• Tue, 20 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ڈیجیٹل انڈیا میں سب کیلئے وائی فائی ضروری

Updated: October 20, 2026, 3:55 PM IST | R. S. Sharma | Mumbai

پبلک وائی فائی بغیر لائسنس کےا سپیکٹرم پر چلتا ہے جس سے بھیڑبھاڑ والے موبائل نیٹ ورکس کیلئے استعمال ہونے وا لا اسپیکٹرم بچتا ہےجسے نیلامی کے ذریعے خریدنا نیٹ ورک آپریٹروںکیلئے مہنگا ثابت ہوتا ہے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

ہندوستان نے (ڈیجیٹل شعبے میں) وہ کیا ہےجو کسی اور ملک نے نہیں کیا ۔یہاں ڈیجیٹل لین دین مفت ہے،فوری ہے، پوری دنیا میںکہیںبھی پیسہ بھیجا جاسکتا ہےاورموبائل ڈیٹا کے استعمال کے معاملے میںملک دنیا کی قیادت کررہا ہے۔لیکن ، اسی سے متعلقہ ایک شعبےمیں ہم تھوڑے پچھڑے ہوئے ہیں۔ اس کا تعلق پبلک وائی فائی سے ہےجو ملک میں ابھی جڑنہیںپکڑ سکا ہے۔پبلک وائی فائی سستا ، قابل رسا اورمواصلات کا ایسا نظام ہےجس سے ایک شہری خواہ وہ کہیںبھی ہو، انٹرنیٹ سے جڑسکتا ہے۔ہندوستان میںایسے عوامی ہاٹ اسپاٹس کی تعداد ۴؍ لاکھ ہے۔فرانس میںجس کی آبادی کا ہم سے کوئی موازنہ ہی نہیں ہے،۱۳؍ ملین پبلک ہاٹ اسپاٹس ہیں۔پوری دنیا میںمجموعی طورپردیکھا جائے تو یہ تعداد ۶۰۰؍ ملین ہے۔

پبلک وائی فائی کے اس خیال کاجنم نندن نلیکانی کے ایک ای میل میں اپریل ۲۰۱۶ء میں ہوا تھا ۔انہوں نے لکھا تھا کہ  ہرصارف کو خواہ وہ جہاں بھی جائے ، ایک کلک پر وائی فائی دستیاب ہونا چاہئے(یہ اس طرح ہونا چاہئےجس طرح اوبر ہاٹ اسپاٹ کام کرتا ہے)اور جس کے پاس اضافی کنکشن ہووہ اپنے حصہ میں سے کچھ وہاںسے گزرنے والےکسی دوسرے شخص کوفروخت بھی کرسکے۔ٹیلی کام ریگولیٹری اتھاریٹی آف انڈیا (ٹرائی )میں ہم نے یہی سسٹم قائم کیا ۔یہاںآن لائن سہولت کا ہم نے ایسا نظام قائم کیا ہےجس کاکوئی مرکزی نگراں نہیںہے۔یہاںہر کوئی اپنا ہاٹ اسپاٹ قائم کرسکتا ہے،پھرایک ایپ ایک قریبی صارف کو تلا ش کرتا ہے، اس کی توثیق(ویریفائی) کرتا ہے ، اس کے والٹ سے کچھ پیسے لیتا ہے اوراسے ہر پرووائیڈر سےبلا رکاٹ جوڑ دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: بہار میں ایک اور نئے گھوٹالے کا انکشاف!

ہم نے ریٹیل آؤٹ لیٹ کو پبلک ڈیٹا آفس (پی ڈی او)کا نام دیا جو ہمیںپی سی او کی یاد دلاتا رہا۔ پی سی او یعنی پبلک کال آفس جس میںایک ٹیلی فون ہوا کرتا تھا اوراس تک ہر خاص وعام کی رسائی تھی ۔یہ ہر گھر کے قریب تھا اورجسے بھی کہیںفون کرنا ہووہ پی سی او میںآکر فون کرسکتا تھا۔ انٹرنیٹ کی دنیا میں ’پی ڈی او‘،دراصل پی سی اوکا نیاجنم ہے۔ اس کے ذریعے کوئی بھی دکاندار ،حتیٰ کہ چائے والا بھی ایک روپے میں کنکٹی ویٹی فروخت کرسکتا ہے۔

ٹرائی نے اس سلسلے میں ایک پالیسی دستاویز ۲۰۱۶ءمیںجاری کی تھی اور مارچ ۲۰۱۷ء میںباضابطہ سفارشات پیش کی تھیں اور ۶۰۰؍ ہاٹ اسپاٹ چلانے والےکچھ ۸؍ ا داروں کے ساتھ اس کا تجربہ بھی کیاتھا ۔جون  ۲۰۱۸ء میںوزیر اعظم کے  سامنے بھی یہ پورا پروجیکٹ پیش کیا گیا اورانہوں نےذاتی طورپر اس میں کافی دلچسپی کا مظاہرہ کیا ۔وہ چاہتے تھےکہ کچھ ہی ہفتوں میںاس کا آغازکردیا جائے ۔بہر حال اس کے بعد اس پر کام نہیںہوسکا  اور دسمبر۲۰۲۰ء  میںاسے مرکزی کابینہ سے منظوری ملی اوراس پروجیکٹ کو ’پی ایم وانی ‘(پرائم منسٹرز وائی فائی ایکسس نیٹ ورک انٹر فیس)کا نام دیا گیا ۔اس کے بعد پانچ سال گزر گئے مگراس تعلق سے کیا گیا وعدہ نبھایا نہیںگیا۔

اس کے علاوہ حکومت کی جانب سےموجودہ ٹیلی کام آپریٹروں کے تئیں جو نرمی کا مظاہرہ کیاجاتا ہے اس کے سبب کنکٹی ویٹی بیچنے والے چھوٹے کاروباریوں کے زیادہ امکانات باقی نہیںرہتے کیونکہ حکومت نہیںچاہتی کہ یہ مارکیٹ  بڑے ٹیلی کام آپریٹروں کے کنٹرول سے باہر چلا جائے ۔

ایک بہت عام اعتراض یہ بھی کیاجاتا ہےکہ اب موبائل ڈیٹا اتنا سستا  ہوچکا ہےکہ کسی کو بھی وائی فائی کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ بات قابل فہم ہےمگردرست نہیں ہے۔ ڈیٹا اب چند سو روپے کے مقررہ ماہانہ منصوبوں کے بنڈل میں آتا ہے، جسے غریب ترین فرد ہمیشہ برداشت نہیں کر سکتا، اور  ایک آن لائن کلاس میں شامل ہونے والے طالب علم کیلئےبھی اکثرڈیٹا پلان زیادہ سود مند ثابت نہیں  ہوتااور اس صورت میںاوربھی مسئلہ ہوجاتا ہے جب گھر کے کسی فردکا ڈیٹاپلان کسی اور کے موبائل میں ہو۔اس کے علاوہ ایک اسٹرٹیجک معاملہ بھی ہے۔ پبلک وائی فائی بغیر لائسنس کےا سپیکٹرم پر چلتا ہے جس سے بھیڑبھاڑ والے موبائل نیٹ ورکس  کیلئے استعمال ہونے وا لا اسپیکٹرم  بچتا ہےجسے نیلامی کے ذریعے خریدنا نیٹ ورک آپریٹروںکیلئے مہنگا ثابت ہوتا ہے ۔ پھر ہوتا  یہ ہےکہ اسے دوسے تین موبائل کمپنیاں ہی خریدپاتی ہیں۔ یہ ایسا ہےکہ ایک  ارب سے زیادہ لوگوں مواصلاتی نظام کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہنے کیلئےچنندہ کمپنیوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیاجائے۔اسے ایسا بنا کر پیش کیاجارہا ہےکہ  ایک گھنا، کھلا اور آزاد وائی فائی  سسٹم شہریوں کو فراہم کرنا  ملک کی ڈیجیٹل زندگی کو خطرے میںڈالنے کے مترادف ہے اور تجارتی مفاد رکھنے وا لی کوئی بھی کمپنی اس سسٹم کو ا پنانا نہیںچاہے گی۔ 

یہ بھی پڑھئے: تشویشناک مسائل اور اُمید افزا جمہوری ردعمل

اس تاخیر پر برہمی اس لئے بھی ہوتی ہےکہ وسائل کے طور پر حکومت کے پاس ایک کھوئی ہوئی چیز اب بھی زیر زمین چھپی ہوئی ہے۔ملک کی ۲ء۵؍ لاکھ گرام پنچایتوں میںآپٹیکل فائبر بچھانے کیلئے۲۰۱۱ء میں’بھارت نیٹ‘ کی شروعات کی گئی تھی ۔اس پراب تک ۴۸؍ہزار کروڑ سے زیادہ خرچ ہوچکا ہے۔یہ آدھار پر ہونے  والےخرچ سے۵؍ گنا زیادہ ہے اور ابھی  یہ ۲؍ لاکھ گرام پنچایتوں تک ہی پہنچ سکاہے۔ اس کے باوجود  اس کا حاصل کچھ بھی نہیں ہے کیونکہ ریٹیل ڈسٹری بیوشن کے بغیر  یہ پورا سسٹم ایک ایسے پائپ کی مانند ہے جس میں کوئی نل نہیں ہے۔ یہاں تک کہ بھارت نیٹ میں پوری سرمایہ کاری جھونک دینے کے بعد بھی اس بات کی ضمانت نہیں ہےکہ اس کے ذریعے آپٹیکل فائبر کے سسٹم کو  وسیع پہاڑی اور جنگلاتی خطوں میںپہنچایاجاسکے ۔ یہی وہ خلا ہے جہاں ا سٹار لنک اور دیگر سیٹیلائٹ براڈ بینڈ کمپنیوں کو  اپنا مارکیٹ نظر آتا ہے۔ ریلائنس جیو بھی ممکنہ طور پرنیٹ ورک لے سکتا ہے، اس کے کلیئرنس پر اب تک کام چل رہا ہے۔ 

بھارت نیٹ اور پی ایم وانی پروجیکٹ دونوںایکدوسرے کیلئے معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔بھارٹ نیٹ کے ذریعے چھوٹے  ’پی ڈی او‘  حاملین کوبینڈ وتھ فروخت کئے جاسکتے ہیں۔اس میںکچھ نئی مداخلت کی ضرورت نہیں ہے بلکہ چیزوں کو منظم کرنے کی ضرور ت ہے۔حکومت اگر صارف پہلے(کنزیومر فرسٹ) کے اصول پر عمل کرے توہررکاوٹ دور کی جاسکتی ہے۔

(مضمون نگار ٹرائی کے سابق چیئر مین اور حکومت ہند کے سابق سیکریٹری ہیں)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK