Inquilab Logo Happiest Places to Work

حسرت جے پوری کے لکھے ہوئے ٹائٹل گیت آج بھی مقبول ہیں

Updated: April 15, 2026, 10:52 AM IST | Agency | Mumbai

ہندی فلموں میں جب بھی ٹائٹل گیتوںکاذکر ہوتا ہے، نغمہ نگار حسرت جے پوری کا نام سب سے پہلے لیا جاتا ہے۔ ویسے توحسرت جے پوری نےہر طرح کے گیت لکھے لیکن فلموں کے ٹائٹل گیت لکھنے میں انہیں مہارت حاصل تھی۔ہندی فلموں کے سنہری دور کے دوران ٹائٹل گیت لکھنا بڑی بات سمجھی جاتی تھی۔

Hasrat Jaipuri, The Magician Of The Pen.Photo:INN
قلم کے جادوگر حسرت جے پوری-تصویر:آئی این این
ہندی فلموں میں جب بھی ٹائٹل گیتوںکاذکر ہوتا ہے، نغمہ نگار حسرت جے پوری کا نام سب سے پہلے لیا جاتا ہے۔ ویسے توحسرت جے پوری نےہر طرح کے گیت لکھے لیکن فلموں کے ٹائٹل گیت لکھنے میں انہیں مہارت حاصل تھی۔ہندی فلموں کے سنہری دور کے دوران ٹائٹل گیت لکھنا بڑی بات سمجھی جاتی تھی۔ فلمسازوں کو جب بھی ٹائٹل گیت کی ضرورت ہوتی تھی، سب سے پہلےحسرت جے پوری سے رابطہ کیاجاتا تھا۔ ان کے تحریر کردہ ٹائٹل گیتوں نےکئی فلموں کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ حسرت جے پوری کے قلم سے نکلے کچھ ٹائٹل گیت اس طرح ہیں: دیوانہ مجھ کو لوگ کہیں (دیوانہ)، دل ایک مندر ہے (دل ایک مندر)، رات اور دن دیا جلے (رات اور دن)،تیرے گھر کے سامنے ایک گھر بناؤںگا (تیرے گھر کے سامنے) این ایوننگ ان پیرس (این ایوننگ ان پیرس)گمنام ہے کوئی (گمنام)، دو جاسوس کریں محسوس (دو جاسوس)۔
حسرت جے پوری کا اصل نام اقبال حسین تھا۔ ان کی پیدائش ۱۵؍اپریل۱۹۲۲ءکوہوئی تھی۔جے پور میںابتدائی تعلیم حاصل کرنےکے بعد انہوں نے اپنے دادا فدا حسین سے اردو اور فارسی کی تعلیم حاصل کی۔ ۲۰؍برس کی عمر تک پہنچے پہنچتے ان کا رجحان شاعری کی طرف مائل ہوگیا اور وہ چھوٹی چھوٹی غزلیں لکھنے لگنے۔
۱۹۴۰ءمیں فکر معاش میںحسرت جے پوری نے ممبئی کارخ کیا اور زندگی گزارنے کے لئےکنڈکٹر کی نوکری کرنےلگے۔اس کام کیلئے انہیں صرف۱۱؍ روپےتنخواہ ملتی تھی۔ اس دوران انہوں نے مشاعروں میںحصہ لینا شروع کردیا۔ اسی بیچ ایک پروگرام میں پرتھوی راج کپور ان کی غزل سے کافی متاثر ہوئے اور انہوں نے اپنے بیٹے راج کپور کو حسرت سے ملنے کی صلاح دی۔ 
 
 
راج کپور ان دنوں اپنی فلم ’برسات‘کے لئے کسی نغمہ نگار کی تلاش میں تھے۔ انہوں نے حسرت جے پوری کو ملنے کی دعوت دی۔ راج کپور سے حسرت کی پہلی ملاقات ’رائل اوپیرا ہاؤس‘میں ہوئی اور اپنی فلم برسات کیلئےان سے گیت لکھنے کی فرمائش کی۔ یہ بھی ایک اتفاق ہی ہےکہ فلم برسات سے ہی موسیقار شنکر جے کشن نے بھی اپنے فلمی سفر کا آغاز کیا تھا۔ حسرت جے پوری کی جوڑی راج کپور کے ساتھ ۱۹۷۱ءتک قائم رہی۔ سنگیت کار جے کشن کی موت کے بعدراج کپور نے حسرت جے پوری کی جگہ آنند بخشی کو اپنی فلموںکیلئے منتخب کیا۔حالانکہ اپنی فلم پریم روگ کیلئے راج کپور نے ایک بار پھر سےحسرت جے پوری کو موقع دینا چاہالیکن بات نہیںبنی۔اس کے بعد حسرت جے پوری نے راج کپور کی فلم رام تیر ی گنگا میلی میں سن صاحبہ سن گیت لکھا جو کافی مقبول ہوا۔ 
 
 
حسرت جےپوری کو دو بار فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا گیا۔حسرت جےپوری ورلڈ یورنیورسٹی ٹیبل کے ڈائریکٹ ایوارڈاوراردو کانفرنس میں جوش ملیح آبادی ایوارڈسےبھی نوازا گیا۔ فلم میرے حضور میں ہندی اور برج بھاشامیں جھنک جھنک تیری باجے پائلیاکیلئے امبیڈکر ایوارڈ سے نوازا گیا۔ حسرت جے پوری نے۳؍ دہائیوںپرمشتمل اپنےفلمی کریئر میں۳۰۰؍سےزائد فلموںکےلئے تقریباً۲؍ ہزار نغمےلکھے۔اپنےنغموں سے سامعین کو محظوظ کرنے والے شاعر اور گیت کار ۱۷؍ستمبر۱۹۹۹ءکو اپنے مداحوں کے لئے ’تم مجھے یوں بھلا نہ پاؤگے ، جب کبھی بھی سنو گے گیت میرے ، سنگ سنگ تم بھی گنگناؤ گے‘ جیسا نغمہ چھوڑ کر اس دنیا کو الوداع کہہ گئے۔ 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK