• Thu, 01 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ جین زی ’اے بی وی پی‘ کے جھانسے میں آگئی ہے

Updated: October 01, 2026, 7:15 PM IST | Qutbuddin Shahid | Mumbai

دہلی یونیورسٹی طلبہ یونین کے ۲۰۲۶ء کے انتخابات میں اے بی وی پی نے چار مرکزی عہدوں میں سے تین پر کامیابی حاصل کی، جبکہ نائب صدر کا عہدہ آزاد امیدوار دیپانشو شوقین نے جیتا۔ صدر کے انتخاب میں اے بی وی پی کے یش ڈباس نے ۲۴؍ ہزار ۵۷۶؍ ووٹ حاصل کرکے این ایس یو آئی کے وجے شنکر مینا کو ۲؍ ہزار ۵۳؍ ووٹوں سے شکست دی، تاہم نتائج کے دیگر اعداد و شمار گزشتہ انتخاب کے مقابلے میں ووٹوں کے رجحان اور تقسیم کی ایک مختلف تصویر بھی پیش کرتے ہیں۔

A major reason for this result at Delhi University is that only 40 percent of the voting took place there. Photo: INN
دہلی یونیورسٹی کے اس نتیجے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ وہاں پر صرف ۴۰؍ فیصد پولنگ ہوپائی تھی۔ تصویر: آئی این این

دہلی یونیورسٹی طلبہ یونین کے انتخابات میں اے بی وی پی نے چار میں سے تین مرکزی عہدے جیت لیے۔ نتیجہ سامنے آتے ہی بعض حلقوں میں جیسے یہ اعلان کرنے کی جلدی مچ گئی کہ جنتر منتر پر جین زی کی آواز، طلبہ کے احتجاج اور راہل گاندھی کے ساتھ نوجوانوں کی سیاسی سرگرمیاں یعنی ’چھاتروں کی گونج‘ سب بے معنی ثابت ہوگئیں۔ گویا دہلی یونیورسٹی کے چار عہدوں کا انتخاب ہی ہندوستان کی پوری نوجوان نسل کا ریفرنڈم تھا اور اس کے نتیجے نے جین زی کے سیاسی مزاج پر آخری مہر ثبت کردی ہے۔

تین نشستیں جیت لینا کیا پورے کیمپس کے دل جیت لینے کے مترادف ہے؟ کیا دہلی یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے انتخاب میں اے بی وی پی کی تین عہدوں پر کامیابی کو یہ اعلان سمجھ لیا جائے کہ جین زی نے اس کے نظریے پر مہرِ تصدیق ثبت کردی ہے؟ اگر ایسا ہے تو پھر ان اعداد و شمار کو کہاں رکھا جائے گا جو کچھ اور کہہ رہے ہیں؟اے بی وی پی نے تین عہدے ضرورحاصل کرلیے لیکن اس کے چاروں امیدواروں کے ووٹ گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں کم ہوگئے ہیں اور کافی کم ہوگئے ہیں۔ صدر کے عہدے پر اس کی برتری۱۶؍ ہزار سےووٹوں سے گھٹ کر محض۲؍ ہزار کے قریب رہ گئی ہے۔ تو پھر یہ کیسی فتح ہے جس کے ساتھ ووٹوں کی بنیاد سکڑتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے؟ یہ عوامی حمایت میںکمی کا واضح اعلان ہے جس پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: جموئی اور سمستی پور کے ویڈیوز: ایسا کرنے والے اس قدر بےحس کیسے ہوسکتے ہیں؟

انتخابات صرف یہ نہیں بتاتے کہ کون جیتا؛ وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ کتنے ووٹوں سے جیتا، کس کے ووٹ بڑھے، کس کے گھٹے، کتنے امیدواروں کے درمیان ووٹ تقسیم ہوئے اور کتنے طلبہ نے ووٹ ہی نہیں دیا۔ اگر نتیجے کو صرف جیتی ہوئی نشستوں کی تعداد میں سمیٹ دیا جائے توانتخابی سیاست کے کئی اہم سوالات نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہیں اور یہاں پر سیٹوں کی تعداد بتا کر انہیں سوالات کو نظروں سے اوجھل کیا جارہا ہے۔

