یہ شرط پیدائشی سرٹیفکیٹ کی تصدیق اور طالب علم کے نام کے املے میں غلطی نہ ہونے کو یقینی بنانے کیلئے عائد کی گئی ہے ، والدین سرٹیفکیٹ بنوانےکیلئے پریشان۔
کیوآر کوڈ والے پیدائشی سرٹیفکیٹ سے طلبہ کو دقتوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے-تصویر:آئی این این
نئے تعلیمی سال ۲۷۔۲۰۲۶ء سے اسکول میں داخلے کیلئے کیوآر کوڈ والے پیدائشی سرٹیفکیٹ کے لازمی کئے جانے سے وہ والدین پریشان ہیں جن کے بچوںکی سرٹیفکیٹ پر کیوآر کوڈ درج نہیں ہے ۔اس شرط سے کیوآر کوڈ والے برتھ سرٹیفکیٹ کی مانگ میں اچانک اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے متعلقہ ویب سائٹ پر بوجھ پڑنے سے سرٹیفکیٹ ملنے میں تاخیر ہو رہی ہے ۔ داخلہ لینے میں پریشانی سے بچانے کیلئے اسکول انتظامیہ سرپرستوں سے حلف نامہ کی بنیاد پرطلبہ کو داخلہ دینا شروع کر دیا ہے ۔کیو آر کوڈ والے برتھ سرٹیفکیٹ پیش کرنے کی یہ شرط پیدائشی سرٹیفکیٹ کی تصدیق اور طالب علم کے نام کے املے میں غلطی نہ ہونے کو یقینی بنانے کیلئے عائد کی گئی ہے ۔
اس شرط کی وجہ سے متعدد والدین کیوآر کوڈ والے پیدائشی سرٹیفکیٹ بنانےکیلئے میونسپل وارڈ آفسوں کاچکر کاٹ رہے ہیں۔ اس تعلق سے والدین کو معلومات نہ ہونے کی وجہ سے یہ مسئلہ پیدا ہو رہا ہے ۔ چونکہ اسکول شروع ہوچکے ہیں ،ایسے میں کیوآر کوڈ والے پیدائشی سرٹیفکیٹ کے نہ ہونے سے والدین فکرمند ہیں کہ کہیں متذکرہ سرٹیفکیٹ نہ ہونے کی وجہ سے ان کے بچے کے داخلے میں رکاوٹ پیدا نہ ہو جائے۔ حالانکہ اسکول انتظامیہ ایک حلف نامہ کے توسط سے بچوں کا داخلہ لے رہا ہے۔ اس کے باوجود والدین میں تشویش پائی جا رہی ہے ۔
جنوبی ممبئی کی ایک اُردو میڈیم اسکول کے سینئر ٹیچر نے انقلاب کو بتایا کہ ’’امسال سے کیوآر کوڈ والے پیدائشی سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر داخلہ دینے کی ہدایت دی گئی ہے۔یہ شرط ۲؍وجوہات کی بنا پر نافذ کی گئی ہے ۔ ایک تو پیدائشی سرٹیفکیٹ کے اصل ہونےکی تصدیق کی جاسکے دوسرے سرٹیفکیٹ میں طالب علم کے نام کا جواملا ہے ، وہی املا اسکول ریکارڈ میں درج کیا جاسکے ۔ اس سے مستقبل میں طلبہ کو آسانی ہوگی اور ان کے نام کا املا ہمیشہ ایک ہی رہے گا۔ویسے تو پہلی جماعت میں جن طلبہ کا داخلہ کرایا جا رہاہے ، ان میں سے بیشتر کی پیدائشی سرٹیفکیٹ میں کیو آر کوڈ درج ہے۔ اس لئے ان کے داخلے میں دقت نہیں آرہی ہے ۔ جن طلبہ کی پیدائشی سرٹیفکیٹ پر کیوآر کوڈ نہیں ہے ،ان سے کیوآر کوڈ والا سرٹیفکیٹ بنانے کیلئے کہا جا رہا ہے ۔ ‘‘
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ’’کیوآر کوڈ والےپیدائشی سرٹیفکیٹ کی مانگ میں اچانک اضافہ ہونے سے متعلقہ ویب سائٹ پر کافی بوجھ پڑ رہا ہے جس کی وجہ سے ویب سائٹ کی رفتار سست ہو گئی ہے اور برتھ سرٹیفکیٹ جاری کرنے میں تاخیر ہو رہی ہے ۔ والدین کو سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کیلئے ۸؍سے ۱۰؍ دنوں تک انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔ایسے میں ہم اس طرح کے بچوں کا داخلہ حلف نامہ کے ذریعے کر رہے ہیں۔ حلف نامہ میں بچے کی پیدائش کی تفصیلات کے علاوہ اس کے نام کے املے پرخاص توجہ دی جا رہی ہے ۔ والدین سے کہا جا رہاہے کہ وہ اپنے بچوں کے نام کا املا صحیح طریقے سے لکھیں کیونکہ مستقبل میں یہ املا تبدیل نہیں کیا جاسکے گا ۔ اس طرح کی شرائط پر مبنی حلف نامہ پر والدین کے دستخط لے کر داخلہ دیا جا رہا ہے ۔ ‘‘
انہوں نے مزید بتایاکہ ’’مذکورہ پیدائشی سرٹیفکیٹ کے علاوہ متعدد والدین یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ہمارے بچے کی پیدائشی سرٹیفکیٹ وطن میں ہے ۔ وطن سے ہمارے عزیز لے کر آنے والے ہیں لیکن ریلوے کی ٹکٹ نہ ملنے سے وہ نہیں آپا رہے ہیں۔ انہیں ممبئی آنے میں ایک آدھ مہینے کا وقت لگ سکتا ہے ۔ ایسے بچوں کاداخلہ بھی حلف نامہ کی بنیاد پر کیا جا رہا ہے ۔‘‘
اسی سلسلے میں تھانے میونسپل کارپوریشن کے محکمہ تعلیم کے ایک افسر نے بتایاکہ ’’ فی الحال آر ٹی ای کے تحت جو داخلہ دیئے جارہے ہیں ان سے کیو آر کوڈ والا برتھ سرٹیفکیٹ پیش کرنا لازمی قرار دیا گیا ہےتاکہ اس کی تصدیق کی جاسکے کہ جو برتھ سرٹیفکیٹ دیاجارہاہے وہ فرضی تو نہیں۔ عام اسکولوں میں داخلہ کیلئے فی الحال اسے لازمی قرار نہیں دیاگیا ہےالبتہ امکان ہے کہ آئندہ دنوں میں یہ نافذ کر دیاجائے۔‘‘شہری انتظامیہ اور ریاستی حکومت نے بھی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کے کیو آر کوڈ والے برتھ سرٹیفکیٹ جاری کروالیں۔اس کیلئے انہیں اس وارڈ آفس میں درخواست دینی ہوگی جس وارڈ میں وہ پیدا ہوئے ہیں۔