بچوں کو صحت بخش کھانے کی طرف راغب کرنے کا مشورہ دیا جائے تو عموماً یہی جواب ملتا ہے کہ بچے اِن کھانوں سے بھاگتے ہیں اور فاسٹ فوڈ اور دوسری غیر صحتمند غذائیں پسند کرتے ہیں۔ اس صورت میں ماؤں کو کم عمر ہی سے بچوں کو صحت بخش غذاؤں کی طرف رغبت دلانی چاہئے اور گھر کے بڑوں کو بھی فاسٹ فوڈ کا کم سے کم استعمال کرنا چاہئے۔
بچوں کو کم عمر ہی سے صحت بخش غذا کھانے کی عادت ڈالیں تاکہ بڑھتی عمر کے ساتھ یہ عادت پختہ ہوجائے۔ تصویر: آئی این این
موجودہ دور میں بچے باہر کا کھانا بہت زیادہ پسند کرنے لگے ہیں۔ چپس، کینڈی، چاکلیٹ، برگر، پیزا، سوڈا ڈرنکس وغیرہ چیزیں ان کی پسندیدہ ہوتی ہیں۔ جس کی وجہ سے آج کے بچوں کو کم عمری ہی سے صحت کے کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس صورت میں والدین، خاص طور پر ماؤں کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کو صحت بخش کھانوں کی طرف راغب کریں۔ خیال رہے کہ بچوں کی بہتر نشوونما کے لئے مناسب خوراک ضروری ہے۔ اسکول جانے والے بچوں کو غذائیت کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ چار سے سات سال کی عمر میں بچوں کی بڑھوتری تیزی سے ہوتی ہے اور انہیں دن بھر کے مشاغل اور مصروفیات کیلئے ایسی غذاؤں کی ضرورت ہوتی ہے، جو چاہے مقدار میں کم ہوں، لیکن بچوں کو مکمل غذائیت فراہم کریں۔ بچوں کو صحت بخش کھانے کی طرف راغب کرنے کا مشورہ دیا جائے تو عموماً یہی جواب ملتا ہے کہ بچے اِن کھانوں سے بھاگتے ہیں اور صحیح خوراک کے بجائے فاسٹ فوڈ اور دوسری غیر صحتمند غذاؤں کی طرف زیادہ توجہ دیتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مائیں بچوں کی ابتدائی عمر میں ان کیلئے جن غذاؤں کا انتخاب کریں گی وہ اگلے چند برسوں میں ان کی صحت اور کھانے پینے کی عادات پر براہ راست اثرانداز ہوں گی۔ اسلئے بچوں کو کم عمر ہی سے صحت بخش غذا کھلائیں۔ غذائیت سے بھرپور خوراک بچوں کی صحت سمیت ان کے ذہن کو تیز کرنے اور ان کے مزاج پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بچوں کی نشوونما کو بہتر بنانے کیلئے سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ کس عمر کے بچے کو کھانے میں کتنی کیلوریز کی ضرورت ہے۔ بچوں کو ایسی غذائیں دیں جس میں مناسب مقدار میں تمام غذائی اجزاء موجود ہوں۔
یہ بھی پڑھئے: اہم سوال: کیا صرف سونے سے تھکن دور ہو جاتی ہے؟
پڑھنے والے بچوں کو زیادہ کیلوریز کی ضرورت ہوتی ہے۔ تاہم، اس کی زیادتی موٹاپے کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ ایسی صورت میں ماں کو چاہئے کہ وہ بچے کو فاسٹ فوڈ اور دوسرے غیر صحت بخش کھانوں سے دور رکھیں اور اسے جسمانی سرگرمیوں کی طرف راغب کریں۔ جسمانی کھیل کود کے ساتھ اس کی غذائی عادات کو بھی تبدیل کرنا بے حد ضروری ہے۔ بچے کو غذائیت سے بھرپور ایسے کھانے دیں، جن سے ان کی جسمانی صحت پر مثبت اثر پڑے اور ان کا موٹاپا بھی کنٹرول میں رہے۔ ایسے چند غذائی اجزاء کے بارے میں جاننا ضروری ہے، جس سے بچے کو متوازن غذا مل سکے۔
صحت کے لئے آئرن ایک ایسا وٹامن ہے جو نہ صرف جسم کے سرخ خلیوں کو صحتمند رکھتا ہے، بلکہ خون میں آکسیجن کی فراہمی کاکام بھی انجام دیتا ہے۔ آئرن کی کمی کی وجہ سے اینیما کی بیماری بھی لاحق ہو جاتی ہے، لیکن چھوٹے بچوں میں یہ بیماری بڑوں کی نسبت کم ہوتی ہے۔ آئرن سے بھرپور غذائیں جیسے کہ گوشت، کلیجی، بیج، سبزیوں کا استعمال کرنا چاہئے۔ اس کے لئے بچوں کو ایسی سبزیوں کا استعمال کرائیں، جو وٹامن سی سے بھرپو رہوں۔
کیلشیم ہماری ہڈیوں کے لئے ایک اہم عنصر ہے۔ کیلشیم کے حصول کے لئے ضروری ہے کہ خوراک میں دودھ اور اس سے تیار شدہ اشیاء شامل ہوں، جیسے مکھن، پنیر اور دہی وغیرہ۔ اس کے علاوہ کیلشیم کے حصول کے لئے مالٹے کا رس اور ہرے پتوں والی سبزیاں بھی بچوں کی غذا میں شامل رکھیں۔ اس بات کا خیال رکھیں کہ بچے کو روزانہ کیلشیم پر مشتمل غذا ضرور دیں، جیسے دودھ کی ایک پیالی یا پھر ایک پیالی تازہ دہی۔ کیلشیم تو ویسے بھی ساری زندگی ہڈیوں کو مضبوط رکھنے کے لئے ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بازار سے لائی ہوئی سبزیوں اور پھلوں کو محفوظ کرنے کا درست طریقہ جانئے
بچے وٹامن بی کو بہت کم مقدار میں لیتے ہیں۔ خاص طور پر ایسے بچے جو صبح ناشتہ نہیں کرتے، حالانکہ یہ وٹامن بچے کی نشوونما کے لئے بہت اہم ہے۔ وٹامن بی کے حصول کے لئے ڈبل روٹی اور ہرے پتوں والی سبزیوں کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔
بچے میٹھا بہت شوق سے کھاتے ہیں، لیکن میٹھی غذائیں موٹاپے کا سبب بھی بنتی ہیں۔ بسکٹ، کیک، پیسٹری، چاکلیٹ، میٹھائیاں، کولڈڈرنکس وغیرہ۔ یہ غذائیں اگر کم مقدار میں استعمال کی جائیں تو مناسب ہے، کیونکہ یہ غذائیں بہت زیادہ کیلوریز پر مشتمل ہوتی ہیں، جنہیں زیادہ کھانے سے موٹاپے کا اندیشہ ہے۔ جسم کو ان کی بہت زیادہ ضرورت نہیں ہوتی، کیونکہ اس طرح کی غذاؤں میں معدنیات اور وٹامن زیادہ نہیں ہوتے۔ اس لئے بچوں کو کم مقدار میں شوگر پر مشتمل اشیاء دیں اور ہمیشہ میٹھی اشیاء بچوں کو کھانے کے بعد دیں، اس سے یہ ہوگا کہ پھر وہ زیادہ مقدار میں نہیں کھائیں گے اور موٹاپے کا شکار نہیں ہوں گے۔
مندرجہ بالا غذائی اجزاء صحت کے لئے بہت اہم اور ضروری ہیں۔ ان کا استعمال بچوں اور بڑوں کے لئے ضروری ہے۔ اس لئے انہیں روزمرہ کی خوراک میں شامل رکھیں۔ خاص طور پر بچوں کی غذا پر توجہ دیں اور انہیں ایسی غذا دیں، جو غذائیت سے بھرپور ہو اور ذائقے دار بھی۔ ساتھ ہی انہیں روز بدل بدل کر غذا کھانے کو دیں۔