• Mon, 12 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

نیہا: بے باک لہجہ، بے خوف چہرہ

Updated: October 12, 2026, 4:24 PM IST | Mumbai

نیہا بورا کی شکل میں ملک کی سول سوسائٹی اور قومی سیاست کو ایک ایسی شخصیت میسر آئی ہے جس نے بہت کم وقت میں اپنی ذہانت، خطابت، جرأت اور شجاعت کو منوا لیا ہے۔

AISA President Neha Bora. Photo: INN
آئیسا کی صدر نیہا بورا۔ تصویر: آئی این این

نیہا بورا کی شکل میں ملک کی سول سوسائٹی اور قومی سیاست کو ایک ایسی شخصیت میسر آئی ہے جس نے بہت کم وقت میں اپنی ذہانت، خطابت، جرأت اور شجاعت کو منوا لیا ہے۔ جنتر منتر پر کاکروچوں کے جون جولائی کے آندولن کے دوران ۲۳؍ دن کی بھوک ہڑتال کے ذریعہ غالباً پہلی مرتبہ وہ اس طرح منظر عام پر آئیں کہ ہر خاص و عام نے جان لیا کہ کون ہے نیہا بورا۔ بیک وقت کئی امتیازی خوبیوں کا مالک ہونا شخصیت کو پرکشش بناتا ہے۔ اور جب ان خوبیوں کو کسی مقصد کو پانے کیلئے بروئے کار لایا جاتا ہے تو شخصیت کو شہرت سے زیادہ مقبولیت حاصل ہوتی ہے۔ فی الحال جے این یو میں پی ایچ ڈی کی یہ طالبہ اسی راہ پر ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: یہ خوش آئند ہے!

نیہا اُس نسل کی نمائندگی کا فرض ادا کررہی ہیں جو باخبر اور بے باک ہے، شفاف اور واضح خیالات کی حامل ہے اور جس نے بہت کم وقت میں پیش رو نسل کی اُس بدگمانی کو بڑی حد تک دور کر دیا جو نئی نسل کے تعلق سے لاحق تھی۔ نیہا اگر سی پی آئی کی طلبہ تنظیم آئیسا کی قومی صدر منتخب ہوئی ہیں تو بلاشبہ بڑی بات ہے مگر موجودہ حالات میں وہ خود کو ایک سیاسی جماعت کی طلبہ تنظیم کی سربراہ سے زیادہ ثابت کررہی ہیں۔ سوشل میڈیا پر ان کی تقریروں کی ویڈیو اور شارٹس کے ناظرین و سامعین کی بڑی تعداد ہے۔ سی پی آئی کے سینئر، بزرگ لیڈروں اور موجودہ عہدیداروں، مثلاً دیپانکر بھٹاچاریہ، کی خدمات کے اعتراف و احترام کے باوجود یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اس قدر سرخیوں میں آنے کا موقع ان لیڈروں کو بھی نہیں ملا جتنا نیہا کو مل رہا ہے اور یہ اتفاق نہیں ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: اپوزیشن کی بن آئی ہے!

کوئی نہیں کہہ سکتا کہ ۲۳؍ دن کی بھوک ہڑتال کی وجہ سے نیہا لائم لائٹ میں آگئیں۔ اس میں شک نہیں کہ وسیع تر عوامی حلقوں تک ان کا تعارف جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کے آندولن کے سبب ہوا مگر یہ کوئی ٹرافی نہیں تھی جو تالیوں کی گونج میں ملتی ہے اور جسے گھر لے جا کر شیشے کی الماری میں سجا دیا جاتا ہے۔ جنتر منتر کا موقع، موقع سے زیادہ چیلنج تھا۔ وہاں روزانہ ہزاروں طلبہ اور نوجوان پہنچتے تھے۔ موقع سب کے پاس تھا۔ بھوک ہڑتال کیلئے بھی کوئی قید نہیں تھی کہ چھ آٹھ لوگ ہی بھوک ہڑتال کرینگے۔ اس کیلئے نیٹ جیسا امتحان بھی پاس نہیں کرنا تھا۔ جنتر منتر بہتا پانی تھا۔ کسی نے چلو ّ بھر لیا تو کسی نے گھڑا، کم ہی لوگ تھے جو اس میں اتر گئے اور ان سے بھی کم تھے جنہوں نے بہاؤ کی مخالف سمت کا انتخاب کیا اور یہ اعلان کرتے ہوئے بھنور سے لپٹ گئے کہ ہمیں ساحل کی تمنا نہیں، ہم طوفان سے ٹکرانے کیلئے ہیں۔ نیہا نے جنتر منتر سے ملنے والے موقع کو چیلنج کے طور پر قبول کیا اور جون جولائی کا آندولن ختم ہونے کے بعد ’’رائزنگ جین زی‘‘ کے تحت طلبہ کے مسائل کو سننے، سمجھنے اور متاثرہ طلبہ کو حوصلہ دینے کیلئے شہر بہ شہر دوڑتی رہیں ۔ اب ایس آئی آر کے خلاف لڑ رہی ہیں۔ اس تحریک میں وہ تنہا نہیں ہیں مگر مقصد کو پانے کی دھن اور لڑنے کی صلاحیت اُنہیں ممتاز کرتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK