ممتا ہی جیتیں گی، ایسا اس لئے لگتا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے جتنے جارحانہ انداز میں گزشتہ چند انتخابات میں رائے دہندگان پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی وہ کسی سے مخفی نہیں ہے۔ اُتنے جارحانہ انداز میں اگر کوئی پارٹی بنگال میں الیکشن لڑ سکتی ہے تو وہ ترنمول کانگریس ہے اور ترنمول بھی اس لئے کہ اس کی سربراہ ممتا بنرجی ہیں۔
ممتا بنرجی ۔ تصویر:پی ٹی آئی
ممتا ہی جیتیں گی، ایسا اس لئے لگتا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے جتنے جارحانہ انداز میں گزشتہ چند انتخابات میں رائے دہندگان پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی وہ کسی سے مخفی نہیں ہے۔ اُتنے جارحانہ انداز میں اگر کوئی پارٹی بنگال میں الیکشن لڑ سکتی ہے تو وہ ترنمول کانگریس ہے اور ترنمول بھی اس لئے کہ اس کی سربراہ ممتا بنرجی ہیں۔ ممتا نے اُس دور سے، جب وہ کانگریس میں تھیں، سڑکوں پر لڑائی لڑنے والی خاتون کے طور پر ہی اپنی پہچان بنائی ہے۔ اس وقت بی جے پی کی جارحیت کا مقابلہ بائیں بازو کی پارٹیاں نہیں کررہی ہیں جنہوں نے ۱۹۷۷ء سے لے کر ۲۰۱۱ء تک کم و بیش ۳۴؍ سال مغربی بنگال پر حکومت کی اور جس کے دو وزرائے اعلیٰ (جیوتی بسو اور بدھا دیب بھٹا چاریہ) ہوئے مگر ان میں بی جے پی سے بی جے پی کے انداز میں لڑنے کی نہ تو طاقت ہے نہ صلاحیت۔
یہ طاقت اور صلاحیت کانگریس میں بھی نہیں ہے اور یہ بات اس کیلئے شرمناک ہے کیونکہ مغربی بنگال میں کبھی اس کا طوطی بولتا تھا۔ اس نے آزادی کے بعد سے ۱۹۶۲ء تک مغربی بنگال پر بلا شرکت غیرے حکومت کی اور اس کے چار وزرائے اعلیٰ ہوئے (ڈاکٹر بی سی رائے: چار مرتبہ، پرفل چندر سین: دو مرتبہ، اجوئے کمار مکھوپادھیائے: تین مرتبہ اور سدھارتھ شنکر رے: ایک مرتبہ)۔ بنگال کے عوام بائیں بازو اور کانگریس کی کوتاہیوں کو درگزر کرکے اُن کے اُمیدواروں کو کامیاب کرنا چاہیں تب بھی نہیں کرسکتے کیونکہ جانتے ہیں کہ مقابلہ بی جے پی سے ہے اور اس کیلئے موزوں ترین شخصیت ممتا بنرجی اور موزوں ترین پارٹی ٹی ایم سی ہے۔
اس حقیقت سے کانگریس بھی واقف ہے اس لئے چاہتی ہے کہ چند سیٹوں کو چھوڑ کر دیگر سیٹوں پر ممتا کی پارٹی ہی کا بول بالا ہو اور کسی بھی قیمت پر بی جے پی کو موقع نہ ملے۔ ویسے تو کانگریس کی ریلیوں میں بی جے پی اور ٹی ایم سی دونوں ہی کو ہدف بنایا جا رہا ہے مگر اس احتیاط کے ساتھ کہ بی جے پی کے خلاف ۷۰؍ فیصد اور ٹی ایم سی کے خلاف ۳۰؍ فیصد بولا جائے۔ یاد رہنا چاہئے کہ ۲۰۲۱ء کے اسمبلی انتخابات میں مجموعی سیٹوں (۲۹۴) میں سے ٹی ایم سی کو ۲۱۳؍ اور بی جے پی کو ۷۷؍ سیٹیں ملی تھیں۔ یہ الیکشن کانگریس اور بایاں محاذ دونوں ہی کے مکمل صفایہ کا الیکشن تھا جس میں کانگریس کو نہ ہی سی پی آئی اور سی پی ایم کو ایک بھی سیٹ ملی تھی۔
حکمت عملی کے طور پر ٹی ایم سی کی خاموش حمایت درست ہے مگر بحیثیت پارٹی کیا کانگریس اور سی پی آئی، سی پی ایم کو یہ منظور ہے کہ بنگال میں اُن کی زمین ہی ختم ہوجائے جہاں ان کی ساکھ بہت مضبوط ہوا کرتی تھی۔مانا کہ بی جے پی کے پاس غیر محدود وسائل ہیں مگر ضروری نہیں کہ وسائل سے عوام کا اعتماد خرید لیا جائے۔ کانگریس اور سی پی ایم کو عوام کے ساتھ اپنے دیرینہ روابط کو از سر نو بحال کرنا چاہئے جس پر یہ پارٹیاں توجہ نہیں دے پائیں اور اب بھی اس معاملے میں پیچھے ہیں۔ سابقہ اسمبلی الیکشن میں دونوں ہی پارٹیوں کا ووٹ فیصد یک عددی تھا (سی پی ایم ۵؍ فیصد اور کانگریس ۳؍ فیصد) جبکہ بی جے پی ۳۴؍ فیصد تک پہنچ گئی تھی۔ مشکل یہ ہے کہ ٹی ایم سی، کانگریس اور سی پی ایم میں اتحاد بھی نہیں ہوسکتا کیونکہ سی پی ایم اور ٹی ایم سی کی نہیں بنتی اور ٹی ایم سی کانگریس قریب آ بھی گئے تو دور ہی رہتے ہیں۔ تو کیا مان لیا جائے کہ بنگال میں یہ پارٹیاں اب کبھی نہیں اُبھریں گی؟