• Mon, 02 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بہار قانون ساز کونسل انتخابات کے نتائج کا پیغام

Updated: November 02, 2026, 4:45 PM IST | Professor Mushtaq Ahmed | Mumbai

ان نتائج میں حکمراں اتحاد کو بعض حلقوں میں نقصان اٹھانا پڑا ہے، جبکہ حزب اختلاف، جن سوراج اور آزاد امیدواروں نے بھی اپنی موجودگی کا احساس دلایا ہے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

بہار قانون ساز کونسل کی آٹھ نشستوں کیلئے ہوئے حالیہ انتخابات کے نتائج نے ریاست کی سیاسی فضا میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ چار اساتذہ حلقوں اور چار گریجویٹ حلقوں کے نتائج کو محض آٹھ نمائندوں کے انتخاب تک محدود کرکے نہیں دیکھا جاسکتا بلکہ ان کے اندر بہار کی سیاست کے کئی ایسے پہلو پوشیدہ ہیں جو عام انتخابات کے نتائج سے قدرے مختلف سیاسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ان نتائج میں حکمراں اتحاد کو بعض حلقوں میں نقصان اٹھانا پڑا ہے، جبکہ حزب اختلاف، جن سوراج اور آزاد امیدواروں نے بھی اپنی موجودگی کا احساس دلایا ہے۔ اس صورتحال کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ ان انتخابات میں ووٹروں کا ایک مخصوص، تعلیم یافتہ اور پیشہ ورانہ شناخت رکھنے والا طبقہ فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے۔

واضح ہو کہ اساتذہ حلقوں کی چار نشستوں میں پٹنہ سے سنجیو کمار (آر جے ڈی)، ترہت سے نریندر پرساد سنگھ (بی جے پی)، دربھنگہ سے سوریس رائے (جن سوراج) اور چھپرہ، یعنی سارن سے راہل راج (آزاد امیدوار) کی کامیابی نے یہ ثابت کیا ہے کہ اس انتخاب میں کسی ایک سیاسی جماعت یا اتحاد کی مکمل بالادستی قائم نہیں ہوسکی۔ چار مختلف سیاسی شناختوں سے وابستہ امیدواروں کی کامیابی اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ اساتذہ ووٹروں نے اپنے اپنے حلقوں میں مختلف ترجیحات کو اہمیت دی۔ دوسری طرف گریجویٹ حلقوں میں پٹنہ سے نیرج کمار (جے ڈی یو)، ترہت سے بنشی دھر برجواسی (آزاد امیدوار)، کوسی سے این کے یادو (بی جے پی) اور دربھنگہ سے انیل کمار جھا  (آر جے ڈی) کی کامیابی سامنے آئی ہے۔ ان نتائج میں بی جے پی نے ایک نشست پر کامیابی حاصل کی، جبکہ جے ڈی یو اور ایک آزاد امیدوار بھی کامیاب ہوئے۔ اگر دونوں زمروں کی آٹھ نشستوں کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو بی جے پی کے حصے میں دو نشستیں، آر جے ڈی کو دو اور جے ڈی یو کے حصے میں ایک نشست، جن سوراج کے حصے میں ایک نشست اور آزاد امیدواروں کے حصے میں دو نشستیں آئی ہیں۔ اس تقسیم سے واضح ہوتا ہے کہ حکمراں اتحاد کی نمائندگی موجود ہونے کے باوجود انتخابی میدان میں اسے یکساں کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ بالخصوص اساتذہ حلقوں میں مختلف سیاسی قوتوں اور آزاد امیدواروں کی کامیابی اس بات کا اشارہ ہے کہ ان حلقوں کے ووٹروں کو کسی ایک جماعت کے روایتی سیاسی اثر و رسوخ کے تحت سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ قانون ساز کونسل کے ان حلقوں میں امیدوار کی انفرادی حیثیت اور سیاسی حمایت ایک دوسرے کے ساتھ کام کرتی ہیں۔ اس لئے نتائج کا تجزیہ کرتے ہوئے امیدوار کی جماعتی وابستگی، اس کی ذاتی مقبولیت اور مقامی تنظیم کی قوت، تینوں کو الگ الگ سمجھنا چاہئے۔

