نہ ہی ٹیکنوکریٹس نے کیا۔ نہ تو پروفیسروں اور ٹیچروں نے کیا نہ ہی اداکاروں اور تاجروں یا صنعتکاروں نے کیا مگر اسپورٹس کی کئی ممتاز شخصیات نے یہ جرأت دکھائی مثلاً کائیری آئرونگ، محمد صالح، کریم بینزیما، اونس جابر، پیپ گارڈیولا، انور الغازی، پال پوگبا، ڈیوڈ بیکہم اور نتاشا کلاؤڈ۔ کیا اسپورٹس کے شعبے میں غیرت زیادہ ہے؟ کیا اسپورٹس کے لوگ ضمیر کا خاص طریقے سے تحفظ کرتے ہیں؟ اگر ہاں تو دیگر شعبوں کے لوگوں کو کیا ہوا؟ کیا وہ ڈرتے ہیں کہ آمدنی کے مواقع نہ چھن جائیں؟

گزشتہ دنوں شطرنج کی معروف آسٹریلوی کھلاڑی ہیتھر رچرڈس نے سمرقند (ازبیکستان) میں منعقدہ ۴۶؍ ویں اولمپیاڈ میں اُس وقت مقابلے میں اُترنے سے انکار کردیا جب مدمقابل اسرائیلی کھلاڑی تھا۔ ہیتھر نے ٹھوس دلیل دیتے ہوئے کہا کہ اگر یوکرین سے جنگ کے سبب روس بَین ہوا تو غزہ پر جنگ مسلط کرنے کیلئے اسرائیل پر پابندی کیوں نہیں لگی؟ کیا وجہ ہے کہ اسرائیل کو ہر طرح کے مقابلوں میں شرکت کی اجازت مل جاتی ہے؟ 

قارئین کو یاد ہوگا غزہ پرخوفناک اسرائیلی بمباری کے دور میں کئی ملکوں میں وسیع تر احتجاج ہوئے تھے مگر احتجاج میں شامل ہونے اور کسی مقابلہ میں اسرائیل کو دوٹوک انداز میں کٹہرے میں کھڑا کرکے اس کی مذمت کرنے میں فرق ہے۔ جرأت تو وہ بھی ہے جو دیگر نے دکھائی مگر ہیتھر کی جرأت اُس سے بڑی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK