Inquilab Logo Happiest Places to Work

جو ہے مفہوم آزادی، وہی مقسوم آزادی

Updated: August 15, 2026, 3:59 PM IST | Shahid Latif | Mumbai

’آزادی‘ ایک وسیع المعنی لفظ ہے۔ یہ صرف پندرہ اگست نہیں ہے۔ یہ صرف آزاد فضا میں سانس لینے کا نام نہیں ہے۔ یہ بہت کچھ ہے۔ اس میں دریاؤں کی سی وسعت ہے۔جو لوگ آزادی کو محدود معنوں میں سمجھتے ہیں اُنہیں اس کی وسعت پر غور کرنا چاہئے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این
۲۰۰۱ء میں، اس مضمون نگار کے ۲۴؍ روزہ امریکی دورہ میں مختلف ملکوں کے جو نمائندے امریکی وزارت خارجہ کی دعوت پر واشنگٹن پہنچے تھے، ان میں ایک جواں سال فلسطینی عصام سعد بھی تھا۔ اس دورہ سے پہلے غزہ کے اس نوجوان سے کوئی تعارف نہیں تھا مگر دورہ کے دوران جب جب وہ دکھائی دیتا، بڑی اپنائیت کا احساس ہوتا تھا صرف اس لئے کہ وہ فلسطینی تھا۔ ایک مرتبہ ہم جس عمارت کے قریب کھڑے اپنے دیگر ساتھیوں کا انتظار کررہے تھے، اس نوجوان کی نظر امریکی پرچم پر پڑی تو اُس کا ردعمل دیکھنے جیسا تھا۔ برا سا منہ بناتے ہوئے اس نے کہا تھا: اس کو دیکھ کر میرا خون کھولنے لگتا ہے۔
 
 
ان چند لفظوں میں عصام اور اس جیسے ہزاروں فلسطینیوں کا درد ہی نہیں، ظلم و جبر کی تاریخ کا عکس بھی تھا جسے دنیا کے تمام درد مند انسان ہمیشہ محسوس کرتے رہے ہیں مگر عصام اور اس کے ہم وطنوں نے اُس درد کو بھی اور اُس تاریخ کو بھی جیا ہے۔ آدمی نئے پرانے ملاقاتیوں سے سیکڑوں جملے سنتا ہے۔ انہی جملوں میں ملفوف کبھی کبھی وہ جملہ بھی ہوتا ہے جو برسوں یاد رہتا ہے۔ عصام کا جملہ بھی ایسا ہی تھا  جو مجھے اب تک یاد ہے۔ یہ ایسے نوجوان کی زبان سے نکلا تھا جو ۱۸؍ ملکوں کے ۲۴؍ نمائندوں میں سب سے زیادہ کھلنڈرا تھا۔ نچلا بیٹھنا جانتا ہی نہیں تھا۔ اب سوچتا ہوں کہ کھلنڈرا پن اُس کی فطرت تھی اور ظلم و جبر اُس کا مقدر (اگر اسے مقدر کہنا درست ہو)۔ 
اس وقت مجھے سعادت حسن منٹو کا منگو کوچوان بھی یاد آرہا ہے۔ تانگا چلاتا تھا۔ پڑھا لکھا بالکل نہیں تھا مگر تانگے پر سوار ہونے والے بالخصوص پڑھے لکھے لوگوں کی باتیں سن کر اپنے علم میں اضافہ کرتا تھا۔ اس کا خون گوروں کو دیکھ کر کھولتا تھا۔ ایک دن اس نے تانگے میں بیٹھنے والے دو سواروں کی زبانی سنا کہ یکم اپریل کو کوئی نیا قانون آنے والا ہے۔ منگو یہ سمجھا کہ نئے قانون کے ذریعہ ہندوستان کو آزادی مل جائیگی اور انگریز خس کم جہاں پاک ہو جائینگے۔ تب ہی سے وہ یکم اپریل کا نہایت بے چینی سے انتظار کرنے لگا۔ بقول منٹو: ’’منگو کوچوان کو انگریزوں سے بڑی نفرت تھی۔ اس نفرت کا سبب وہ تو یہ بتلایا کرتا تھا کہ وہ ہندوستان پر اپنا سکہ چلاتے ہیں اور طرح طرح کے ظلم ڈھاتے ہیں مگر اس کے تنفر (نفرت) کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ چھاؤنی کے گورے اسے بہت ستاتے تھے۔ ان کا رنگ بھی اسے پسند نہیں تھا۔ جب کبھی وہ گورے کے سرخ و سپید چہرے کو دیکھتا تو اسے متلی آ جاتی۔‘‘(افسانہ ’’نیا قانون‘‘) 
 
 
آپ کہیں گے فلسطین کے عصام سعد اور دہلی کے منگو کوچوان کے تذکرہ میں کیا ربط ہے؟ کون سی قدر مشترک ہے؟ اس کا سیدھا سا جواب یہ ہے کہ دونوں جبر کی زندگی سے نجات چاہتے ہیں۔ عصام کا چہرا امریکی پرچم دیکھ کر متغیر ہوتا ہے کیونکہ امریکہ اسرائیل کی پشت پناہی کرتا ہے جبکہ منگو گوروں کو دیکھ کر بے چین ہوجاتا ہے۔ دونوں میں آزادی کی شدید خواہش کروٹیں لے رہی ہے۔ 
جس طرح غذا کی قدر سب سے زیادہ اُسے ہوتی ہے جو بھوک سے بے حال ہو، اسی طرح آزادی کو تصور کے پردہ پر ہزار رنگوں میں وہ دیکھتا ہے جو غلامی یا غلامی جیسے حالات سے دوچار ہو اور اپنی حکومت (سیلف رول) کی تمنا اُس کی تمام تمناؤں پر حاوی ہو۔
انگریزوں کے تسلط کے دور میں غیر ملکی حاکموں سے منگو کوچوان جیسے جذبات رکھنے والے ہندوستانیوںکی تعداد کروڑوں میں رہی ہوگی (۱۹۴۷ء میں ہندوستان کی آبادی=۱۳؍ کروڑ ۱۹؍ لاکھ)۔ ہر غیرت مند ہندوستانی ایسا ہی رہا ہوگا خواہ وہ اتنا عجلت پسند نہ رہا ہو جتنا منگو تھا یا اس کے مزاج میں اتنی برہمی نہ رہی ہو جتنی منگو میں تھی مگر ہندوستانیوں کی اکثریت انگریز مخالف رہی ہوگی اور صدق دل سے چاہتی رہی ہوگی کہ ملک آزاد ہو جائے تو خود کی حکومت قائم ہو اور غلامی کی ذلت بھری زندگی سے نجات مل جائے۔ 
 
 
تب اور اب میں فرق یہ ہے کہ آج کے ہندوستانی، آزادی کو اُس طرح نہیں جیتے جس طرح اُس دور کے لوگوںنے خوابِ آزادی کو جیا تھا اور اس کی تعبیر کیلئے سرگرم بھی تھے اور بے چین بھی۔ کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ ۱۹۴۷ء کے بعد پیدا ہونے والوں کو آزادی تحفے میں مل گئی جس کیلئے اُنہیں کوئی جدوجہد نہیں کرنی پڑی؟ ہوسکتا ہے ایسا ہی ہو کیونکہ جس چیز پر محنت لگتی ہے اُس سے لگاؤ بھی زیادہ رہتا ہے اور جس شے کیلئے کچھ گنوانا نہیں پڑتا اور جو مفت مل جاتی ہے اس کی قدر نہیں ہوتی۔اس موضوع پر گفتگو کیجئے تو معلوم ہوگا کہ بہت سے لوگ اُس آزادی میں، جو میسر ہے، ہزار خامیاں دیکھتے ہیں۔ فرض کرلیا جائے کہ یہ لوگ درست ہیں تب بھی انہیں چاہئے کہ دورِ غلامی کے بارے میں جتنا کچھ پڑھا اور سنا ہے اُس پڑھے ہوئے اور سنے ہوئے کے پس منظر میں غلامی کا تصور کریں، پھر ا س کا موازنہ اُس آزادی سے کریں جو میسر ہے اور فیصلہ کریں کہ کیا بہتر ہے۔ مشہور سیاہ فام امریکی شاعرہ مایا اینجلو نے بڑے پتے کی بات کہی تھی کہ ’’آپ کے ساتھ جو کچھ بھی ہوتا ہے ممکن ہے اُس پر آپ کا اختیار نہ ہومگر تب بھی آپ کو یہ اختیار ضرور ہوتا ہے کہ اُس کا منفی اثر نہ لیں۔‘‘ یہاں یہ قول اس لئے نقل کیا گیا ہے کہ آزادی دو طرح کی ہوتی ہے۔ ایک ہے خارجی۔ اس کی مثال ہے چلنے پھرنے، کہنے سننے، پہننے اوڑھنے، حقوق اور سہولتیں حاصل کرنے، اپنی پسند ناپسند اور مرضی و منشاء کے مطابق زندگی گزارنے کی آزادی۔ دوسری ہے داخلی۔ اس کی مثال ہے مثبت خیالی کو پروان چڑھانے کی، منفی خیالات سے دور رہنے کی، بہتر رائے قائم کرنے کی، اپنے مفادات سے اوپر اُٹھنے کی، دردِ انسانیت بانٹنے کی، حقوق کے ساتھ فرائض کے ادراک کی، عدل کو روزمرہ زندگی میں برتنے کی، بدگمانی سے محفوظ رہنے کی، افہام و تفہیم کا جذبہ پیدا کرنے کی یا اخوت اور بھائی چارہ کو اپنی ذات سے تقویت دینے کی آزادی۔ پہلی قسم کی آزادی پر آپ کا اختیار ہو یا نہ ہو، کم ہو یا زیادہ ہو، دوسری قسم کی آزادی پر سو فیصد آپ کا اختیار ہے۔ مگر دوسری قسم کی آزادی پر توجہ دیئے بغیر اکثر لوگ پہلی قسم کی آزادی پر خود کو خلجان میں مبتلا رکھتے ہیں اور شکوہ و شکایات کے علاوہ کچھ نہیں کرتے۔ پہلی قسم کی آزادی سو فیصد میسر آجائے اور دوسری قسم کی آزادی پر اپنے اختیار کو بروئے کار نہ لایا جائے تو پہلی قسم کی آزادی بھی خطرہ  میں پڑ جاتی ہے اور انسان قابل رحم ہوجاتا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK