• Wed, 23 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

افسانہ: مسکراہٹ کے پیچھے چھپا خطرناک شکاری

Updated: September 23, 2026, 2:59 PM IST | Ayesha Parveen | New Delhi

مریم ایک عام سی لڑکی تھی۔ وہ پڑھنے میں اچھی تھی، خواب دیکھتی تھی اور اسے یقین تھا کہ دُنیا میں اچھے لوگ زیادہ ہیں۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

مریم ایک عام سی لڑکی تھی۔ وہ پڑھنے میں اچھی تھی، خواب دیکھتی تھی اور اسے یقین تھا کہ دُنیا میں اچھے لوگ زیادہ ہیں۔

کالج کے پہلے سال میں اس کی ملاقات حمزہ سے ہوئی۔ حمزہ بات کرنے میں بہت نرم، خیال رکھنے والا اور سمجھدار لگتا تھا۔

اس نے مریم سے کہا، ’’تم باقی لڑکیوں جیسی نہیں ہو۔ تم بہت خاص ہو۔‘‘

یہ جملہ مریم کے دل میں اتر گیا۔

رفتہ رفتہ دونوں کی باتیں بڑھنے لگیں۔ حمزہ روز اس کا حال پوچھتا، اس کی پریشانی سنتا اور اسے یقین دلاتا کہ وہ ہمیشہ اس کے ساتھ رہے گا۔ مریم کو لگا کہ اسے ایک ایسا انسان مل گیا ہے جو واقعی اسے سمجھتا ہے۔

مگر کبھی کبھی انسان جسے محبت سمجھ رہا ہوتا ہے، وہ دراصل کسی کی بنائی ہوئی ایک خوبصورت جال ہوتا ہے۔

کچھ عرصے بعد حمزہ نے مریم سے اس کی ذاتی تصویریں مانگنا شروع کر دیں۔

’’اگر تم مجھ پر بھروسہ کرتی ہو تو بھیج دو....!‘‘ اس نے کہا۔

مریم نے پہلے انکار کیا، مگر حمزہ نے اسے جذباتی طور پر مجبور کیا۔

’’تمہیں مجھ پر اعتماد نہیں؟‘‘

یہ سوال بار بار سن کر مریم نے اپنی کچھ تصاویر اسے بھیج دیں۔

یہ اس کی زندگی کی سب سے بڑی غلطی ثابت ہوئی۔

چند دن بعد حمزہ کا رویہ بدلنے لگا۔ پہلے وہ گھنٹوں بات کرتا تھا، اب کئی کئی گھنٹے غائب رہتا۔ مریم پوچھتی تو جواب ملتا:

’’بہت مصروف ہوں۔‘‘

پھر ایک دن حمزہ نے اسے دھمکی دی۔

’’اگر تم نے میری بات نہیں مانی تو میں تمہاری تصاویر سب کو بھیج دوں گا۔‘‘

مریم کے ہاتھ کانپنے لگے۔

اس نے فون بند کر دیا۔

اس رات وہ پوری رات نہیں سو سکی۔ اسے اپنے والدین کا خیال آیا، اپنے کالج کا خیال آیا اور سب سے زیادہ اپنے مستقبل کا۔

وہ ڈر رہی تھی کہ اگر کسی کو معلوم ہو گیا تو لوگ کیا کہیں گے؟

اس کے ذہن میں صرف ایک ہی سوال تھا:

’’غلطی میری تھی یا اس شخص کی جس نے میرے اعتماد کا فائدہ اٹھایا؟‘‘

اگلے دن مریم نے اپنی سب سے قریبی سہیلی سارہ کو سب کچھ بتا دیا۔

سارہ نے اسے ڈانٹا نہیں۔

یہ بھی پڑھئے: افسانہ: وہ صبح جو ابھی آئی نہیں

اس نے صرف مریم کا ہاتھ پکڑا اور کہا:

’’تم نے غلط شخص پر بھروسہ کیا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ تم بری ہو۔ اب خاموش رہنا سب سے بڑی غلطی ہوگی۔‘‘

دونوں نے ثبوت محفوظ کئے۔ پیغامات کے اسکرین شاٹس لئے اور ایک قابلِ اعتماد بڑے شخص کو تمام حقیقت بتائی۔

حمزہ کو شاید امید نہیں تھی کہ مریم خاموش رہنے کے بجائے آواز اٹھائے گی۔

جب اسے معلوم ہوا کہ مریم نے مدد لے لی ہے تو اس نے دھمکیاں دینا بند کر دیں۔

لیکن مریم کے اندر کا خوف فوراً ختم نہیں ہوا۔ کئی دن تک وہ خود کو قصوروار سمجھتی رہی۔

پھر ایک دن اس کی ماں نے اس کے کمرے میں آ کر کہا:

’’بیٹی، انسان سے غلطی ہو سکتی ہے، مگر کسی کی غلطی کو اپنی پوری زندگی کی سزا مت بناؤ۔‘‘

مریم ماں کے سینے سے لگ کر رو پڑی۔

ماں نے کہا:

’’تمہاری عزت کسی کے فون میں محفوظ چند تصویروں سے نہیں ہے۔ تمہاری عزت تمہاری شخصیت، تمہاری نیت اور تمہارے کردار میں ہے۔‘‘ یہ الفاظ مریم کے دل میں اتر گئے۔

کچھ مہینے بعد وہ دوبارہ کالج جانے لگی۔

اس نے فیصلہ کیا کہ وہ صرف اپنی زندگی ہی نہیں سنوارے گی بلکہ دوسری لڑکیوں کو بھی ایسے لوگوں سے بچانے کی کوشش کرے گی۔

اس نے کالج میں اپنی سہیلیوں کے ساتھ ایک چھوٹا سا آگاہی گروپ بنایا۔ وہ لڑکیوں کو بتاتیں کہ ہر میٹھی بات کرنے والا انسان مخلص نہیں ہوتا، ہر ’’میں تم سے محبت کرتا ہوں‘‘ کہنے والا شخص محبت نہیں کرتا، اور ہر آن لائن تعلق محفوظ نہیں ہوتا۔

مریم اکثر ایک بات کہتی:

’’محبت وہ نہیں جو تمہیں ڈرائے، دھمکائے یا تمہاری کمزوری کو تمہارے خلاف استعمال کرے۔ محبت وہ ہے جس میں عزت، اعتماد اور آزادی ہو۔‘‘

ایک دن ایک نئی لڑکی اس کے پاس آئی۔ وہ بہت پریشان تھی۔

’’میڈم، ایک لڑکا مجھے بلیک میل کر رہا ہے۔ میں بہت ڈر گئی ہوں۔‘‘

مریم نے اسے غور سے دیکھا۔

کبھی یہی خوف اس کی آنکھوں میں بھی تھا۔

اس نے لڑکی کا ہاتھ پکڑا اور کہا:

’’ڈرو مت۔ سب سے پہلے خاموش مت رہو۔ کسی قابلِ اعتماد شخص کو بتاؤ۔ ثبوت محفوظ کرو اور مدد حاصل کرو۔ تم اکیلی نہیں ہو۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: افسانہ: کسک

لڑکی کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔

مریم نے اسے گلے لگا لیا۔

اس لمحے اسے محسوس ہوا کہ شاید اس کی تکلیف بے مقصد نہیں تھی۔

اس نے جو درد برداشت کیا تھا، وہ اب کسی دوسری لڑکی کے لئے راستہ روشن کر رہا تھا۔

آج معاشرے میں ٹیکنالوجی نے ہماری زندگی آسان بنائی ہے، مگر اسی کے ساتھ کچھ خطرات بھی بڑھ گئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر جعلی شناخت، جھوٹے وعدے، جذباتی دباؤ، بلیک میلنگ اور نجی معلومات کا غلط استعمال کئی نوجوان لڑکیوں کی زندگی کو متاثر کر رہا ہے۔ لیکن اس مسئلے کا حل لڑکیوں کو قید کرنا نہیں ہے۔

حل یہ ہے کہ انہیں تعلیم، شعور، اعتماد اور صحیح رہنمائی دی جائے۔

انہیں یہ سکھایا جائے کہ کسی بھی رشتے میں اپنی حدود قائم رکھنا ضروری ہے۔ اپنی ذاتی تصاویر اور معلومات کسی کے ساتھ بھیجنے سے پہلے سوچنا چاہئے۔ اگر کوئی شخص دھمکی دے تو شرمندگی کی وجہ سے خاموش نہیں رہنا چاہئے۔

اور سب سے اہم بات:

کسی لڑکی کو صرف اس لئے قصوروار نہیں ٹھہرانا چاہئے کہ اس نے کسی پر بھروسہ کیا تھا۔ قصور اس شخص کا ہے جس نے اعتماد کو ہتھیار بنایا۔

ہمیں اپنی بیٹیوں کو صرف یہ نہیں سکھانا چاہئے کہ:

’’لڑکوں سے بچ کر رہنا۔‘‘

ہمیں اپنے بیٹوں کو بھی یہ سکھانا ہوگا کہ عورت کی عزت کرنا، اس کی مرضی کا احترام کرنا اور اس کے اعتماد کی حفاظت کرنا مردانگی ہے۔

مریم نے بھی یہی سیکھا تھا۔

اس نے اپنی زندگی کا سب سے مشکل باب ختم نہیں کیا تھا، بلکہ اسے ایک نئے باب میں بدل دیا تھا۔

اب جب بھی کوئی لڑکی اس کے پاس مدد کے لئے آتی، وہ اسے ایک ہی بات کہتی:

’’تمہاری ایک غلطی تمہاری پوری زندگی کا فیصلہ نہیں کرتی۔ تمہیں ڈر کر نہیں، سمجھداری اور حوصلے کے ساتھ آگے بڑھنا ہے۔‘‘

اور شاید یہی وہ لمحہ تھا جب مریم واقعی آزاد ہوئی۔

حمزہ سے نہیں.....

بلکہ اس خوف سے جو حمزہ نے اس کے دل میں پیدا کیا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK