• Thu, 03 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کیا پتہ تھا اس طرح پانی بہا لے جائے گا

Updated: September 03, 2026, 4:12 PM IST | Professor Sarwar Ul Huda | Mumbai

نیپال کا سیلاب سب کو خوف میں مبتلا کئے ہوئے ہیں۔ جنہوں نے اپنے پیارو ںکو کھویا وہ اس صدمے سے عرصہ دراز تک باہر نہیں آسکیں گے۔ پانی اُتر جانے کے بعد لوگ بھول جائینگے مگر ایسے واقعات کو بھلانا نہیں چاہئے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

اس وقت نیپال کا سیلاب ہر طرف موضوع گفتگو ہے۔ لیکن جو اطلاعات آرہی ہیں وہ اس ذکر سے بہت زیادہ اور بہت مختلف ہوں۔ ۲۶؍ اگست ۲۰۲۶ء کو سیلاب کی صورت دنیا نے جو کچھ دیکھا وہ بہت لوگوں نے پہلی بار دیکھا ہوگا۔ سیلاب کا تجربہ انسانی زندگی کے لیے ایک خوفناک تجربہ رہا ہے۔ تجربے سے گزرنے کے بعد ضروری نہیں ہے کہ زندگی میں واپس مل جائے۔ پانی میں ڈوبے ہوئے لوگ یا پانی سے گھرے ہوئے لوگ، کتنی مشکل میں ہوتے ہیں۔ پانی میں ڈوبے ہوئے لوگ پانی سے کچھ کہتے ہوں گے اور پانی بھی ان سے کچھ کہتا ہو گا۔ لیکن یہ خبر کون لائے گا اور کیا لائے گا کہ ڈوبنے والوں نے پانی سے کیا کہا اور پانی نے ڈوبنے والوں سے کیا کہا۔ کہنے اور سننے کے لیے کچھ باقی کہاں رہ جاتا ہے سوائے اس کہ کے وجود پانی کا ہو جاتا ہے اور پانی وجود کا۔ کچھ لوگ بہت مشکل سے خود کو پانی سے نکال لاتے ہیں اور انہی سے پتہ چلتا ہے کہ پانی خشکی کے مقابلے میں کتنا خطرناک ہے۔ کہا جاتا ہے کہ دنیا میں تہذیب کا ارتقا ان علاقوں میں پہلے ہوا جو ساحلی علاقے تھے۔  زندگی پانی سے  سیراب ہوتی گئی، پرندے بھی آنےلگے۔ 

یہ بھی پڑھئے: جیمے فاریہ کو شکست دے کر الکاراز یو ایس اوپن کے تیسرے راؤنڈ میں

پانی کی خبر اتنی تیزی کے ساتھ پھیلتی ہے کہ اس کا مقابلہ تیز رفتار خبر نگاری بھی نہیں کر سکتی مگر پانی کی خبر اس وقت خبر بنتی ہے جب خشکی کا علاقہ پانی کے ساتھ ہو جاتا ہے۔ پانی کی ضرورت اور کثرت کے درمیان لکیر اب کھینچی نہیں جا  سکتی۔ پانی کی آرزو ایک پانی میں زندگی کی آرزو ہے اور پانی ہے کہ وہ اس آرزو پر خاک ڈال دیتا ہے۔

نیپال سے جو خبریں ہیں آتی رہیں، وہ تصویروں کی شکل میں زیادہ اندوہ ناک تھیں۔ ایک بچہ کیچڑ سے لت پت اے ماں اے ماں کی آواز لگا رہا ہے۔ ہر طرف گدلا پانی، کیچڑ اور سناٹا ہے۔ اس میں ایک بچے کی آواز بربادی اور ویرانی کی علامت بن جاتی ہے۔ اسے دیکھنے کے بعد کچھ کہنے اور لکھنے کی ضرورت بھی شاید باقی نہیں رہ جاتی۔ لکھتے ہوئے لگتا ہے کہ جیسے ہم کسی رسمی اور رواجی عمل سے گزر  رہے ہیں۔ ایک بزرگ خاتون جن کی عمر ۹۷؍ سال ہے انہیں بھی بہت مشقتوں کے بعد دلدل سے نکالا گیا۔ ایک بچہ اور ایک بزرگ خاتون کے درمیان زندگی اور زمانے کا کتنا فاصلہ ہے مگر ایک قدرتی آفت اس فاصلے کو ختم کر دیتی ہے۔ بچہ اب کس حال میں ہے اور کہاں ہے، نہیں معلوم۔ نہ جانے کتنے بچے اس آواز سے پہلے پانی میں بہہ گئے ہوں گے۔ اور ان کی آواز کو صرف پانی نے سنا ہوگا۔ سیلاب اپنے شہر کے ساتھ کتنے انسانوں اور مکانوں کو بہا لے گیا۔ سیلاب نے کسی امتیاز کو باقی نہیں رکھا۔

یہ بھی پڑھئے: قاری نامہ: نیٹ پیپر نظام کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، کیا یہ مناسب ہے؟

موسم کی تبدیلی قدرت کا عام سا قاعدہ ہے مگر کبھی کسی موسم کی شدت اتنی بڑھ جاتی ہے کہ دوسرا موسم اس کی زد میں آ جاتا ہے۔ زمین کا وہ حصہ گلیشر کہلاتا ہے جو برف سے ڈھکا ہوا ہے۔ اسے برف کا پہاڑ بھی کہا جاتا ہے۔ گلیشر کی تشکیل زمین پر ہوتی ہے اور برف کی تشکیل اور تعمیر کھلے پانی میں۔ جغرافیائی اور ماحولیاتی عالموں کا کہنا ہے کہ کلائمٹ چینج کی وجہ سے گلیشر کا ایک بڑا حصہ ٹوٹ گر پڑا۔ اس ٹوٹ پھوٹ سے پانی،  ملبہ اور پتھر کا ایک سیلاب پہاڑوں سے نکل کر تباہی کا وسیلہ بن گیا۔ اس سیلاب کو فلیش فلڈ کا نام بھی دیا گیا یعنی وہ باڑھ جو اچانک آئی۔ یہ اطلاع بھی دہرائی جا رہی ہے کہ زمین کا دس فیصد حصہ گلیشر سے چھپا اور ڈھکا ہوا ہے۔ عام زندگی میں ہم برف کے پگھلنےکا انتظار کرتے رہتے ہیں۔ اور یہی بر ف اپنی کثرت کے ساتھ پہاڑ کی صورت میں زمین کو تہ و بالا کر دیتی ہے۔ ان تمام حقائق کے باوجود اصلی بات تو پانی میں گھرے ہوئے یا پانی سے گھرے ہوئے لوگ ہیں۔ انہیں دیکھ کر شفاف پانی کا خیال آتا ضرور ہے، مگر کیچڑ اور گدلا پانی سب سے بڑی سچائی معلو  م ہوتا ہے۔ شفاف پانی کی تمنا دراصل وہ صاف پانی ہے جو اب بھی بعض خطوں میں مشکل سے مل پاتا ہے۔ خبریں جو کچھ کہتی ہیں ان میں فطری طور پر اطلاعات پہنچانے کا جذبہ اور یہ جذبہ اس احساس سے خالی بھی ہو سکتا ہے جس کے نہ ہونے کی صورت میں خبریں ہمیں شیشے کا آدمی بنا دیتی ہیں۔ میں نے کیدار ناتھ سنگھ کی ایسی چار نظمیں بھی پڑھی ہیں جن کا تعلق پانی سے ہے۔ پانی کی پرارتھنا، پانی تھا میں، پانی میں گھرے ہوئے لوگ، پانی ایک روشنی ہے۔ پانی میں گھرے ہوئے لوگ سے یہ اقتباس دیکھیے: ’’پانی میں گھرے ہوئے لوگ/ دعا نہیں کرتے/ وہ پورے یقین سے دیکھتے ہیں پانی کو/ بنا کسی خبر کے/ خچر بیل یا بھینس کی پیٹھ پر/ گھر اسباب لاد کر / چل دیتے ہیں کہیں اور/ یہ کتنا نایاب ہے / کہ باڑھ چاہے جتنی بھیانک ہو / انہیں پانی میں/ تھوڑی سی جگہ ضرور مل جاتی ہے/ تھوڑی سی دھوپ/ تھوڑا سا آسمان/ پھر وہ گاڑ دیتے ہیں کھمبے / تان دیتے ہیں بورے / پانی میں گھرے ہوئے لوگ زندگی کو اس طرح بھی پکارتے اور سنوارتے ہیں‘‘۔ لیکن اتنی مہلت کہاں ملتی ہے کہ وہ پانی میں اپنے لیے تھوڑی سی جگہ تلاش کر سکیں۔ سیلاب سب کچھ بہا لے جاتا ہے۔ پھر بھی کیدار ناتھ سنگھ کی نظم کو پڑھتے ہوئے کہیں دور زندگی خود کو ملبے اور کیچڑ سے سر اٹھاتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’ٹیکنالوجی کی سہولت کے بدلے کہیں ہم اپنی خودمختاری تو نہیں کھو رہے؟‘‘

پانی کا زندگی کی آبادی اور بربادی سے کتنا عجیب رشتہ ہے۔ وہ پانی جو ساحلی علاقے میں انسانی زندگی اور تہذیبی اقدار کو وجود بخشتا ہے، وہی اپنی زیادتی کے ساتھ انسانی تہذیب کو تہ و بالا بھی کر دیتا ہے۔ کئی تہذیبی علاقے زلزلے اور سیلاب کی وجہ سے اپنی شناخت کھو بیٹھی ہیں۔ نیپال کی باڑھ نے نئے سرے سے زندگی، اور تہذیب کے بارے میں سوچنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جنگ ٹالی جا سکتی ہے سیلاب کو ٹالا نہیں جا سکتا۔ مگر دیکھیے کہ ایک ہی وقت میں دنیا جنگ سے دوچار بھی ہے اور سیلاب سے بھی۔

پانی اپنے ساتھ جو کچھ لے جاتا ہے اس کے باوجود یہ دنیا پھر راستہ رکھتی ہے اپنی پرانی روش کی طرف لوٹ جانے کا۔ وہ لوٹ بھی  جاتی ہے۔ یہ  پرانی روایت ہے جو کچھ سخت دلی اورکچھ  بے مروتی کی ہے۔ کیچڑ میں لت پت وجود کے درمیان بیٹھ کر زندگی کو دیکھ لیں اور محسوس کرلیں تو بہت ہے۔ کاش یہ انسان ایک اچھے معاشرے اور اچھی زندگی کا منصوبہ بنائے، کاش یہ پانی سے کچھ سیکھے۔n

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK