اس میں شک نہیں کہ اکثریتی طبقے کی جانب سے دفاع یا حمایت پہلے بھی ہوئی ہے مگر اس کی حیثیت استثنائی ہے کیونکہ تشدد کے واقعات کی طویل فہرست ہے اور دفاع یا حمایت کے واقعات کی فہرست مختصر۔ جہاں جہاں ایسے واقعات ہوئے وہاں وہاں اکثریتی طبقے کی جانب سے دفاع کی کیفیت اُبھر سکتی تھی مگر خوف کا ماحول بہت سوں کو خاموش کردیتا ہے ورنہ آخر الذکر فہرست مختصر نہ ہوتی۔
اُن دو خبروں پر، جن سے آپ واقف ہیں، غور کیجئے۔ ایک کوٹ دوار، اُتراکھنڈ کی ہے جہاں دیپک کمار (محمد دیپک) نامی نوجوان ایک مسلم دکاندار کیلئے ڈھال بن گیا۔ دوسری خبر متھرا، یوپی کی ہے جہاں ایک سرکاری اسکول کے ہیڈ ماسٹر جان محمد پر جھوٹا الزام لگا کر احتجاج کیا گیا مگر اب گاؤں کے لوگ ہی اُن کا دفاع کررہے ہیں۔ بلاشبہ، مسلم دکاندار کا ہراساں کیا جانا معمول بن گیا ہے مگر دیپک کمار کا دفاع میں اُتر آنا اہم بات ہے، اسی طرح کسی معلم، معلمہ یا صدر مدرس پر الزام لگا دینا معمول ہے مگر گاؤں کے لوگوں کا جان محمد کی حمایت میں بولنا اہم ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کیا بجٹ سے عوامی زندگی بدلے گی؟
اس میں شک نہیں کہ اکثریتی طبقے کی جانب سے دفاع یا حمایت پہلے بھی ہوئی ہے مگر اس کی حیثیت استثنائی ہے کیونکہ تشدد کے واقعات کی طویل فہرست ہے اور دفاع یا حمایت کے واقعات کی فہرست مختصر۔ جہاں جہاں ایسے واقعات ہوئے وہاں وہاں اکثریتی طبقے کی جانب سے دفاع کی کیفیت اُبھر سکتی تھی مگر خوف کا ماحول بہت سوں کو خاموش کردیتا ہے ورنہ آخر الذکر فہرست مختصر نہ ہوتی۔ متاثرہ شخص کی حمایت اور اُس کے دفاع کے واقعات اس لئے اہم ہیں کہ دس ہزار لوگ سوچتے ہیں تب کہیں کوئی ایک شخص لب کشائی کا حوصلہ کرتا ہے یا بہ نفس نفیس سامنے آکر گویا ڈھال بن جاتا ہے۔ یہ تناسب اتنا کم اس لئے ہے کہ جارحانہ سیاسی ماحول اچھے اچھوں کا حوصلہ پست کردیتا ہے۔ نفرت، حوصلہ شکنی اور دھمکیاں دینے کا آن لائن ماحول بھی کچھ کم اذیت ناک نہیں۔ لوگ اپنے بال بچوں کے مستقبل کی فکر کرکے ضمیر کو سمجھاتے بجھاتے ہیں۔ اس کے باوجود اگر بعض واقعات میں بروقت مدد ملی ہے تو اس کی ستائش اور پر پزیرائی ناگزیر ہے۔ ہم صرف مسلم متاثرین کی بات نہیں کرتے بلکہ تشدد جس کسی کے خلاف ہو، اُس کی ہر ممکن مدد وقت کا تقاضا ہے خواہ متاثرہ شخص کسی بھی فرقے یا طبقے سے تعلق رکھتا ہو۔ مظلوم، مظلوم ہوتا ہے، اس کا مذہب نہیں دیکھا جاتا۔ اس سلسلے میں ذہن نشین رکھنا چاہئے کہ حمایت تحمل، حکمت اور دانشمندی سے مملو ہو، اس میں آپے سے باہر نہیں ہوا جاسکتا۔ آن لائن میڈیم ایسا ہے کہ جب لوگ کچھ کہنے پر آتے ہیں تو سارا غصہ اُنڈیل دینا چاہتے ہیں۔ پھر الفاظ پر اُن کی گرفت کمزور ہوجاتی ہے۔ یہ نہیں ہونا چاہئے کیونکہ یہ بھی تشدد کی ایک قسم ہے اور تشدد کا جواب تشدد سے نہیں دیا جاسکتا۔
یہ بھی پڑھئے: ڈیل یا ڈول؟
ملک میں پیدا کئے گئے جارحانہ ماحول کا جہاں تک سوال ہے، ایک آزادانہ اور غیر جانبدارانہ سروے کرایا جائے تو یہ حقیقت منظر عام پر آسکتی ہے کہ فرقہ پرستی کو فروغ دینے کے ہزار جتن کے باوجود بیشتر اہل وطن مل جل کر رہنے کے حامی ہیں کیونکہ مل جل کر رہنے کی ہماری صدیوں کی روایت ہے۔ آج بھی ہندو مسلم مل کر تجارت کرتے ہیں، ایک ہی منڈی میں دائیں بائیں یا آمنے سامنے دکان لگاتے ہیں، دفاتر میں ایک ساتھ کام کرتے ہیں، ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں، ایک دوسرے کے تہواروں پر شریک ہوتے ہیں اور سماجی محفلوں میں ساتھ ساتھ رہتے ہیں۔ برسوں سے یہی ہوتا آیا ہے اور یہی وطن عزیز کی سب سے بڑی طاقت ہے جسے گنگا جمنی تہذیب کا نام دیا گیا ہے۔اسی تہذیب پر یقین رکھنے والے ہیں دیپک کمار اور اسی تہذیب کے رکھوالے ہیں متھرا کے گاؤں کے لوگ۔ اسی تہذیب کا ڈنکا بجایا تھا سید عادل حسین شاہ نے جب وہ پہلگام سانحہ کے متاثرین کو بچا رہا تھا۔