• Wed, 23 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

جنرل اسمبلی اجلاس اور فلسطین

Updated: September 23, 2026, 2:18 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

فلسطینی اتھاریٹی کے صدر محمود عباس اور اُن کے وفد کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اس طرح دور رکھا گیا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے اُنہیں امریکہ میں داخلے کی اجازت نہیں دی۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

فلسطینی اتھاریٹی کے صدر محمود عباس اور اُن کے وفد کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اس طرح دور رکھا گیا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے اُنہیں امریکہ میں داخلے کی اجازت نہیں دی۔ اس نے یہ کہہ کر ویزا دینے سے انکار کیا کہ فلسطینی قیادت امن کو یقینی بنانے کیلئے سنجیدہ نہیں ہے، اس نے امن سے متعلق وعدے پورے نہیں کئے اور اسرائیل کے خلاف قانونی اقدامات کے ذریعہ اس معاملے کو بین الاقوامی عدالتوں تک لے جانے کی جرأت کی۔ یہ لگاتار دوسرا سال ہے جب صدر سمیت فلسطین کے اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ ایسی حرکت کی گئی۔ مشکل یہ ہے کہ دعوت نامہ اقوام متحدہ نے دیا ہے اور شرکت سے امریکہ روک رہا ہے۔ اس پر اقوام متحدہ کو اَڑ جانا چاہئے تھا کہ فلسطین کو ویزا دینا ہوگا۔ اس کے لئے یو این ہیڈ کوارٹرس ایگریمنٹ کا حوالہ دیا جاسکتا تھا جس میں درج ہے کہ نیویارک میں اقوام متحدہ کے اجلاس کیلئے تمام غیر ملکی وفود کو امریکہ میں داخلے کی اجازت دینی ہوگی۔ مگر، ایسا نہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ افسوس کا اظہار کرکے رہ گیا جبکہ اسے آگے بڑھ کر فلسطینی وفد کو ویزا دینے کی وکالت کرنی چاہئے تھی۔

یہ بھی پڑھئے: ترنمول مکت بنگال بنانے کا ارادہ؟

کیا اقوام متحدہ نے اظہار ِ افسوس غیر جانبداری کا ڈھونگ رچانے کیلئے کیا؟ وہ بھی غیر جانبداری کا ڈھونگ ہی ہوتا اگر وہ واشنگٹن سے پوچھتا کہ فلسطینی وفد کو روکا گیا ہے تو اسرائیلی وفد کو کیوں نہیں۔ حقیقی غیر جانبداری کے تقاضے تو کئی ہیں۔ مثال کے طور پر یہ کہ جب تل ابیب غزہ کو تہس نہس کررہا تھا تب اقوام متحدہ خاموش تماشائی نہ بنا رہتا بلکہ اپنے اختیارات کا استعمال کرتا۔ اصل بات یہ ہے کہ عالمی ادارہ میں امریکہ سے سوال کرنےکی ہمت نہیں ہے۔ اس میں امریکہ کو یاد دلانے کا حوصلہ بھی نہیں ہے کہ امن کی دھجیاںتل ابیب نے اُڑائی ہیں فلسطین نے نہیں۔ فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیاں تل ابیب بسا رہا ہے فلسطین نہیں۔ دو قومی نظریہ کو نہ ماننے والا تل ابیب ہے، فلسطین نہیں۔ غزہ میں قتل عام تل ابیب نے کروایا ہے۔ غزہ کے انفراسٹرکچر کو تل ابیب نے تباہ کیا ہے۔ یہ ساری باتیں نہ کہہ کر اقوام متحدہ نے کچھ اور نہیں کیا اپنے بے مصرف ہونے کا اعلان کیا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ترنمول مکت بنگال بنانے کا ارادہ؟

ٹرمپ کسی قانون کو نہیں مانتے۔اگر وہ کسی دن اقوام متحدہ کو نہ ماننے کا اعلان کردیں تو تعجب نہیں ہوگا۔ جنوری ۲۶ء میں بورڈ آف پیس قائم کرکے انہوں نے اقوام متحدہ ہی کے متوازی ادارہ تشکیل دینے کی کوشش کی تھی جو ناکام ہوئی۔ اگر بورڈ آف پیس کو سپورٹ مل جاتا تو ٹرمپ اقوام متحدہ کو جھوٹے منہ نہ پوچھتے۔ 

بہرحال، یو این او نے اپنی غیر جانبداری کی لاج اس طرح رکھی کہ فلسطینی صدر سے ویڈیو کے ذریعہ خطاب کی گزارش کی۔ گزشتہ سال بھی محمود عباس نے اسی ذریعہ سے جنرل اسمبلی سے خطاب کیا تھا۔ یہاں اُن ۱۵۲؍ ملکوں کی انصاف پسندی کا اعتراف نہ کرنا بخل سے کام لینا ہوگا جنہوں نے فلسطینی وفد کو اجلاس میں باقاعدہ شرکت کی اجازت دینے کی قرارداد پر دستخط کئے۔ان ملکوں کو اپنی  تقاریر میں امریکی دھاندلی کی مذمت کرنی چاہئے کیونکہ اُن کا مطالبہ تسلیم نہیں کیا گیا ۔ اسی بنیاد پر انہیں نیتن یاہو کے خطاب کا بائیکاٹ بھی کرنا چاہئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK