کانگریس کی اس جدوجہد کے اثرات واضح طور پر دکھائی دے رہے ہیں۔ایک طرف جہاں کانگریس کے لیڈران متحد اور پُرجوش ہو رہے ہیں، وہیں ان کے لیڈران کے تئیں عوام کا اعتماد بھی بحال ہورہا ہے۔ وہ راہل ، پرینکا اور دیگر لیڈروں کو ایک ہیرو کے طور پر دیکھ رہے ہیں اور اپنے مسائل کے ساتھ ان کے پاس پہنچ رہے ہیں۔ ملک میں انتخابی نظام درست ہوجائے تو یقیناً اس کے اثرات انتخابی نتائج پر بھی پڑیں گے۔
کانگریس اب ڈرائنگ روم کی پارٹی نہیں رہی، اس کے لیڈران اب سڑکوں پر اُتر کر جواب مانگ رہے ہیں۔ تصویر: آئی این این
گزشتہ ۸۰؍ برسوں کی ملک کی آزادی کی تاریخ میں تقریباً ۶۰؍ سال تک کانگریس ہی کی حکمرانی رہی ہے اور اس عرصے میں بھی زیادہ تر اس نے ملک پر تنہا حکومت کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کانگریس کے لیڈروں نے سڑکوں پر اُترنے اور عوام کیلئے حکومت سے لڑنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ درمیان میں ایک دو بار غیر کانگریسی حکومتیں آئیں بھی تو کچھ ہی سال میں عوام ان سے نالاں ہوگئے اور انہیں اقتدار سے بے دخل کرکے اقتدار پھر کانگریس کو سونپ دیا۔
۱۹۷۵ء میں ایمرجنسی کے بعد ۱۹۷۷ء میں نئی حکومت بنی لیکن وہ بمشکل دو سال چل سکی۔۱۹۸۹ء میں غیر کانگریسی سرکار بنی مگر اس بار ڈیڑھ سال میںپھر سے انتخابات کی نوبت آگئی اور اس طرح ایک بار پھر ملک میں کانگریس کی حکومت بن گئی۔ ۱۹۹۶ء سے ۱۹۹۹ء تک کئی حکومتیں تشکیل پائیں اور بکھریں اور پھر بی جے پی کی قیادت میں این ڈی اے کی حکومت بنی جو ۲۰۰۴ء تک چلی۔ اس کے بعد ایک بار پھر ملک پر ۱۰؍ سال تک کانگریس کی قیادت میں حکومت رہی۔ ۲۰۱۴ء میں ملک پر بی جے پی کی حکومت آئی اور پھر کچھ اس طرح سے ملک پر قابض ہوئی کہ وہ ’ناقابل تسخیر‘ ہوگئی۔ ملک کے موجودہ حالات کو سمجھنے میں کانگریس نے ۱۰؍ سال سے زائد کا عرصہ لگا دیا۔ اس کے بعد ہی اس نے سڑکوں پر اترنا اور عوام کیلئے حکومت سے لڑنے کا ذہن بنایا اور اب راہل گاندھی کی قیادت میں وہ حکومت کو ہر مسئلے پر آئینہ دکھانے کا کام کررہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: حکومت کچھ تو بتائے، کچھ تو اشارہ دے کہ وہ چاہتی کیا ہے، آخر ایسی بھی کیا آمریت؟
اس کے ساتھ ہی کانگریس اپنے اندر کچھ اور اچھی تبدیلیاں لائی ہیں۔ ایک وقت تھا جب اس کا مزاج بھی ملک کی موجودہ حکومت کی طرح آمرانہ تھا۔ ملک کے عوا می اور اہل لیڈروں کو نظر انداز کرکے وہ خوشامد پسند لیڈروں کو یا پھر ربر اسٹمپ قبیل کے لیڈروں کو اہم عہدے دیا کرتی تھی۔ بعد کے برسوں میں فیصلوں میں تاخیر بھی اس کی ایک خاص پہچان بن گئی تھی۔لیکن اب اس میں بھی بہتری آئی ہے۔ ایک جانب جہاں ملکارجن کھرگے اور راہل گاندھی بروقت فیصلے کررہے ہیں، وہیں لیڈروں سے بات چیت بھی کرتے ہیں، ملاقاتیں کرتے ہیں اور ان کی باتیں سنتے ہیں۔اس کی بہترین مثال کیرالا میں وزیراعلیٰ کاانتخاب، کرناٹک میں قیادت کی تبدیلی، پنجاب میں بروقت سچن پائلٹ کی تعیناتی، امریندر سنگھ راجہ وڈنگ کا استعفیٰ اورمہاراشٹر کانگریس کے راہل بوندرے نامی ایک سابق ایم ایل اے کو دیر رات فون کرکے انہیں منانے کی کوشش ہیں۔
کل تک یہ کانگریس کے مزاج میں شامل نہیں تھا۔ اس کی دو اہم وجوہات تھیں۔ اول یہ کہ بی جے پی کے پروپیگنڈے سے کانگریس کے کچھ سینئر لیڈر بھی متاثر تھے، اسلئے وہ راہل گاندھی کی باتوں کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے تھے اور دوسری بات بی جے پی کا عروج تھا، اسلئے وہ تمام لوگ جو لالچی تھے یا جن کا نظریاتی جھکاؤ آر ایس ایس کی جانب تھا، وہ بی جے پی کے ساتھ چلے گئے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو اس بات کی امید کی جاسکتی تھی کہ آج راجستھان اور مدھیہ پردیش بھی کانگریس کی جھولی میں ہوتا لیکن راجستھان میں اشوک گہلوت اور مدھیہ پردیش میں کمل ناتھ کی من مانی اور ذاتی مفاد کی وجہ سے کانگریس کو شدید نقصان پہنچا۔
یہ بھی پڑھئے: قاری نامہ: دہلی پولیس کی مظاہرین پر سختی کو آپ کیسے دیکھتے ہیں؟
لیکن اب کانگریس کچھ بدلی بدلی سی لگ رہی ہے۔ اس کے لیڈروں میں جدوجہد کا جذبہ پروان چڑھ رہا ہے۔ملکارجن کھرگے، راہل گاندھی، پرینکا گاندھی، جے رام رمیش، پون کھیڑا،وینوگوپال، سچن پائلٹ، گورو گوگوئی، سپریہ شرینیت اور پپو یادو جیسے لیڈران بی جے پی لیڈروں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سڑکوں پر اُتر کر جواب دے رہے ہیں۔اسی کے ساتھ یوتھ ونگ اور این ایس یو آئی بھی سرگرم ہے۔ اس کی وجہ راہل گاندھی کا خود پرجوش ہونا ہے۔ ’بھارت جوڑو یاترا‘ کے بعد انہوں نے خود کو یکسر تبدیل کرلیا ہے۔ بی جے پی نے ان کی جو شبیہ بنائی تھی، وہ پوری طرح سے ختم ہوچکی ہے۔ گزشتہ دنوں پیپر لیک کے موضوع پرانہیں وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے باہر سے زبردستی ہٹایا گیا ہو، جس میں وہ خود زخمی ہوگئے تھے، پیلٹ گن سے زخمی ایک طالب علم کیلئے ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کرنے کی خاطر دہلی کے پولیس اسٹیشن میں ان کا ۷؍ گھنٹے کا دھرنا، طلبہ کیلئے ان کا مشہورپروگرام ’چھاتروں کی گونج‘،ان کی حالیہ ’ستیہ گرہ‘ مہم جس میں انہوں نے لوگوں سے اپنی کہانیاں ان کے ساتھ شیئر کرنے کیلئے کہا ہے اور پھر ’ووٹ چوری‘ کے موضوع پر گزشتہ چار دنوں سے پرینکا کےساتھ ان کی سڑکوں پر موجودگی انہیں پہلے سے کچھ مختلف بنا تی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بی جے پی جن چیزوں کیلئے راہل گاندھی کا مذاق اڑاتی تھی، اب وہی نئی نسل کیلئے پسندیدہ چیزیں بن گئی ہیں اور اس کی وجہ سے انہیں جین زی کی بھرپور حمایت مل رہی ہے۔ وہ خواہ ان کی ڈریسنگ اسٹائل اور ان کے کپڑے ہوں، ان کا انداز گفتگو ہو، اینگری ینگ مین والی ان کی سیاست ہو یا پھر پالتو جانوروں کیلئے ان کی محبت... نئی نسل اسے خوب پسند کررہی ہے اور انسٹاگرام اور یوٹیوب پر اس کی زبردست پزیرائی ہورہی ہے۔ الہ آباد میں منعقدہ ’چھاتروں کی گونج‘ میں ان کے گلابی شرٹ کو خوب شہرت ملی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: اُردو: آئیے ! اپنے حصّے کی کوئی شمع جلاتے جائیں
کانگریس کی اس جدوجہد کے اثرات ملک کی سیاست اور سماج پر واضح طور پر دکھائی دے رہے ہیں۔ اس کی وجہ سے ایک طرف جہاں کانگریس کے لیڈران متحد اور پُرجوش ہورہے ہیں، وہیں اُن کے لیڈران کے تئیں عوام کا اعتماد بھی بحال ہورہا ہے۔ وہ راہل ، پرینکا اور دیگر لیڈروں کو ایک ہیرو کے طور پر دیکھ رہے ہیں اور اپنے مسائل کے ساتھ ان کے پاس پہنچ رہے ہیں۔ ان کے ساتھ یکجہتی کےاظہار کیلئے عوام بھی سڑکوں پر اُتر رہے ہیں۔ ٹرینوں، بسوں،چوراہوںاور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اُن کے حوالے سےگفتگو کر رہے ہیں اور ان کی سراہنا کررہے ہیں۔ ملک میں انتخابی نظام درست ہوجائے تو یقیناً اس کے اثرات انتخابی نتائج پر بھی پڑیں گے۔