مارکو روبیو امریکہ کے وزیر خارجہ ہیں۔ وہاں وزیر کو سکریٹری کہا جاتا ہے۔ یہ صاحب سکریٹری آف اسٹیٹ کہلاتے ہیں کیونکہ امریکی وزارتِ اُمورِ خارجہ کو اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کہا جاتا ہے۔
EPAPER
Updated: October 20, 2026, 4:00 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai
مارکو روبیو امریکہ کے وزیر خارجہ ہیں۔ وہاں وزیر کو سکریٹری کہا جاتا ہے۔ یہ صاحب سکریٹری آف اسٹیٹ کہلاتے ہیں کیونکہ امریکی وزارتِ اُمورِ خارجہ کو اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کہا جاتا ہے۔
مارکو روبیو امریکہ کے وزیر خارجہ ہیں۔ وہاں وزیر کو سکریٹری کہا جاتا ہے۔ یہ صاحب سکریٹری آف اسٹیٹ کہلاتے ہیں کیونکہ امریکی وزارتِ اُمورِ خارجہ کو اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کہا جاتا ہے۔ مارکو، گزشتہ روز ممبئی پہنچے۔ جب سے اُن کے دورۂ ممبئی کا اعلان ہوا ہے، یہ اعتراض کیا جارہا ہے کہ انہوں نے ممبئی میں ڈیرہ کیوں ڈالا جبکہ کوئی بھی غیر ملکی حکومتی نمائندہ، خواہ صدر ہو یا نائب صدر، وزیر اعظم ہو یا کابینی وزیر، ملک کی راجدھانی میں قیام کرتا ہے ۔ مارکو ایسا کیوں کررہے ہیں یہ کسی پر ظاہر نہیں ہے۔ بعضے کہتے ہیں کہ وہ وزیر اعظم مودی سے ملاقات کو ٹالنا چاہتے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو اُنہیں ویزا ہی کیوں دیا گیا جب انہیں حسب مراتب اور سفارتی روایات کا خیال نہیں ہے؟ ہندوستانی وزیر خارجہ سے ملنا تھا تب بھی اُنہیں دہلی جانا چاہئے تھا کیونکہ ملک کا دفتر وزارت ِخارجہ دہلی میں ہے۔ ایسا نہ کرکے اُنہوں نے ہمارے وزیر خارجہ کو ممبئی بلایا۔
مگر، اس میں تو اور بھی زیادہ سبکی ہے۔ ایس جے شنکر کو اُن کی خواہش پر ممبئی آنا کیوں گوارا ہوا یہ بھی اہم سوال ہے۔ کل کو امریکی وزراء ممبئی بھی نہ آکر کسی تیسرے ملک میں ملاقات کرنا چاہیں تو کیا ہم اس پر بھی مان جائینگے اور سر کے بل وہاں پہنچ جائینگے؟ کہنے کی ضرورت نہیں کہ مرکزی وزراء ذاتی حیثیت میں کوئی فیصلہ نہیں کرتے۔ اُن کا قدم ایک سو چالیس کروڑ ہندوستانیوں کا قدم ہوتا ہے اور دستخط کیلئے چلنے والا قلم بھی اتنے ہی ہندوستانیوں کا قلم ہوتا ہے۔ اتفاق سے دونوں ملکوں کی وزارت خارجہ نے یہ نہیں بتایا کہ ’’ممبئی کیوں اور دہلی کیوں نہیں؟‘‘۔
یہ بھی پڑھئے:ڈیجیٹل انڈیا میں سب کیلئے وائی فائی ضروری
اس سوال کا جواب فی الحال تو کسی کے پاس نہیں ہے مگر گمان غالب ہے کہ آئندہ بھی اس کا جواب نہیں ملے گا۔ ہم ایسے دور میں ہیں جب خلافِ روایت کچھ ہوتا ہے تو چند روز تک بحث و مباحثہ اور اعتراضات ہوتے ہیں پھر سب کچھ بھلا دیا جاتا ہے، اس کے بعد یہی خلاف ِ روایت سرگرمی آئندہ کی خلاف ِروایت سرگرمی کیلئے جواز بن جاتی ہے۔ مارکو کے دورۂ ہند کی تفصیل سے عیاں ہے کہ وہ ممبئی کے علاوہ جام نگر (گجرات) جائینگےجوکئی دیگر وجوہات کے علاوہ ریلائنس انڈسٹریز کی بہت بڑی ریفائنری کیلئے مشہور ہے۔ اس ریفائنری سے خالص بنایا گیا تیل بیرونی بازاروں میں بھی فروخت ہوتا ہے۔ ٹرمپ کو نومبرکا مڈ ٹرم الیکشن جیتنے کیلئے اپنی ’’کامیابیاں‘‘ امریکی عوام کے سامنے رکھنا ہے۔ وہ امریکی مارکیٹ میں تیل سستا کرنا چاہتے ہیں اسی لئے مارکو روبیو کو دوڑایا ہے کہ جائیے کچھ کیجئے۔
واشنگٹن پوسٹ کی ایک خبر کے مطابق ٹرمپ کا نومبر الیکشن جیتنا مشکل ہے۔ ۶۶؍ فیصد امریکی عوام اُن کی پالیسیوں سے ناخوش ہیں۔ ان میں نصف سے زائد اِن پالیسیوں کو شد و مد سے مسترد کرتے ہیں۔ اسی لئے اُن کی ریٹنگ کافی گر گئی ہے۔ اُن کی ’’ری پبلکن‘‘ پر ڈیموکریٹس کی برتری صاف نظر آ رہی ہے۔ شاید اسی تشویش کا نتیجہ ہے کہ مارکو نے پروٹوکول کو طاق پر رکھ دیا اور حکومتی آداب و روایت کو بھلا دیا۔ وزیر اعظم مودی کو اُن کی شکایت ٹرمپ سے کرنی چاہئے۔