خبروں پر نگاہ رکھنے والے ہی نہیں، کبھی کبھار اخبار کی سرخیوں پر نظر ڈالنے والے بھی اس سوال کا فوری جواب دے سکتے ہیں کہ ایران، امریکہ اور اسرائیل کی جنگ میں کون جیتا۔
نیتن یاہو۔ تصویر:آئی این این
خبروں پر نگاہ رکھنے والے ہی نہیں، کبھی کبھار اخبار کی سرخیوں پر نظر ڈالنے والے بھی اس سوال کا فوری جواب دے سکتے ہیں کہ ایران، امریکہ اور اسرائیل کی جنگ میں کون جیتا۔ یقیناً ایران جیتا، امریکہ کو دُم دبا کر بھاگنا پڑا، یا، یوں کہہ لیں کہ اسے چپ چاپ ساری شرطیں ماننی پڑیں اور اسرائیل الگ تھلگ پڑ گیا۔ لبنان کی جان اب بھی پھنسی ہوئی ہے مگر ایران نے اسے یکہ و تنہا نہیں چھوڑا ہے۔ وہ اس کے دفاع کیلئے دوبارہ جنگ میں بھی تامل نہیں کریگا۔ جنگ کی وجہ سے، سب سے زیادہ نقصان ایران کا ہوا جسے اپنے سائنٹسٹ، ملٹری ایکسپرٹس حتیٰ کہ ملک کی اعلیٰ ترین قیادت کا غم بھی سہنا پڑا۔ اس میں شک نہیں کہ انفراسٹرکچر کا بھی نقصان ہوا مگر یہ ایسا نقصان ہے جس کی تلافی ممکن ہے۔ ناممکن اُس غیر معمولی نقصان کی تلافی ہے جو شہید ہونے والوں کی شہادت کی وجہ سے ہوا۔ اس کے باوجود ایران نے صبر و تحمل، ثابت قدمی ، حکمت اور دانشمندی کے ساتھ مقابلہ کیا اور امریکہ و اسرائیل کی رعونت خاک میں ملا دی۔ اس کے علاوہ جو ہوا وہ یہ ہے کہ امریکہ کےسپرپاورہونے کی قلعی کھل گئی اور سب سے زیادہ رُسوا اسرائیل ہوا۔
نقصان اور بھی ہوا ہے۔ آبنائے ہرمز کے بند ہونے سے یومیہ ۱۳؍ ملین بیرل اور اس کے ساتھ ہی یوریا اور سلفر کی فراہمی موقوف ہوگئی، نتیجتاً پوری دُنیا کی معیشت متاثر ہوئی اور ہندوستان سمیت کئی ایسے ملکوں میں، جو تیل کی درآمدات پر انحصار کرتے ہیں، دور لڑی جانے والی جنگ بھی گھر تک پہنچ گئی۔ تیل اور گیس کی قلت ہوئی تو عوامی زندگی پر دباؤ بڑھا، مہنگائی جو پہلے بھی کم نہیں تھی عام آدمی کی کمر توڑنے لگی، درآمدات و برآمدات متاثر ہوئیں، گلف کوآپریشن کونسل سے وابستہ ملکوں کی جی ڈی پی گھٹ گئی، شہری ہوا بازی کا شعبہ بُری طرح متاثر ہوا، سیاحت اور اس سے وابستہ دیگر شعبوں پر ضرب پڑی اور بقول اقوام متحدہ دُنیا کے ۳۲؍ ملین افراد غربت کے دلدل میں دھکیلے جائینگے ۔ زیادہ تر مبصرین متفق ہیں کہ عالمی معیشت پر جنگ کے دیر پا اثرات مرتب ہونگے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدہ سے فی الحال جنگ رُک جائیگی مگر اس کی کیا ضمانت ہے کہ رُکی رہے گی؟ کون کہہ سکتا ہے کہ نیتن یاہو، ٹرمپ کو دوبارہ بہکانے کی کوشش نہیں کرینگے؟ مسئلہ کی جڑ اسرائیل ہے جوپہلے شکست خوردہ تھا، اب زخم خوردہ ہے۔ وہ نہ تو لبنان سے نکلے گا نہ ہی ایران کے خلاف جنگ کے بہانے تلاش کرنے سے باز رہے گا۔اس کے وزیر دفاع نے کل اپنے بیان میں ایسی ہی کچھ باتیں کہی ہیں۔ ٹائمس آف اسرائیل کے مطابق اسرائیلی اپوزیشن نے نیتن یاہو کے خلاف محاذ کھول دیا اور اُنہیں ایران معاملے میں خوب لتاڑا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے حقیقی اور سفارتی جنگ جیت لی اور نتین یاہو کچھ نہیں کرسکے۔ اپوزیشن لیڈر یائر لیپڈ نے اُنہیں ٹرمپ کی اس بات پر بھی آڑے ہاتھوں لیا کہ ’’مَیں تمہارا باس ہوں اور جو کہوں وہ تمہیں سننا ہوگا۔‘‘
نیتن یاہو اَب خفت مٹانا چاہیں گے کیونکہ ایک ہارا ہوا وزیر اعظم نومبر کے انتخابی میدان میں نہیں اُتر سکتا۔اخبار مذکور کے مطابق متعدد اپوزیشن لیڈروں مثلاً یائر گولن، گاڈی ایزنکوٹ، ایوگلڈور لبرمین اور سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے نیتن یاہو کی پالیسیوں کو بدترین سفارتی شکست سے تعبیر کیا اور سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اپوزیشن کے شدید حملے ’’مَرے پر سو دُرّے‘‘ کے مصداق ہیں، اسی لئے یہ خطرہ پیدا ہو رہا ہے کہ نتین یاہو پھر کوئی سازش کرینگے۔ مگر، ایسی کوئی بھی بات تہران سے چھپی ہوئی نہیں ہے اس لئے تہران خود بھی اسرائیلی عزائم کے دنداں شکن جواب کیلئے تیار رہے گا۔