ہندوستانی ملاحوں کی امریکی بحریہ کے ذریعے ہلاکت اور مودی حکومت کا نرم رویہ کوئی نئی بات نہیں۔ جون ۲۰۲۰ء کا گلوان واقعہ ہو یا امریکہ میں ہندوستانی تارکین وطن کو بیڑیوں میں جکڑا جانا یا پھر ٹرمپ کا ہندوستان کو جہنم کا نمونہ قرار دینا، ہر موقع پر خاموشی یا نرم رویہ اختیار کیا گیا ہے۔
ایس جے شنکر۔ تصویر:آئی این این
پچھلے ہفتے امریکی بحریہ نے آبنائے ہرمز کے قریب ایک کمرشل جہاز پر حملہ کرکے تین ہندوستانی جہاز رانوں کو ہلاک کردیا۔بین الاقوامی سمندر میں کمرشل جہازوں کا آناجانا معمول کی بات ہے۔ کمرشل جہازوں پر حملہ بین الاقوامی قوانین کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ لیکن امریکہ نے کب کوئی بین الاقوامی قانون ماناہے؟
امریکہ کی بحری فوج نے ایک ہفتہ کے اندر چار چار ایسے جہازوں پر میزائیلوں سے حملے کئے جن کا عملہ ہندوستانی شہریوں پر مشتمل تھا۔ان جہازوں پر نہ توکوئی ہتھیار تھے اور نہ ہی وہ کسی طرح سے امریکہ کے لئے کوئی خطرہ تھے۔مارے گئے تینوں نوجوان فوجی اہلکار نہیں نہتے جہاز راں تھے جو اپنی ڈیوٹی نبھارہے تھے۔ اس کے باوجود امریکی بحریہ نے ان پر گولے بارود داغے گویا وہ فوجی مشن پر آئے ہوئے دشمن ملک کے مسلح سپاہی ہوں۔ بھارتی وزار ت خارجہ نے امریکی سفارت خانہ کے ایک اہلکار کو بلاکر ان ہلاکتوں پر احتجاج درج کرایا۔ حکومت ہند کی جانب سے یہ بیان بھی جاری کیا گیا کہ اس طرح کی کاروائی ہمارے لئے ناقابل قبول ہےلیکن بیان میں امریکہ کا نام نہیں لیا گیا بلکہ ان ہلاکتوں کو’’ علاقے میں جاری تنازعات کا براہ راست نتیجہ‘‘ قرار دیا گیا۔ یہی نہیں بیان میں یہ بھی وضاحت کی گئی کہ ان جہازوں نے پابندیوں اور احکامات کی خلاف ورزی کی تھی۔ حکومت کے ردعمل سے لگ رہا تھا کہ وہ امریکہ کی مذمت نہیں اس کی مدافعت کررہی ہے۔ملک بھر میں ان امریکی حملوں اور ان سے ہوئی ہلاکتوں پر جتنا غم وغصہ پایا جاتا ہے اتنا ہی غم و غصہ حکومت ہند کے نرم ردعمل پر بھی پایا جاتا ہے۔ دفاعی تجزیہ کار برہماچیلانی نے ہندوستان کے احتجاج کو ’’رسمی سفارتی‘‘ کارروائی قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مودی حکومت نے ان حملوں کی سنگینی کو کم کرکے دکھانے کی کوشش کی۔ سابق سفارتکار کنول سبل کا خیال ہے کہ حکومت ہند امریکی پابندیوں کا حوالہ دےکربالواسطہ طور پر امریکی حملوں کوجائز ٹھہرارہی ہے۔
وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے اعلان کیا کہ انہوں نے اپنے امریکی ہم منصب مارکو روبیو کو فون کرکے ان ہلاکتوں پر سخت احتجاج جتایا ہے۔لیکن شنکر صاحب روبیو کا جواب گول کرگئے۔ روبیو نے نہ صرف ہندوستان کی شکایت کو پوری طرح مسترد کردیا بلکہ الٹا چور کو توال کو ڈانٹے کے مصداق یہ دھمکی بھی دے ڈالی کہ امریکی ناکہ بندی کی خلاف ورزی اور ایرانی تیل کی غیر قانونی سپلائی کسی قیمت پر برداشت نہیں کی جائیگی۔اپنے ملک کی سرحدوں سے ہزاروں میل دور بین الاقومی سمندری حدود میں امریکہ کی ناکہ بندی مکمل طور پر غیر قانونی ہے۔ روبیو نے تین بے گناہ ہندوستانیوں کی ہلاکتوں پر نہ ہی کسی ندامت کا اظہار کیا اور نہ ہی تعزیت کے دو بول بولے۔ ان کا ردعمل اتنا جارحانہ تھا کہ جے شنکر کی بولتی بند ہوگئی۔وزیر اعظم مودی نے اس پورے سانحہ پر مکمل خاموشی اختیار کررکھی ہے بلکہ جس وقت امریکی حملے میں ہندوستانی ملاحوں کی ہلاکتوں کی خبریں آرہی تھیں اس وقت مودی جی ٹرمپ کے تہنیتی پیغام کے جواب میں ان کا شکریہ ادا کر رہے تھے۔
ہندوستان امریکہ کے ساتھ اپنی دوستی اور اسٹریٹیجک پارٹنرشپ کا فخریہ اعلان کرتا ہے۔ لیکن واشنگٹن ہمارے ساتھ جیسا سلوک کرتا ہے اس سے یہ صاف لگتا ہے کہ وہ ہمیں دوست نہیں مصاحب سمجھتا ہے۔ امریکی خارجہ پالیسی کے ماہر Derek Grossman نے روبیو کے جارحانہ بیان کی تنقید کرتے ہوئے طنزیہ لہجے میں پوچھا: ’’ ٹرمپ کا امریکہ انڈیاکا بھلا کیسا دوست ہے؟‘‘
ہم صرف امریکہ کے دوست ہی نہیں اسٹریٹیجک پارٹنر بھی ہیں۔ امریکہ اور بھارت چارچار دفاعی معاہدوں سے بندھے ہوئے ہیں۔ ہندوستان اس بحری سیکوریٹی اتحاد کا بھی حصہ ہے جسکا نامQuad ہے اور جس میں امریکہ کے علاوہ آسٹریلیا اور جاپان بھی شامل ہیں۔ اس اتحاد ایشیائی نیٹوکہا جاتا ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا امریکی فوج نیٹو کے کسی اتحادی ملک کے جہاز پر میزائیل مارکر برطانوی یا جرمن ملاح کو ہلاک کرسکتی ہے؟ نیٹو کی بات چھوڑ دیں۔ دفاعی ماہر جنرل جی ڈی بخشی کے مطابق ،چین امریکہ کی بحری ناکہ بندی کو انگوٹھا دکھاکر ایران کے تیل سے لدے دو سو جہاز بیجنگ لے گیا لیکن امریکہ کی ہمت نہیں ہوئی کسی چینی جہاز کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی۔
یہ بھی پڑھئے:عوامی شکایات کے فوری ازالے کی خاطر پولیس کی ’جن سنواد‘ مہم
ٹرمپ اپنے دوسرے دور صدارت میں مسلسل ہندوستان کی بے توقیری کررہے ہیں اس کے باوجود مودی جی ٹرمپ کی دوستی کا دم بھرتے ہیں۔امریکی صدر ہندوستان پر من مانا ٹیرف ٹھونک دیتے ہیں اور ہم خاموش رہتے ہیں۔وہ ہندوستانی تارکین وطن کو دہشت گردوں کی طرح بیڑیوں میں جکڑ کر ڈیپورٹ کرتے ہیں اور ہم یہ ذلت بھی چپ چاپ برداشت کرلیتے ہیں۔ وہ ہندوستان کو جہنم کا نمونہ قرار دیتے ہیں اور ہم اس قومی تذلیل پر بھی زبان بند رکھتے ہیں۔ ٹرمپ کہتے ہیں کہ وہ چاہیں تو مودی جی کاسیاسی کرئیر تباہ کردیں اور اس پر بھی سناٹا چھایا رہتا ہے۔ ٹرمپ مسلسل یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ بھارت نے ان کے حکم پر پاکستان کے خلاف جنگ بند کی۔ ٹرمپ ہمیں دھتکارتے ہیں اور پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف اور پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں۔ ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور سب سے بڑی آبادی والا ملک ہے۔ہم امریکہ کے دست نگر نہیں ہیں۔ پھر امریکہ نے ہماری ایسی حالت کیوں کردی ہے؟ ہم امریکہ کے سامنے اتنے بے بس تو پہلے کبھی نہیں تھے۔ آج ہم نہ مزاحمت کرتے ہیں اور نہ ہی احتجاج۔ہم خاموش رہنے میں عافیت کیوں سمجھتے ہیں؟
یہ بھی پڑھئے:یورپی ممالک کا ٹرمپ پر آبنائے ہرمز کے متبادل راستہ کیلئے دبائو
ہم جون ۲۰۲۰ء میں بھی یوں ہی خاموش رہ گئے تھے جب لداخ کی گلوان وادی میں چین کی پیپلز لبریشن آرمی نے ہمارے بیس جانبازوں کو شہید کردیاتھا۔ ہمارے پردھان منتری نے اس بات سے ہی انکار کردیا تھا کہ کوئی ہماری سرحدوں میں گھسا تھا یا کسی نے ہماری زمین ہتھیائی تھی۔ انہوں نے چین کا نام تک نہیں لیا۔
مودی جی نے پچھلے بارہ برسوں میں غیر ممالک کے جتنے دورے کئے ہیں اتنے کسی اور بھارتی وزیر اعظم نے نہیں کئے۔ اس کے باوجود ہندوستان کی خارجہ پالیسی غیر مؤثر اور پوری طرح بے سمتی کا شکار کیوں ہے؟ مودی جی اس وقت جی سیون کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لئے فرانس میں ہیں۔بدھ کے دن اجلاس کے بعد مودی جی اور ٹرمپ کی علاحدہ ملاقات کا امکان ہے۔پہلا سوال تو یہ ہے کہ کیا ایسے وقت اور ان حالات میں یہ ملاقات مناسب اور ضروری تھی؟اگر جواب ہاں ہے تو پھردوسرا سوال یہ ہے کہ کیا حکومت ہند یہ مطالبہ نہیں کرسکتی تھی کہ فرانس میں مودی جی اور ٹرمپ کے مجوزہ مصافحہ کے قبل تین ہندوستانیوں کی ہلاکتوں پر واشنگٹن کم از کم ایک رسمی اظہار تاسف کردے؟۔