دہلی یونیورسٹی کے حالیہ نتیجے میں صدر کا عہدہ اے بی وی پی کے یش ڈباس نے۲۴؍ ہزار ۵۷۶؍ ووٹ لے کر جیتا جبکہ این ایس یو آئی کے وجے شنکر مینا کو ۲۲؍ ہزار۵۲۳؍ ووٹ ملے... یعنی فتح کا فرق۲؍ ہزار ۵۳؍ووٹوں کا رہا۔ یہ فرق کم نہیں ہے مگر اسے ۲۰۲۵ کے مقابلے میں دیکھیں تو تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی سامنے آتا ہے۔ یہی وہ رخ ہے جسے نظرانداز کرکے صرف ’’چار میں سے تین‘‘ کا نعرہ بلند کیا جارہا ہے۔

۲۰۲۵ءمیں صدر کے عہدے پر اے بی وی پی کے آرین مان کو ۲۸؍ ہزار ۸۴۱؍ ووٹ ملے تھے جبکہ اس مرتبہ اس عہدے کیلئے محض۲۴؍ ہزار ۵۷۶؍ ووٹ ہی مل سکے۔ سیکریٹری کے عہدے پر۲۰۲۵ء میں اے بی وی پی کے کنال چودھری کو۲۳؍ ہزار ۷۷۹؍ووٹ ملے تھے، جو اس مرتبہ کم ہوکر۲۱؍ ہزار ۶۵۰؍ رہ گئے۔ جوائنٹ سیکریٹری کے عہدے پر بھی کچھ یہی صورت رہی۔ ۲۰۲۵ء  میں اے بی وی پی کی امیدوار دپیکا جھا کو ۲۱؍ ہزار۸۲۵؍ ووٹ ملے تھے، جبکہ امسال اس کے امیدوار کو۱۶؍ ہزار ۶۱۵؍ووٹ حاصل ہوئے۔ نائب صدر کے عہدے پربھی۲۰؍ ہزار ۵۴۷؍ ووٹ سے کم ہوکر یہ فرق محض ۱۶؍ ہزار۹۱۰؍ رہ گئے۔نتائج کا تجزیہ کریں تو ایک عجیب سا تضاد سامنے آتا ہے یعنی اے بی وی پی کی نشستیں تقریباً وہی رہیں، لیکن اس کے امیدواروں کے ووٹ کم ہوگئے۔ اس کے برعکس اے بی وی پی مخالف (این ایس یو آئی ا ور اے آئی ایس اے وغیرہ کے) ووٹوں میں زبردست اضافہ ہوا۔ اے بی وی پی مخالف ووٹ اگر منقسم نہیں ہوئے ہوتے تو آج دہلی یونیورسٹی کے نتائج کچھ اور کہہ رہے ہوتے۔

یہ تضاد اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ کیا عہدوں کی تعداد اور تنظیم کی مقبولیت کو ایک ہی چیز سمجھ لینا درست ہوگا؟صدر کے انتخاب کا نتیجہ اس سوال کومزید دلچسپ بناتا ہے۔۲۰۲۵ء میں اے بی وی پی کے صدر امیدوار کو’این ایس یو آئی‘ امیدوار کے مقابلے میں۱۶؍ ہزار ۱۹۶؍ ووٹوں کی برتری حاصل تھی لیکن۲۰۲۶ء میں یہ فرق گھٹ کر صرف۲؍ ہزار ۵۳؍ ووٹوں کا رہ گیا۔مزید دلچسپ بات نائب صدر کے انتخاب میں سامنے آئی، جہاں کسی بڑی طلبہ تنظیم کے امیدوار نے کامیابی حاصل نہیں کی بلکہ این ایس یو آئی کے باغی دیپانشو شوقین جو آزاد امیدوار کی حیثیت سے میدان میں تھے، ۳۰؍ ہزار ۶۱۵؍ ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔ اے بی وی پی کے امیدوار کو۱۶؍ ہزار ۹۱۰؍ اور این ایس یو آئی کے امیدوار کو صرف ۴؍ ہزار۳۱۳؍ ووٹ ملے۔ شوقین کی اپنی الگ کہانی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: آئسکریم پارلرز: ایک Scoop کے ذریعے توجہ پانے کیلئے برانڈز لے رہے ہیں رِسک!

اس تعلق سے ایک طبقہ جو یقیناً  این ایس یو آئی کا ہمدرد ہے، اسے کافی سخت سست کہہ رہا ہے لیکن شوقین کو امیدوار نہ بنا کر این ایس یو آئی نے شاید کوئی غلطی نہیں کی۔ صرف انتخاب جیتنا ہی سب کچھ نہیں ہوتا، اصول اور نظریات بھی کچھ ہوتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ کانگریس نے طلبہ میں شوقین کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے انہیں صدر کے عہدے کیلئے امیدواری کی پیشکش کی تھی لیکن دیپانشو شوقین اپنی برادری کے اے بی وی پی امیدوار کے مقابلے میں نہیں اُترنا چاہتے تھے۔ مطلب صاف تھا کہ وہ  نظریات کے تئیں کمزور تھے جو اے بی وی پی کے امیدوار سے مقابلہ نہیں کرنا چاہتے تھے۔ این ایس یو آئی کے سامنے شوقین کا یہ موقف اُس وقت آیا جب اس کے پاس بہتر تیاری کا وقت نہیں رہ گیا تھا۔ ایسے میں نقصان تو بہرحال جھیلنا ہی تھا۔ ووٹوں کا تجزیہ کیا جائے تو پتہ چلے گا کہ شوقین کو اپنے حامیوں یعنی این ایس یو آئی کے ساتھیوں کے علاوہ اے بی وی پی کے بھی ووٹ ملے ہیں۔

یہاں ایک اور پہلو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔۲۰۲۶ء کے صدر کے انتخاب میں بایاں محاذ اتحاد یعنی ’اے آئی ایس اے‘ اور ’ایس ایف آئی‘ کے امیدوار کو۵؍ ہزار۳۷۷؍ ووٹ ملے۔ مطلب صاف ہے کہ اے بی وی پی کے مقابلے میں موجود تمام ووٹ ایک ہی امیدوار کے حصے میں نہیں گئے۔ یہی صورتحال جوائنٹ سیکریٹری کے انتخاب میں بھی زیادہ نمایاں نظر آتا ہے۔ اے بی وی پی کے لکشیا راج سنگھ ۱۶؍ ہزار ۶۱۵؍ ووٹ لے کر جیت گئے جبکہ  اس عہدے کیلئے سماجوادی چھاتر سبھا کے وشیش یادو کو ۱۵؍ ہزار۷۷۸؍ اور این ایس یو آئی کے گوپال چودھری کو۱۵؍ ہزار ۲۰۶؍ ووٹ ملے۔ ا ن دونوں سیکولر امیدواروں کے ووٹ اگر ملا لئے جائیں تو پتہ چلے گا کہ۱۵؍ ہزار کے قریب ہوگاجبکہ نتیجہ یہ ہے کہ اے بی وی پی کا امیدوار ۸۳۷؍ ووٹوں سے جیت گیا۔اسے انتخابی سیاست کی زبان میں ووٹوں کی تقسیم کہا جاسکتا ہے۔

بہرحال نتیجہ آگیا اور اس نتیجے کی بنیاد پر بی جے پی کی جانب سے یہ ڈھنڈورہ پیٹا جانے لگا کہ جین زی میں اے بی وی پی یعنی بی جے پی کی مقبولیت میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ اگر دہلی  یونیورسٹی کے طلبہ یونین کے چار بنیادی عہدوں میں سے تین عہدے حاصل کرنے کا مطلب یہی ہے تو پھر ابھی ۱۵؍ دن قبل سامنے آئے اتراکھنڈ کی ہیم وتی نندن بہوگنا گڑھوال یونیورسٹی کے برلا کیمپس  کے نتائج کو کس طرح سے دیکھیں گے جہاں اے بی وی پی کو سارے عہدوں پر شکست کا سامنا کرنا پڑا۔وہاں پر این ایس یو آئی نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: UPI: کیش لیس ہندوستان کی علامت بنایا گیا تھا، اب کیوں چارج لگایا جا رہا ہے؟

دہلی یونیورسٹی کے انتخاب کا نتیجہ جو بھی پیغام دیتا ہو، اسے  پوری نسل کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ سمجھ لینا درست نہیں۔ ایک انتخاب میں کسی تنظیم کی کامیابی یا کسی امیدوار کی شکست سے نہ سوال ختم ہو جاتے ہیں، نہ احتجاج بے معنی ہوجاتا ہے، نہ نوجوانوں کی آواز خاموش ہوجاتی ہے۔ جمہوریت میں راستے ایک انتخاب سے بند نہیں ہوتے بلکہ ہر انتخاب اگلے سوال، اگلی بحث اور اگلے فیصلے کا دروازہ کھولتا ہے۔ ویسے بھی ملک کے موجودہ حالات میں اے بی وی پی یعنی بی جے پی کا مقابلہ کرنا اور اس کے مقابلے جیت درج کرنا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔دراصل اس بیانئے کے ذریعہ کہ ملک کی نوجوان نسل یعنی جین زی بی جے پی کے ساتھ ہے،اس تحریک کو کمزور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جو گزشتہ کچھ عرصے میں ملک میں ابھری  ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK