• Tue, 20 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

افسانہ: فرض

Updated: October 20, 2026, 4:17 PM IST | Shazia Saleem Sheikh | Mumbai

در نجف میری بارہ سال کی بیٹی بہت سمجھدار بچی ہے ساتھ ہی معصوم بھی ہے۔ وہ کسی بھی بات پر جلد جذباتی ہو جاتی ہے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

در نجف میری بارہ سال کی بیٹی بہت سمجھدار بچی ہے ساتھ ہی معصوم بھی ہے۔ وہ کسی بھی بات پر جلد جذباتی ہو جاتی ہے۔ اسے جتنی غصہ اتنی ہی جلدی ختم بھی ہوجاتا ہے۔ تھوڑی تنہائی پسند ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ بہت سال تک وہ اکلوتی تھی کیونکہ اس کی پیدائش کے آٹھ سال بعد اللہ نے مجھے بیٹے سے نوازا تھا۔ اسکول میں بھی اس کی زیادہ سہیلیاں نہیں تھیں۔ اس کی دوستی صرف مجھ سے تھی لیکن مَیں اسے اپنی مصروفیت میں زیادہ وقت نہیں دے پاتی تھی۔ اس دوران کبھی وہ اپنی پڑھائی میں مصروف ہوجاتی تھی۔ ان حالات میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے اسکول کا بند ہوجانا اسے مزید ڈسٹرب کردیا۔ وہ تو شکر تھا کہ ہم لاک ڈاؤن سے چند روز پہلے ہی نئے فلیٹ میں شفٹ ہوئے تھے اور آس پاس کے فلیٹس کی بچیوں سے اس کی اچھی خاصی دوستی ہوگئی تھی۔

کئی مہینے گزر گئے سب کچھ بہتر چل رہا تھا کہ اچانک مجھے دُرنجف کے مزاج میں چڑچڑا پن محسوس ہونے لگا۔ مَیں کسی چھوٹے موٹے کام کے لئے کہتی تو وہ اکتا جاتی۔ اپنے ابو کو بھی کبھی اکھڑا سا جواب دے دیتی۔ پھر پڑوسی بھی اس کی شکایت کرنے لگے کہ ان کی بچیوں سے خواہ مخواہ الجھتی ہے۔ تب مَیں نے اس سے بات کرنے کا طے کیا کہ میری بچی تو واقعی میں ایک اچھی بچی ہے لیکن وہ عمر کے ایسے دور میں تھی کہ جس میں خیالات دو متضاد سمت میں چلتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:افسانہ: اک چھوٹی سی خواہش

مَیں نے اس سے بات کی۔

پہلے اس نے کچھ نہ کہا پھر میرے ناراض ہونے کی دھمکی پر اس نے بتا دیا کہ اسے پڑوس کی بچیاں اچھی نہیں لگتیں۔

’’لیکن بیٹا وہ تو آپ کی سہیلیاں ہیں۔‘‘

’’لیکن ضروری تو نہیں امی کہ ساری سہیلیاں اچھی ہی ہوں یا مجھے اچھی ہی لگیں۔‘‘

’’بیٹا! ہم انہیں کو اپنا دوست بناتے ہیں جو ہمیں اچھے لگتے ہیں یا کافی حد تک ہمارے مزاج جیسا رکھتے ہوں، ہمارے جیسا سوچتے ہوں۔‘‘

’’وہ اچھی ہوں گی مگر میرے جیسی نہیں ہوسکتیں۔‘‘ وہ طیش میں بولی۔

مَیں حیران رہ گئی، ’’یہ کیا کہہ رہی ہو اور کس لہجے میں کہہ رہی ہو۔‘‘

میری پرورش ایسی تو نہیں جس طریقے سے وہ بات کر رہی تھی۔

’’ہاں! امی وہ جیسی ہیں ویسی کیوں نہیں رہتیں۔ جیسا مَیں کرتی ہوں ویسا ہی کرتی ہیں۔ جس طرح کے لباس میں پہنتی ہوں اس کو کاپی کرتی ہیں وہ اور مجھے پسند نہیں۔ ’مَیں‘ ’مَیں‘ ہوں، میرے جیسا کوئی نہیں ہونا چاہئے۔‘‘

میری بیٹی کی باتوں میں زعم تھا۔ مَیں اس پر ہاتھ اٹھا سکتی تھی لیکن یہ اس کا علاج نہ تھا لیکن مَیں جانتی تھی کہ اس کا کیا علاج تھا اور کہاں تھا۔ اگلے دن مَیں نے اپنی چھوٹی بہن کے گھر اسے کچھ دنوں کے لئے بھیج دیا اور جس دن اسے واپس آنا تھا مَیں بے چینی سے اس کا انتظار کر رہی تھی۔

میری بہن نے فون کرکے کہا کہ وہ میرے بہنوئی کے ساتھ آرہی ہے۔

پھر جب میرے بہنوئی نے فون کرکے کہا کہ وہ اسے لفٹ سے ہمارے فلور پر چھوڑ کر آفس کے لئے نکل گئے ہیں تو مَیں پریشان سی باہر آئی کہ وہ راستے میں کہاں رک گئی۔ پورا کوریڈور خالی تھا، بس لفٹ کے پاس والے فلیٹ سے باتوں کی آواز آرہی تھی۔ مَیں اسی فلیٹ کے دروازے تک پہنچ گئی۔ اندر کے منظر نے مجھے مطمئن کرنے کے ساتھ حیران بھی کر دیا۔ اندر اپنی سہیلیوں کے بیچ گھری میری در نجف مسکرا رہی تھی۔ اس کی نظر مجھ پر پڑی تو وہ امی کہتی ہوئی آکر مجھ سے لپٹ گئی۔ پھر اپنی دوستوں کو ’خدا حافظ‘ کہہ کر میرے ساتھ گھر میں آگئی۔

’’امی آپ نے میری غلط سوچ کا علاج کر دیا۔‘‘ وہ مسکرا کر بولی۔ مَیں بھی مسکرا دی۔

یہ بھی پڑھئے:افسانہ: ڈھلتی شام

’’لیکن یہ بات تو آپ بھی مجھے سمجھا سکتی تھیں خالا کے پاس کیوں بھیجا؟‘‘

’’تمہاری خالہ نے تمہیں نہیں بتایا۔‘‘

’’نہیں! انہوں نے بس مجھے بہت پیار سے سمجھایا اور مَیں سب سمجھ گئی۔ انہوں نے کہا کہ دوست بہت قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ ان سے مقابلہ نہیں ہوتا، وہ ہمارے برابر ہوتے ہیں اور اگر ہماری کسی بات کو پسند کرکے اپناتے ہیں تو ہمیں اس بات کو مثبت طور پر لینا چاہئے بلکہ خوش ہونا چاہئے کہ کوئی ہماری اچھائی کو اپنا رہا ہے اور انسان ہونے کے ناطے بھی کوئی کسی سے برتر نہیں ہے۔‘‘

’’ہاں بیٹا تمہیں یاد ہوگا کہ پچھلا فلیٹ ہم نے اس لئے ہی چھوڑا تھا کہ وہاں کے پڑوسی اچھے نہ تھے۔ ان کی غلط سنگت تم پر اثر انداز ہوسکتی تھی۔ لیکن یہاں تو سب تمہاری اچھی عادت کو اپنا رہے تھے، تمہارا سلیقہ، تمہارا پہناوا، تمہاری بات چیت کے انداز سے متاثر ہو رہے تھے لیکن تم نے اس بات کو غلط طریقے سے لیا۔ تب مجھے تمہاری خالہ کا خیال آیا۔ تمہاری والی عمر میں وہ بھی اسی زعم کا شکار ہوئی تھیں۔ جب امی سے ملی سیکھ مَیں نے انہیں دی تھیں۔ مجھے تو امی نے اچھی بات سکھائی تھیں مگر ان کے وقت تک امی اس دُنیا میں نہیں تھیں اور تمہیں مَیں نے اس لئے نہیں سکھایا کہ مَیں اپنی بہن کو وہ موقع دینا چاہتی تھی کیونکہ غلطی سے سیکھنے والا کسی کو زیادہ بہتر سکھا سکتا ہے۔ اور اگر کوئی ہم سے سیکھنا چاہتا ہے تو ہمارا فرض ہے کہ ہم اس کی مدد کریں۔‘‘ مَیں نے در نجف کے ہاتھ کو اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے سمجھایا۔

’’جی امی! ہم اپنے فرض سے ان شاء اللہ پیچھے نہ ہٹیں گے۔‘‘

ہم دونوں ایک عزم سے مسکرا دئیے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK