• Sat, 10 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

یہ خوش آئند ہے!

Updated: October 10, 2026, 5:22 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

کیا کانگریس پارٹی اور کاکروچ جنتا پارٹی میں رسہ کشی چل رہی ہے؟ کیا دونوں میں ووٹ چوری کے خلاف کامیاب مہم چلانے کی مقابلہ آرائی جا رہی ہے؟ ایسا لگتا تو ہے مگر نہیں بھی لگتا یعنی ایسی کوئی بات قطعیت کے ساتھ نہیں کہی جاسکتی البتہ بعض حلقے یہ سمجھانے کی کوشش میں ہیں کہ دونوں میں کریڈٹ لینے کا چکر چل رہا ہے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

کیا کانگریس پارٹی اور کاکروچ جنتا پارٹی میں رسہ کشی چل رہی ہے؟ کیا دونوں میں ووٹ چوری کے خلاف کامیاب مہم چلانے کی مقابلہ آرائی جا رہی ہے؟ ایسا لگتا تو ہے مگر نہیں بھی لگتا یعنی ایسی کوئی بات قطعیت کے ساتھ نہیں کہی جاسکتی البتہ بعض حلقے یہ سمجھانے کی کوشش میں ہیں کہ دونوں میں کریڈٹ لینے کا چکر چل رہا ہے۔ ہمارے خیال میں ایسا ہوتا تو جولائی میں جنتر منتر پر سی جے پی کے آندولن میں کانگریس کے لیڈران نہ جاتے۔ آج جو مظاہرہ دہلی میں ہونے جا رہا ہے اس میں بھی کانگریس کی یوتھ ونگ کے لیڈران اور کارکنان موجود رہیں گے۔ اس سے ظاہر ہے کہ ایسی کوئی مقابلہ آرائی نہیں ہے مگر اس کا شبہ نہ ہوتا ہو ایسا بھی نہیں ہے۔ کانگریس نے گزشتہ دنوں (منگل بدھ اور جمعرات کو) اپنی مہم میں جتنی شدت پیدا کی اس کی ایک وجہ ۱۰؍ اکتوبر کے سی جے پی آندولن سے پہلے اپنے احتجاج کا نقش قائم کرنا ہو سکتی ہے۔ جو بھی ہو، ملک اور عوام کے اتنے بڑے مسئلے (انتخابی فہرستوں سے ناموں کا اخراج) کے سامنے کریڈٹ لینے کی کوشش بہت چھوٹی بات ہوگی۔ مقصد بلند ہو تو یہ نہیں دیکھا جاتا کہ کس نے کیا کیا۔ جدوجہد آزادی کے دور میں پورے ملک میں جگہ جگہ اور شہر در شہر احتجاج اور مظاہرے جاری رہتے تھے مگرکوئی کسی پر سبقت لے جانا چاہتا ہو اس کا سراغ تاریخ کے صفحات میں نہیں ملتا۔ موجودہ جدوجہد کو بھی نام و نمود سے پاک رکھنا ہر خاص و عام کی ذمہ داری ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ناول کے صفحات پہ اُبھری کس کی دُنیا، کون ہے یہ!

اچھی بات یہ ہے کہ جدوجہد میں شامل پارٹیوں اور تنظیموں کی اعلیٰ قیادت نے کبھی اس پر توجہ نہیں دی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ خود سی جے پی کے لیڈران یہ محسوس کرتے ہوں گے اور وقت آیا تو اعتراف بھی کریں گے کہ سب سے پہلے راہل گاندھی نے آواز اُٹھائی تھی اور شواہد کے ساتھ ووٹ چوری کا راز فاش کیا تھا۔ اس سے انکار ممکن نہیں۔ مگر اس کی ضرورت کیا ہے۔ یہ سب کی لڑائی ہے۔ جو لڑ رہا ہے اس کی بھی ہے اور جو نہیں لڑ رہا ہے اُس کی بھی ہے کیونکہ جمہوریت قائم و دائم رہے گی تو پارٹیاں رہیں گی اور الیکشن ہوں گے اور حکومتیں بنیں گی۔ اگر جمہوریت کمزور ہوئی تو باقی ہی کیا رہ جائیگا۔ اس لئے نہ تو کسی کے دل میں مسابقت کا خیال آنا چاہئے نہ ہی مقابلہ آرائی کا جذبہ پیدا ہونا چاہئے۔ اس مہم میں انڈیا اتحاد کا مل جل کر شریک ہونا اہمیت کا حامل ہے۔ طلبہ تنظیموں کا متحد ہوکر مظاہرے کرنا بھی اہمیت کا حامل ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ گیانیش کمار کا استعفےٰ ہوگا یا نہیں ہوگا، ہم نہیں جانتے کہ ایس آئی آر ختم ہوگا یا نہیں ہوگا مگر ہم اتنا ضرور جانتے ہیں کیونکہ دیکھ رہے ہیں کہ اس کی وجہ سے لوگ قریب آرہے ہیں، فاصلے مٹ رہے ہیں، جمہوریت کا پیغام گھر گھر پہنچ رہا ہے اور عوام میں بیداری آرہی ہے۔ روز کنواں کھودنے اور روز پانی پینے والے کو بھی اپنے ووٹ کی فکر ستا رہی ہے۔ ہر ایک کو احساس ہے کہ جمہوری ملک میں جمہوریت کے ساتھ کیسا کھلواڑ جاری ہے۔ اب کوئی غافل نہیں، سب بیدار ہیں اور یہ خوش آئند ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK