• Mon, 07 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

استاد کے مقام کو سمجھیں، اس کے فرائض کو تسلیم کریں

Updated: September 07, 2026, 2:16 PM IST | Professor Mushtaq Ahmed | Mumbai

استاد اگر علم کی شمع ہے تو طلبہ اس شمع سے روشن ہونے والے چراغ ہیں۔ ایک چراغ سے ہزار چراغ روشن ہوسکتے ہیں جو ملک کو جہالت اور غربت سے خوشحالی کی طرف لے جاسکتے ہیں۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

ڈاکٹر سروپلی رادھا کرشنن (۵؍ ستمبر ۱۸۸۸ء- ۱۷؍ اپریل ۱۹۷۵ء) کی ولادت کے موقع پر ملک بھر میں ۲؍ دن قبل یوم اساتذہ منایا گیا۔ وہ ایک عظیم فلسفی، دانشور، معلم اور ہندوستان کے دوسرے صدر جمہوریہ تھے۔ ان کی شخصیت اس بات کی علامت ہے کہ ایک استاد اپنی علمی صلاحیت، فکری بصیرت اور اخلاقی کردار کے ذریعے قومی زندگی میں کس قدر اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ استاد صرف کتاب کا سبق پڑھانے والا شخص نہیں ہوتا۔ وہ نسلوں کا معمار، معاشرے کا رہنما، کردار کا نگہبان اور مستقبل کا منصوبہ ساز ہوتا ہے۔ ایک اچھا استاد اپنے شاگرد کو صرف یہ نہیں بتاتا کہ دنیا کیا ہے، بلکہ اسے یہ سوچنے کی صلاحیت بھی دیتا ہے کہ دنیا کیا ہونی چاہئے۔ اسی لئے دنیا کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ہر بڑی علمی، تہذیبی اور سماجی تبدیلی کے پس منظر میں استاد، مفکر اور معلم کا کردار کسی نہ کسی صورت میں ضرور نظر آتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:نائن الیون پر افسوس کیجئے اور کچھ سوچئے بھی!

کسی ملک کی ترقی کا حقیقی پیمانہ صرف اس کی فی کس آمدنی، بلند عمارتیں یا جدید شاہراہیں نہیں ہیں۔ اصل ترقی اس وقت ہوتی ہے جب ملک کے شہری تعلیم یافتہ، باشعور، ذمہ دار، باکردار اور سائنسی و منطقی فکر کے حامل ہوں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں استاد کا کردار بنیادی اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔ ایک ڈاکٹر، انجینئر، سائنسداں، جج، منتظم، صحافی، ادیب، صنعت کار یا سیاستداں اپنے پیشے میں مہارت حاصل کرنے سے پہلے کسی نہ کسی استاد سے تعلیم حاصل کرتا ہے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو استاد براہِ راست صرف چند طلبہ کو تعلیم دیتا ہے، مگر بالواسطہ پوری قوم کی تشکیل میں حصہ لیتا ہے۔اگر استاد معیاری تعلیم دے گا تو اس کے شاگرد مستقبل میں معیاری ڈاکٹر، انجینئر، سائنسداں، منتظم اور شہری بنیں گے۔ اگر استاد طلبہ میں تحقیق، دیانت، محنت، برداشت اور انسان دوستی پیدا کرے گا تو یہی اوصاف معاشرہ میں منتقل ہوں گے۔ اس لئے استاد کا کام کلاس روم کی چار دیواری تک محدود نہیں؛ اس کا اثر پوری قومی زندگی پر پڑتا ہے۔موجودہ دور میں معلومات حاصل کرنا پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ آسان ہو گیا ہے۔ موبائل فون، انٹرنیٹ اور مصنوعی ذہانت نے معلومات کی دنیا کو ہماری انگلیوں تک پہنچا دیا ہے۔ ایک طالب علم چند سیکنڈ میں کسی بھی موضوع پر ہزاروں صفحات کی معلومات حاصل کر سکتا ہے۔ ایسے دور میں یہ سوال زیادہ اہم ہو گیا ہے کہ جب معلومات ہر جگہ موجود ہیں تو استاد کی ضرورت کیا ہے؟اس کا جواب یہ ہے کہ تعلیم صرف معلومات جمع کرنے کا نام نہیں۔ تعلیم یہ سمجھنے کا نام ہے کہ کون سی معلومات درست ہیں، کون سی غلط،کس اطلاع پر یقین کیا جائے اور کس پر سوال اٹھایا جائے۔ علم کو زندگی میں کیسے استعمال کیا جائے اور علم کو دانش میں کیسے تبدیل کیا جائے۔مصنوعی ذہانت معلومات فراہم کر سکتی ہے، لیکن معلومات کے اخلاقی استعمال کا شعور، انسانی ہمدردی، سماجی ذمہ داری اور کردار کی تعمیر اب بھی استاد کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ مستقبل کا استاد محض معلومات فراہم کرنے والا نہیں بلکہ اس کی شخصیت کا معمار ہوتاہے اور اپنے شاگرد کو صالح فکر ونظر کا علمبردار بناتاہے۔غرض کہ استاد کا بنیادی فرض علم سے محبت پیدا کرنا ہے۔ اگر طالب علم صرف امتحان پاس کرنے کیلئے پڑھتا ہے تو تعلیم کا مقصد محدود ہو جاتا ہے۔ حقیقی تعلیم وہ ہے جو طالب علم کے اندر سوال پیدا کرے، تجسس پیدا کرے اور اسے مسلسل سیکھنے کی ترغیب دے۔ایک اچھا استاد طالب علم کے سوال سے خوف زدہ نہیں ہوتا۔ وہ سوال کو ذہنی بیداری کی علامت سمجھتا ہے۔ کلاس روم میں اگر سوال پوچھنے کی آزادی ہو، اختلافِ رائے کا احترام ہو اور تحقیق کی حوصلہ افزائی ہو تو وہاں حقیقی تعلیم جنم لیتی ہے۔دنیا آج جس تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے، اس میں صرف وہی قومیں آگے بڑھ سکتی ہیں جو اپنی نئی نسل کو ’لرننگ ٹو لرن‘‘ کا ہنر سکھائیں۔ استاد کو اپنے طلبہ کو یہ سکھانا ہوگا کہ سیکھنا صرف اسکول یا کالج کی مدت تک محدود نہیں بلکہ پوری زندگی جاری رہنے والا عمل ہے۔

یہ بھی پڑھئے:ایران نے امریکہ اور اسرائیل کا بھرم توڑ دیا

تعلیم کا ایک اہم مقصد کردار سازی ہے۔ ذہین لیکن بددیانت انسان معاشرہ کیلئے فائدے کے بجائے نقصان کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ اس لئے تعلیم کے ساتھ اخلاقی تربیت ناگزیر ہے۔استاد کو طلبہ میں سچائی، دیانت، نظم و ضبط، وقت کی پابندی، محنت، برداشت، رواداری، دوسروں کا احترام اور سماجی ذمہ داری جیسے اوصاف پیدا کرنے چاہئیں۔ یہ اقدار کسی ایک مضمون کی کتاب سے نہیں آتیں، استاد کے اپنے کردار اور رویے سے منتقل ہوتی ہیں۔طالب علم اپنے استاد کی بات سے زیادہ اس کے عمل سے سیکھتا ہے۔ اگر استاد وقت کا پابند ہے تو طالب علم بھی وقت کی قدر سیکھتا ہے۔ اگر استاد اختلافِ رائے کا احترام کرتا ہے تو طالب علم بھی جمہوری رویہ اختیار کرتا ہے۔ اگر استاد دیانتدار ہے تو اس کا کردار طلبہ کیلئے خاموش درس بن جاتا ہے۔ایک مضبوط جمہوریت کیلئے باشعور شہری ضروری ہیں۔ جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں،یہ اختلافِ رائے کو قبول کرنے، قانون کا احترام کرنے، دوسروں کے حقوق کی حفاظت کرنے اور اجتماعی مفاد کو سمجھنے کا نام بھی ہے۔استاد اپنے طلبہ میں تنقیدی اور آزادانہ فکر پیدا کرکے جمہوریت کو مضبوط کرتا ہے۔ اسے طلبہ کو یہ سکھانا چاہئے کہ کسی بات کو محض اس لئے درست نہ سمجھا جائے کہ اسے کسی طاقتور شخص نے کہا ہے۔ دلیل، تحقیق اور شواہد کی بنیاد پر رائے قائم کرنا ایک مہذب اور جمہوری معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے۔آج سوشل میڈیا کے دور میں جھوٹی خبریں، افواہیں اور نفرت انگیز مواد تیزی سے پھیلتے ہیں۔ ایسے ماحول میں استاد کی ذمہ داری مزید بڑھ گئی ہے۔ اسے طلبہ میں ذرائع ابلاغ کی خواندگی پیدا کرنی ہوگی تاکہ وہ خبر اور افواہ، حقیقت اور پروپیگنڈے، دلیل اور تعصب کے درمیان فرق کر سکیں۔

یہ بھی پڑھئے:کیا پتہ تھا اس طرح پانی بہا لے جائے گا

یوم ِ اساتذہ، جو گزر گیا اور جو آئندہ سال پھر آئیگا، کا پیغام یہی ہے کہ ہم استاد کو صرف ایک پیشہ ور ملازم کے طور پر نہ دیکھیں بلکہ اسے قومی تعمیر کے اہم ترین کرداروں میں شمار کریں۔ تاہم، استاد کا احترام اسی وقت بامعنی ہوگا جب ہم اس کے فرائض اور ذمہ داریوں کو بھی سمجھیں۔آج دنیا میں وہی قومیں آگے بڑھ رہی ہیں جو علم کو اپنی قومی ترجیح بناتی ہیں۔ قدرتی وسائل محدود ہو سکتے ہیں، معاشی وسائل کم یا زیادہ ہو سکتے ہیں، لیکن ایک تعلیم یافتہ، باصلاحیت اور باکردار نسل کسی بھی ملک کے مستقبل کو بدل سکتی ہے اور ایسی نسل تیار کرنے کا آغاز کلاس روم سے ہوتا ہے۔کلاس روم میں کھڑا استاد بظاہر چند درجن طلبہ سے مخاطب ہوتا ہے، مگر حقیقت میں وہ آنے والی دہائیوں سے گفتگو کر رہا ہوتا ہے۔ اس کے الفاظ کسی ایک طالب علم کی سوچ بدل سکتے ہیں، اس کی حوصلہ افزائی کسی نوجوان کو کامیابی کی راہ دکھا سکتی ہے اور اس کا کردار پوری نسل کے لئے مثال بن سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK