مارچ۱۹۴۷ء میں جب لارڈماؤنٹ بیٹن ہندوستان کے آخری وائسرائے بن کر آئے تو برطانیہ نے انہیں اقتدار ہندوستانی ہاتھوں میں منتقل کرنے کیلئے جون۱۹۴۸ء تک کا وقت دیا تھا۔
EPAPER
Updated: August 15, 2026, 11:28 AM IST | Inquilab News Network | Mumbai
مارچ۱۹۴۷ء میں جب لارڈماؤنٹ بیٹن ہندوستان کے آخری وائسرائے بن کر آئے تو برطانیہ نے انہیں اقتدار ہندوستانی ہاتھوں میں منتقل کرنے کیلئے جون۱۹۴۸ء تک کا وقت دیا تھا۔
مارچ۱۹۴۷ء میں جب لارڈماؤنٹ بیٹن ہندوستان کے آخری وائسرائے بن کر آئے تو برطانیہ نے انہیں اقتدار ہندوستانی ہاتھوں میں منتقل کرنے کیلئے جون۱۹۴۸ء تک کا وقت دیا تھا۔ لیکن ماؤنٹ بیٹن نے ملک کے حالات کو دیکھتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ یہ عمل اتنا طویل نہیں کیا جا سکتا۔ ملک کی سیاسی صورتحال تیزی سے خراب ہو رہی تھی۔ کانگریس اور مسلم لیگ کے درمیان اتنے شدید اختلافات تھے کہ عبوری حکومت کا کام کرنا مشکل ہو گیا تھا، پاکستان کے مطالبے میں شدت آ چکی تھی اور فرقہ وارانہ تشدد ملک کے بڑے حصے کو اپنی زدمیں لے رہا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: ’۲۰۴۷ء تک ہندوستان کو ترقی یافتہ ملک بنانا ہے‘، لال قلعے سے وزیر اعظم کا خطاب
چنانچہ ماؤنٹ بیٹن نے اقتدار کی منتقلی جون۱۹۴۸ء کے بجائے اگست۱۹۴۷ء میں کرنے کا فیصلہ کیا۔ لاپیئر ڈومینک اور لیری کولنس کی کتاب ’ماؤنٹ بیٹن اینڈ دی پارٹیشن آف انڈیا‘ کی جلد دوم میں آخری وائسرائے نے اس فیصلے کی وجوہات بیان کیا ہیں کہ عبوری حکومت مؤثر طریقے سے کام نہیں کر پا رہی تھی۔ ان کے مطابق انہیں واضح طور پر محسوس ہو گیا تھا کہ اگر اقتدار کی منتقلی کی کوئی جلد تاریخ مقرر نہ کی گئی تو یہ نظام بکھر جائے گا اور حالات کو سنبھالنے کی کوئی امید باقی نہیں رہے گی۔
یہ بھی پڑھئے: ملک کی ترقی کیلئے راہل گاندھی نے اتحاد و ہم آہنگی پر مبنی کانگریس کا نظریہ پیش کیا
لیکن انہوں نے ۱۵؍ اگست ہی کا انتخاب کیوں کیا؟ اسی حوالے سے ماؤنٹ بیٹن نے وضاحت کی کہ جب انہوں نے۱۵؍ اگست کی تاریخ مقرر کی تو انہوں نے اعتراف کیا کہ انہوں نے سنگاپور میں جاپانی فوج کی ہتھیار ڈالنے کی سالگرہ کو مدنظر رکھا تھا۔ ان کے مطابق انہیں بہرحال ایک تاریخ مقرر کرنا تھی اور یہ ایک مناسب تاریخ تھی۔اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وائسرائے بننے سے پہلے ماؤنٹ بیٹن دوسری عالمی جنگ میں جاپان کے خلاف لڑائی میں بطور کمانڈر شریک رہے تھے۔