یہ بھی پڑھئے: جمہوری ہونے کا دعویٰ اور جمہوری تقاضوں کی عدم تکمیل

ان انتخابات کا سب سے نمایاں پہلو اساتذہ حلقوں کے چاروں موجودہ ارکان کی شکست ہے۔ پٹنہ میں بی جے پی کے سینئر لیڈر نول کشور یادو کو آر جے ڈی کے سنجیو کمار نے شکست دی۔ دربھنگہ میں کانگریس کے سابق ریاستی صدر اور موجودہ رکن مدن موہن جھا کو جن سوراج کے سوریس پرساد رائے نے ہرا دیا۔ ترہت میں بی جے پی کے نریندر پرساد سنگھ کامیاب ہوئے، جبکہ سارن میں آزاد امیدوار راہل راج نے کامیابی حاصل کی۔ ان نتائج میں ایک واضح پیغام موجود ہے، اساتذہ حلقوں کے ووٹر محض جماعتی وابستگی کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کیلئے تیار نہیں ہوئے۔ خاص طور پر پٹنہ کی نشست پر نول کشور یادو کی شکست اہم ہے، کیونکہ وہ تیس برسوں سے اس حلقے کی نمائندگی کررہے تھے۔ اس شکست کو محض ایک امیدوار کی ناکامی سمجھنا کافی نہیں ہوگا،یہ اس بات کا اشارہ بھی ہے کہ کسی حلقے میں طویل سیاسی موجودگی ہمیشہ انتخابی کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتی۔ دربھنگہ اساتذہ حلقے سے سوریس پرساد رائے کی کامیابی جن سوراج کیلئے خاص اہمیت رکھتی ہے۔ اس کامیابی کے ساتھ پرشانت کشور کی جماعت کو بہار قانون ساز کونسل میں پہلی نمائندگی حاصل ہوئی۔ یہ کامیابی اس لئے بھی قابلِ توجہ ہے کہ بہار کی سیاست میں نئی  جماعتوں کیلئے اپنی جگہ بنانا آسان نہیں ہوتا۔ یہاں برسوں سے قائم جماعتی ڈھانچے، ذات پات کے سماجی روابط، مقامی اثرورسوخ اور انتخابی وسائل اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ سارن کے اساتذہ حلقے سے راہل راج اور ترہت گریجویٹ حلقے سے بنشی دھر برجواسی کی آزاد امیدوار کی حیثیت سے کامیابی بھی اسی تناظر میں اہم ہے۔ ان کامیابیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امیدوار کی ذاتی ساکھ اور حلقے میں اس کی قبولیت جماعتی وابستگی سے زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔ ان انتخابات میں جماعتی امیدوار بھی کامیاب ہوئے ہیں اور حکمراں اتحاد نے مجموعی طور پر اپنی نمائندگی برقرار رکھی ۔اس سوال کا جواب دینے کیلئے انتخابی نتائج کو دو سطحوں پر دیکھنا ہوگا۔ پہلی سطح انفرادی نشستوں پر شکست اور کامیابی کی ہے، جبکہ دوسری سطح مجموعی سیاسی طاقت کی ہے۔ اساتذہ حلقوں میں بی جے پی کو پٹنہ کی اہم نشست پر شکست کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ دربھنگہ میں کانگریس اور سارن میں حکمراں اتحاد کے امیدوار کامیاب نہیں ہوسکے۔ دوسری جانب ترہت اساتذہ، پٹنہ گریجویٹ اور دربھنگہ گریجویٹ حلقوں میں این ڈی اے امیدوار کی ناکامی بھی ان کیلئے باعث ِ فکر مندی ہے۔ اس کے برعکس گریجویٹ حلقوں میں حکمراں اتحاد کی کارکردگی نسبتاً بہتر رہی۔

بہار قانون ساز کونسل کی آٹھ نشستوں کے نتائج نے یہ ثابت کیا ہے کہ انتخابی سیاست میں کسی جماعت کی طاقت صرف اس کے انتخابی نشان یا حکومت میں اس کی موجودگی سے طے نہیں ہوتی۔ اساتذہ حلقوں میں چاروں موجودہ ارکان کی شکست، دربھنگہ میں جن سوراج کی کامیابی اور دو آزاد امیدواروں کا انتخابی میدان میں کامیاب ہونا اس بات کی علامت ہے کہ مخصوص ووٹر طبقوں میں تبدیلی کی گنجائش موجود ہے۔ دوسری طرف گریجویٹ حلقوں میں این ڈی اے کی کامیابی یہ بھی بتاتی ہے کہ حکمراں اتحاد کی سیاسی بنیاد پوری طرح کمزور نہیں ہوئی ہے۔ اس لئے ان انتخابات کا اصل پیغام نہ تو کسی ایک جماعت کی مکمل فتح ہے اور نہ ہی کسی دوسری جماعت کی مکمل شکست۔ اصل پیغام یہ ہے کہ بہار کی سیاست میں ووٹر کی ترجیحات یکساں نہیں ہیں اور مختلف انتخابی حلقوں میں مختلف عوامل فیصلہ کن بن سکتے ہیں۔ بیلٹ پیپر اور ترجیحاتی ووٹوں کے نظام نے ان ترجیحات کو ظاہر کرنے کا ایک الگ طریقہ فراہم کیا ہے، لیکن اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ووٹر نے اپنے نمائندوں کے انتخاب میں اپنی پسند اور ناپسند کا اظہار کیا۔ جمہوریت کی مضبوطی اسی میں ہے کہ سیاسی جماعتیں ان نتائج کو محض نشستوں کے حساب کتاب تک محدود نہ رکھیں، بلکہ انہیں عوامی اعتماد، نمائندگی کی ذمہ داری اور سیاسی احتساب کے تناظر میں دیکھیں۔ آخرکار انتخابات کا اصل مقصد صرف اقتدار حاصل کرنا نہیں، بلکہ عوام کے اعتماد پر پورا اترنا ہے۔ بہار کے ان نتائج کا سب سے اہم سبق بھی یہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK