Inquilab Logo Happiest Places to Work

بھوک اور ہڑتال

Updated: July 20, 2026, 12:17 PM IST | Mumbai

سونم وانگ چک کی بھوک ہڑتال کم و بیش اکیس دن جاری رہی۔ جس وقت یہ سطریں لکھی جا رہی ہیں وہ اسپتال میں ہیں۔ پیر کو انہیں سنسد تک مارچ میں حصہ لینا ہے۔ کہا نہیں جاسکتا کہ وہ اس میں شریک ہو سکیں گے یا نہیں۔

Sonam Wangchuck on hunger strike. Photo: INN
سونم وانگچک بھوک ہڑتال پر۔ تصویر: آئی این این

سونم وانگ چک کی بھوک ہڑتال کم و بیش اکیس دن جاری رہی۔ جس وقت یہ سطریں لکھی جا رہی ہیں وہ اسپتال میں ہیں۔ پیر کو انہیں سنسد تک مارچ میں حصہ لینا ہے۔ کہا نہیں جاسکتا کہ وہ اس میں شریک ہو سکیں گے یا نہیں۔ ان کی بھوک ہڑتال اندورن ملک ہی نہیں بیرون ملک بھی موضوع بحث تھی اور اب بھی ہے کیونکہ سونم ماحولیاتی رضاکار، تعلیم کیلئے سرگرم شخصیت، سائنسداں اور مصنوعی برفانی تودوں (گلیشیر، آئس اسٹوپا) کے موجد کے طور پر بین الاقوامی شہرت کے حامل ہیں۔ ایک ریمن میگسیسے ہی نہیں، انہیں اور بھی کئی اہم اعزازات حاصل ہوچکے ہیں۔ لداخ کے قدرتی ماحولیاتی نظم کی حفاظت کیلئے ان کی خدمات قابل قدر ہیں۔ انہی کی وجہ سے جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج کو وہ شہرت حاصل ہوئی جو بصورت دیگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور تھی۔ مگر یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ ان کے ساتھ کئی طلبہ بھی بھوک ہڑتال پر تھے اور ہیں۔ ان میں نیہا بورا ہیں جو جے این یو میں پی ایچ ڈی کی اسٹوڈنٹ اور آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی نیشنل پریسیڈنٹ ہیں۔ ان کی حالت بھی تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ چند روز قبل دیپک نامی ایک طالب علم کی حالت بگڑی تو انہیں اسپتال داخل کرایا گیا تھا۔ دیپک کا تعلق دہلی یونیورسٹی سے ہے۔ اسی طرح ایک طالب علم منیش اور ایک آمین ہے۔ ان سب کے حوصلے کی داد دیئے بغیر نہیں رہا جا سکتا جو سخت مخالف ماحول میں بھی ستیہ گرہ کے گاندھیائی طریقے پر چل رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: طلبہ کے احتجاج میں ڈرامائی موڑ

ساٹھ سال کی عمر میں سونم وانگ چک کی جوانوں جیسی بہادری اور عزم کی بلندی قابل تعریف تو ہے مگر ان کے ساتھ مذکورہ بالا اور دیگر طالب علموں کا حوصلہ بھی یکساں تعریف کا مستحق ہے جن کیلئے شاید یہ پہلا تجربہ ہو۔ ہم سونم اور ان کے ساتھ بھوک ہڑتال کرنے والے طلبہ کے عزم، تحمل اور جذبہ قربانی سے متاثر ہیں مگر کتنے لوگ سوچتے ہوں گے کہ بیس دن کچھ کھائے بغیر رہنا کیسا ہوتا ہوگا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انسان چاہے تو غذا کے بغیر ہفتہ دس دن گزار سکتا ہے بشرطیکہ بھلے ہی وہ بھوکا رہے مگر پانی پیتا رہے۔ جسم کو پانی کی مناسب مقدار ملتی رہے تو سنگین اور فوری قسم کے طبی مسائل پیدا نہیں ہوتے۔ غذا اور پانی دونوں سے احتراز کیا جائے تو جسمانی صحت کے اعتبار سے انسان تین تا سات دن جی سکتا ہے۔بھوک اور غذا کے اس پس منظر میں سوچنا چاہئے کہ بھوک ہڑتال کا معنی کیا ہے، اس کیلئے کیسا جذبہ درکار ہے اور کون اس راہ پر گامزن ہونے کیلئے خود کو آمادہ کرسکتا ہے۔ سونم وانگ چک کا وزن کم ہوگیا ہے اور طبی معیارات کے مطابق کئی کمیاں آ گئی ہیں جو پیچیدگیوں میں بدل سکتی ہیں مگر جذبہ اور دھن ہے کہ کم نہیں ہوئی۔ یہی جذبہ اور دھن ہے جو ایسا جوکھم اٹھانے کیلئے ضروری ہے۔ بہت سے لوگ اس کاز میں شامل ہوسکتے ہیں، ہوتے ہیں مگر مسلسل کئی دنوں تک خود کو اس آزمائش سے گزارنے کیلئے ایک الگ قوت درکار ہوتی ہے۔ یہ قوت سونم وانگ چک اور بھوک ہڑتال میں ان کا ساتھ دینے والے مذکورہ بالا طلبہ میں بہ آسانی دیکھی جاسکتی ہے۔ مقام حیرت ہے کہ ارباب اقتدار ان کے جذبے کی قدر کرنے کو تیار نہیں جبکہ ملک و بیرون کے عوام و خواص کی بڑی تعداد ان کی حمایت میں جو کچھ لکھ رہی ہے اس سے سوشل میڈیا اٹا پڑا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK