جی ڈی پی (مجموعی گھریلو پیداوار) کے اعدادوشمار سال میں چار مرتبہ یعنی ہر تین ماہ بعد ظاہر کئے جاتے ہیں۔ سوائے اقتصادی ماہرین اور تجارتی اُمور سے دلچسپی رکھنے والوں کے، ہر تین ماہ پر کسی کو علم نہیں ہوتا کہ جی ڈی پی کم ہوئی ہے یا بڑھی ہے یا جوں کی توں ہے۔
جی ڈی پی (مجموعی گھریلو پیداوار) کے اعدادوشمار سال میں چار مرتبہ یعنی ہر تین ماہ بعد ظاہر کئے جاتے ہیں۔ سوائے اقتصادی ماہرین اور تجارتی اُمور سے دلچسپی رکھنے والوں کے، ہر تین ماہ پر کسی کو علم نہیں ہوتا کہ جی ڈی پی کم ہوئی ہے یا بڑھی ہے یا جوں کی توں ہے۔ اس بار (اپریل تا جون ۲۶ء) کی جی ڈی پی اس لئے موضوع بحث بنی کیونکہ وزیر اعظم نے،جو اُس وقت غیر ملکی دورہ پر تھے، ویڈیو بنا کر قوم کو اطلاع دی کہ ختم ہونے والی سہ ماہی میں ملک کی جی ڈی پی ۷ء۸؍ فیصد رہی جو ملک کی توقع سے کہیں زیادہ شرحِ نمو کا اشاریہ ہے جبکہ عالمی معاشی حالات دگرگوں ہیں خواہ وہ ٹرمپ کے ٹیرف کی وجہ سے ہوں یا ایران جنگ کی وجہ سے یا تیل کی قیمتوں کی وجہ سے یا عالمی معیشت کی غیر یقینی صورت حال کی وجہ سے۔ اگر وزیر اعظم نے ویڈیو کے ذریعہ اس موقع کو خاص بنانے کی کوشش نہ کی ہوتی تو ممکن تھا کہ جی ڈی پی کے زیر بحث فیصد پر اس قدر گھمسان کی جنگ نہ چھڑ جاتی۔
یہ بھی پڑھئے:کیا پتہ تھا اس طرح پانی بہا لے جائے گا
۷ء۸؍ فیصد کا عدد اس لئے حیرت انگیز تھا کہ تجارت و معیشت کے الگ الگ معیارات میں سے کسی پر بھی قومی معیشت کی بہتر کارکردگی کا کوئی ثبوت کہیں سے نہیں مل رہا ہے۔ اس کے باوجود اگر معیشت چل نہیں دوڑ رہی ہے جس کا ثبوت ۷ء۸؍ فیصدکے طور پر پیش کیا گیا ہے تو اس کا دوڑنا دکھائی کیوں نہیں دے رہا ہے، یہ معترضین کا سوال ہے۔ معترضین میں سب سے نمایاں نام سابق سکریٹری برائے مالیات سبھاش چندر گرگ کا ہے جنہوں نے دیگر اعتراضات کے ساتھ سب سے بڑا سوال یہ اُٹھایا ہے کہ موجودہ قیمتوں پر ملک کی جی ڈی پی ۸۶؍لاکھ کروڑ سے ۸۰؍ لاکھ کروڑ پر کیسے آگئی اور دونوں کا فرق یعنی ۶؍ لاکھ کروڑ روپے کہاں چلے گئے۔ گرگ صاحب کا کہنا ہے کہ این ڈی ٹی وی کو دیئے گئے اُن کے انٹرویو کے بعد حکومت کے دفاع میں کئی وزراء اور ماہرین آئے مگر کسی نے ۶؍ لاکھ کروڑ کے غائب ہونے کا جواب نہیں دیا۔ معترضین ہی میں ایسے لوگ بھی ہیں جو ۶؍ لاکھ کروڑ کی گمشدگی کا ممکنہ سبب یہ بتا رہے ہیں کہ اب سے پہلے حکومت نے جی ڈی پی کے اعدادوشمار بڑھا چڑھا کر پیش کئے تاکہ قوم کا اعتماد بحال رکھا جائے مگر اب اُن کو درست کرنے (ایڈجسٹمنٹ) کے مقصد سے ۶؍ لاکھ کروڑ کی رقم گھٹا دی ہے۔کیا یہی وجہ ہے یا وجہ کچھ اور ہے؟ اس کا علم تبھی ہو گا جب محکمۂ شماریات کی جانب سے وضاحت پیش کی جائیگی اور چونکہ وزیر اعظم نے خود آکر قوم کو یہ خوش خبری سنائی تھی اس لئے بہتر ہوگا کہ وہ خود زحمت کرکے اس تنازع کا تصفیہ کریں۔
یہ بھی پڑھئے: اسکولوں سے ناقابل معافی غفلت
جو بھی ہو، اس معاملے میں بھی حکومت کا دعویٰ خود اس کیلئے آفت بن گیا ہے جیسے چڑھاوا چوری کا معاملہ پریشان کن اور کاکروچوں یا جین زی کی ناراضگی وبال جان بنی ہوئی ہے۔ عوام میں بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو معیشت کی باریکیوں سے واقف نہیں۔ اُنہیں جی ڈی پی کا بھی علم نہیں مگر جب اپریل تا جون جی ڈی پی تنازع میں گھر گئی ہے تو اُنہیں یہ احساس ضرور ہورہا ہے کہ کچھ نہ کچھ غلط ہوا ہے۔ ہماری رائے میں، معاشی باریکیاں خواہ کتنی ہی خشک لگتی ہوں، عوام کو ان کے بارے میں جاننے کی کوشش کرنی چاہئے تاکہ گمراہ کن اعدادوشمار کیخلاف متنبہ رہ سکیں۔