کیا دہلی عمارت سانحہ سے کچھ سیکھا جائے گا؟ کیا یہ جاننے کی کوشش کی جائیگی کہ دہلی یونیورسٹی کے قریب طلبہ کو کرائے پر یا بحیثیت پی جی رہائش دینے والے کون ہیں اور کیا اس سانحے کے پس پشت اُن کی تجارتی ذہنیت کارفرما رہی؟
کیا دہلی عمارت سانحہ سے کچھ سیکھا جائے گا؟ کیا یہ جاننے کی کوشش کی جائیگی کہ دہلی یونیورسٹی کے قریب طلبہ کو کرائے پر یا بحیثیت پی جی رہائش دینے والے کون ہیں اور کیا اس سانحے کے پس پشت اُن کی تجارتی ذہنیت کارفرما رہی؟ کیا اُنہیں، کرائے اور اس میں لگاتار اضافے سے غرض ہے اور بلڈنگ کی حالت سے کوئی سروکار نہیں؟ منہدم شدہ عمارت ’’ستیہ نکیتن‘‘ کا مالک گرفتار کیا جاچکا ہے۔متوفین کی لاشیں اُن کے اعزا کو سونپ دی جائیں گی، ہوسکتا ہے معاوضہ بھی دے دیا جائے۔
یہ سب ہوگا کیونکہ ہر بار یہی ہوتا ہے مگر جو نہیں ہوتا وہ یہ ہے کہ سبق نہیں سیکھا جاتا۔ شہروں میں غیر قانونی عمارتوں کا جال پھیلتا رہتا ہے، عمارت قانونی ہے تو اس میں غیر قانونی حصہ تعمیر ہو جاتا ہے، عمارت خستہ ہوجانے کے باوجود اس میں رہائش جاری رہتی ہے، مخددش عمارتوں کو نوٹس دیا جاتا ہے مگر اُس کا فالو اَپ نہیں ہوتا، نوٹس کے باوجود عمارت خالی نہ کرنے والوں کو اعتماد میں نہیں لیا جاتا، عمارت کے اسٹرکچرل آڈٹ (ڈھانچہ جاتی معائنہ) کے بغیر بھی اندرونی تعمیرات جاری رہتی ہیں جیسا کہ ’’ستیہ نکیتن‘‘ میں ہورہا تھا ۔ یہ عمارت پچاس سال پرانی تھی، اس میں پانی جمع ہوگیا تھا، اس کے باوجود ’’زیر زمین‘‘ (کمروں کی؟) تعمیر جاری تھی۔
ایسے شہروں کو اُنگلیوں پر گنا جاسکتا ہے جہاں عمارتیں مضبوط ہیں، اُن کا ڈھانچہ جاتی معائنہ وقتاً فوقتاً کیا جاتا ہے، مرمت پر بھی توجہ دی جاتی ہے اور تمام عمارتیں قابل رہائش ہیں۔ ان چند شہروں کو چھوڑ کر باقی تمام شہروں اور اب تو قصبوں میں بھی جزوی یا مکمل غیر قانونی تعمیر عام ہے۔ منہدم شدہ عمارتوں کی تفصیل سامنے رکھئے تو چند اسباب مشترک ملتے ہیں مثلاً غیر قانونی توسیع، زیر زمین جگہ کا استعمال (Basement)، ڈھانچہ جاتی احتساب کی جانب سے لاپروائی، تعمیراتی ضابطوں سے چشم پوشی، رہائشی عمارت کا تجارتی مقاصد کیلئے استعمال، عمارت غیر محفوظ ظاہر ہونے کے باوجود خاندانوں کی رہائش کا جاری رہنا وغیرہ۔ دور نہ جائیں صرف تھانے اور ممبئی کا رُخ کریں تو پریشان کن تصویر اُبھرتی ہے۔
تھانے میں ساڑھے چار ہزار اور ممبئی میں ۱۴؍ ہزار عمارتوں کے آگے سوالیہ نشان لگا ہوا ہے۔ راستوں سے گزرتے وقت متعلقہ علاقوں کا جائزہ لیتے چلئے، یا تو عمارت زبانِ حال سے اپنی پریشانی بیان کرے گی یا اوپر بنے فلور دیکھ کر اندازہ ہوجائیگا کہ یہ بعد میں کی گئی توسیع ہے اور بڑی حد تک غیر قانونی ہے۔ممبئی میونسپل کارپوریشن ہر سال خستہ حال عمارتوں کو ’’سی۔۱‘‘ کیٹگری میں شامل کرتی ہے یعنی ان عمارتوں کو بلاتاخیر خالی کروانا اور منہدم کرنا ضروری ہے مگر ایسا بھی ہوتا ہے کہ اُن عمارتوں کے مکیں وہاں سے ہٹنے کو تیار نہیں ہوتے۔ ان مکینوں کو اعتماد میں لینے کیلئے متبادل مکان کی فراہمی سے بہتر ہے کہ اُنہیں خصوصی پیکیج دیا جائے۔ اس سے صورت حال بدل سکتی ہے۔ ممبئی میں بی ایم سی عمارتوں کو چار زمروں میں تقسیم کرتی ہے۔ سی وَن، سی ٹو اے، سی ٹو بی اور سی تھری۔ پہلے زمرے کی عمارتوں کو فوراً خالی کروا کر منہدم کرنا ہوتا ہے، سی ٹو اے میں خستہ حال حصوں کو منہدم کرنا ہوتا ہے، سی ٹو بی میں ڈھانچہ جاتی مرمت اور سی تھری میں معمولی مرمت درکار ہوتی ہے۔ کتنے لوگ جانتے ہیں اس کے بارے میں؟